پاکستان دہشت گردوں، سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے

ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن پر کام ابھی شروع نہیں ہوا: ممتاز زہرہ بلوچ ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پر عزم ہے۔ بشام واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے، پاکستان حکومت چین کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے، پاکستان اور چین دو مضبوط ترین ہمسائے اور بھائی ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چین کا اپنے شہریوں کی سکیورٹی کے لیے تشویش قدرتی امر ہے، حکومت پاکستان چین کے تحفظات کو سمجھ سکتی ہے، پاکستان اور چین مل کر پاک چین دوستی کے دشمنوں کو ناکام بنائیں گے۔

پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن پر ابھی کام شروع ہی نہیں ہوا۔

انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری کامرس خرم آغا افغانستان کے دورے پر ہیں، وہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے تجارت نورالدین عزیزی سے ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، باہمی تعلقات، خطے میں امن اور دیگر امور پر بات چیت کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کو درپیش رکاوٹوں کو دورکرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پرغور کیا گیا، ملاقاتوں میں پاک افغان بارڈر، ٹرانزٹ اور دیگر امور زیر غور رہے۔ پاکستان افغانستان کےساتھ تجارت اور تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ’افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے‘۔

ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی قرارداد کے باوجود اسرائیل ابھی بھی فلسطین میں بے گناہ لوگوں کو قتل کررہا ہے، رفح اور غزہ کی پٹی میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان اسرائیل کے دہشت گردانہ اور ظالمانہ رویے کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ فلسطین میں جاری بربریت کو ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی بھوک اور قحط کا شکار ہیں، اسرائیل نے پابندیاں لگا کر ان کو امداد اور کھانے پینے کی چیزوں سے بھی محروم کر رکھا ہے۔

ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پیش نظر اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کو حل کیا جائے۔ پاکستان جون 1967 سے قبل سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا۔

بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت مبینہ طور پر بھارتی مقبوضہ جموں اور کشمیر میں دریافت ہونے والے لیتھیم کے ذخائر کے کچھ بلاکس کو نیلام کرنے کے لیے تیار ہے اور ایسے خدشات ہیں کہ مقبوضہ علاقے کے باہر کسی کارپوریشن کو کشمیر کے قیمتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹھیکے دیے جائیں گے جن پر کشمیریوں کا حق ہے۔

ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات غیر قانونی اور استحصالی ہیں، کشمیر کو اس کے قدرتی وسائل سے محروم نہیں کرنا چاہیے، معدنی وسائل سمیت خطے کی دولت پر کشمیری عوام کا حق ہے۔ انہوں نے بھارت سے اس طرح کے استحصالی منصوبوں کو ترک کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں