اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کالعدم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سپریم کورٹ نے سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کا 22 صفحات پر مشتمل محفوظ شدہ تفصیلی فیصلہ جاری کیا جو چیف جسٹس پاکستان نے تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ جج کی تمام مراعات دی جائیں۔

مزید کہا گیا کہ کیس تاخیر سے مقرر ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کی عمر 62 سال پوری ہو چکی ہے، عمر پوری ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کو عہدے پر بحال نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ شوکت صدیقی ہائی کورٹ سے ریٹائرڈ جج ہوں گے۔

واضح رہے کہ 23 جنوری کو سپریم کورٹ نے سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، دورانِ سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ محتاط چلنا ہوگا، کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نہ ہو۔

شوکت عزیز صدیقی کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر کے دوران بطور جج نامناسب رویہ اختیار کرنے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس خطاب میں خفیہ اداروں پر شدید تنقید کی تھی۔

اپنی برطرفی کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کی سماعت کافی عرصے تک جاری رہی۔

مارچ 2020 میں شوکت صدیقی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کو لکھے گئے خط میں معاملے کی جلد سماعت کی استدعا کی تھی۔ اس سے قبل بھی وہ کم از کم ایسے تین خط لکھ چکے تھے۔

اپنے خط میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ 11 اکتوبر 2018 سےاب تک ان کی درخواست التوا کا شکار ہے اور ابتدائی مراحل کی کارروائی بھی ممکن نہیں ہوئی۔

دو صفحات پر مشتمل اس خط میں شوکت عزیز صدیقی کا موقف تھا کہ ان کی اپیل میں سماعت کے لیے تاخیر روا رکھی گئی ہے، لہذا اس کا مناسب سدباب کیا جائے۔

درخواست میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عدالت عظمیٰ کو اس عمومی تاثر کو سنجیدگی سے زائل کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ آئینی درخواست کو 30 جون 2021 تک زیر التوا رکھنا کسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ میری ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزر جائے اور آئینی درخواست چند اہم امور کے حوالہ سے غیر موثر ہو جائے۔‘

جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے خط میں یہ بھی کہا تھا کہ اس مسلسل التوا کے نتیجے میں وہ اور ان کا خاندان ذہنی پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہیں، جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

سپریم کورٹ میں اپیل

11 اکتوبر 2018 کو دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ’جوڈیشل کونسل نے آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا اور درخواست گزار کو آئینی حق سے محروم رکھا گیا۔ درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل کو الزامات کی انکوائری کرنی چاہیے تھی۔ اس تمام کارروائی کا مقصد مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا۔‘

شوکت صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج تھے اگر شوکت صدیقی کو فوری کارروائی کر کے اکتوبر 2018 میں برطرف نہ کیا جاتا تو 26 نومبر 2018 کو انہوں نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا حلف اُٹھانا تھا۔

انہوں نے اپنی درخواست میں کونسل کی جانب سے برطرفی کی سفارش کو بدنیتی قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں