پاکستان میں اقتصادی شمولیت کی مشکلات کے درمیان خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کا اظہار

اسلام آباد ویمن گالا 2024 میں گھریلو دستکار خواتین یکجا، خواتین کارکنان کی خدمات کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کاروباری اور گھریلو دستکار خواتین کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں دو روزہ رنگا رنگ اسلام آباد ویمن گالا 2024 میں شرکت کے لیے جمع ہوئی ہے جو آج اتوار کی شام کو اختتام پذیر ہونے والا ہے۔

عالمی یومِ نسواں کے ایک دن بعد شروع ہونے والے اس میلے کا اہتمام ان خواتین کارکنان کے اعزاز میں کیا جاتا ہے جنہیں اکثر اپنی پیشہ ورانہ خواہشات کو پورا کرنے اور اپنے خاندانوں کے لیے روزی کمانے میں معاشرتی مجبوریوں کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہفتے کے روز سینکڑوں خاندان لوک ورثہ کی طرف متوجہ ہوئے جہاں لباس، پینٹنگز، موم بتیاں، زیورات اور فرنیچر کی مختلف اقسام کی نمائش کی گئی۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کاروباری خواتین نے کہا کہ اس میلے سے انہیں اپنےصارفین کی تعداد وسیع کرنے کے لیے ایک قیمتی پلیٹ فارم ملا۔

ایک پرنٹ ڈیزائنر امبر فاطمہ نے کہا، "جب آپ ایک خاتون کاروباری ہوں اور آپ گھر سے کام کر رہی ہوں تو یہ تقریبات بہت اہم ہوتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب آپ اس قسم کی نمائشوں میں جاتے ہیں تو آپ کو اپنی مارکیٹ کا پتہ چلتا ہے۔ آپ گاہکوں کو سمجھتے ہیں اور یہ کہ آپ کو کیا قیمت لگانی چاہئے۔"

بہت سی شرکاء چھوٹے کاروبار چلا رہی ہیں جنہوں نے مارکیٹنگ کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنے انحصار کو نمایاں کیا۔

موم بتیاں اور کپڑے فروخت کرنے والی مریم اشرف نے اپنی آن لائن موجودگی کو سب سے بڑا چیلنج بتاتے ہوئے کہا، "میرے پاس ٹیم نہیں ہے، گودام نہیں ہے۔"

البتہ انہوں نے میلے میں اپنی شرکت پر اطمینان کا اظہار کیا جس سے ان کی صارفین تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

گالا میں 130 سے زیادہ متحرک اسٹالز ہیں جن کا انتظام مختلف عمروں اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والی کاروباری خواتین نے کیا ہے۔

بعض خواتین مثلاً عالیہ احسن جو ایک سابق ماہرِ تعلیم ہیں، نے گذشتہ ملازمتیں چھوڑنے یا ریٹائر ہونے کے بعد انٹرپرینیورشپ کا آغاز کیا۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میں نے یہ [شمع سازی] کورونا وائرس کی وبا کے دوران آن لائن سیکھی۔ اور میں بہت خوش ہوں کہ میں وقت ضائع نہیں کر رہی۔"

انہوں نے بات کو جاری رکھا، "بچے بڑے ہو گئے ہیں اس لیے اب مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس وقت ہے اور مجھے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔"

ایک پاکستانی غیر منافع بخش تنظیم کارنداز کے مطابق خواتین کے زیرِ قیادت 50 فیصد سے زائد کاروبار غیر رجسٹرڈ ہیں اور انہیں ترقی اور منافع میں تیز رفتار اضافے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

2022 کی عالمی صنفی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ خواتین معاشی طور پر کم شرکت کا شکار ہیں اور ان میں سے صرف 4.5 فیصد پاکستان میں اعلیٰ تجارتی یا قانون سازی کے عہدوں پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

میلے کی کئی شرکاء نے کہا کہ انہیں ایک چھوٹا کاروبار چلانے میں لطف آتا ہے کیونکہ اس نے انہیں مالی طور پر خود مختار بنایا اور ایک شناخت فراہم کی۔

25 سال سے ملبوسات کے کاروبار سے وابستہ سعیدہ تسلیم نے کہا، "کاروبار قائم کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ خود مختار ہو جاتی ہیں۔ آپ اپنی پسند کی کوئی بھی چیز خرید سکتی ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں