پاکستان کی قومی ایئرلائن نے حال ہی میں اپنے پائلٹس اورجہاز کے دیگر عملے کو رمضان کے دوران ڈیوٹی انجام دینے کے دوران روزہ نہ رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں غلط اور تاخیری اقدامات ہوسکتے ہیں اور مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے آٹھ مارچ کو عملے کے ارکان کے لیے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا کہ اگرچہ روزے کی حرمت ناقابل تردید ہے، لوگ ایسا کرنے کے لیے معمولات میں تبدیلی سے گزرتے ہیں۔ اس نے نشاندہی کی کہ روزہ ہائپوگلیسیمیا، پانی کی کمی، فیصلہ سازی میں دقت اور جسمانی صلاحیتوں میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
پی آئی اے نے کہا "تمام عوامل کو معروضی طور پر غور کرنے کے بعد، یہ واضح ہو جائے گا کہ روزہ کی حالت میں پرواز کرنا نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی حفاظت کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔
لہذا یہ ضروری ہے کہ وہ تمام کاک پٹ/کیبن عملہ جو روزہ رکھ رہے ہیں، انہیں ڈیوٹی انجام دینے سے پرہیز کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔"
پی آئی اے نے مزید کہا کہ اگر کسی لائسنس یافتہ پائلٹ یا عملے کے رکن کو علم ہو یا اس کے پاس معقول علم ہو کہ کہ ان کی صحت خراب ہو گئی ہے، چاہے صرف عارضی طور پر کسی معمولی بیماری کی وجہ سے ہو یا روزے کی مدت تک، وہ اس وقت تک اپنے فرائض انجام نہیں دیں گے جب تک وہ مطمئن ہیں کہ ان کی حالت میں بہتری آئی ہے۔