علاقائی سفارتی سرگرمیوں کےلیے سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کی حمایت کرتے ہیں:امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے سعودی ولی عہد کے متوقع دورہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ امریکہ کی یہ حمایت سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان علاقائی سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے ہے۔

امریکی وزیر خارجہ میتھیو ملر نے کہا ہے کہ 'امریکہ اپنے شراکت دار ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیوں کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔ نیز اسی ماہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے متوقع دورہ پاکستان کی بھی حمایت کرتے ہیں۔'

میتھیو ملر کا یہ بیان سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جاری کیا گیا ہے۔ میتھیو ملر سے پوچھا گیا سوال ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جنوبی ایشیائی ریاست کے سرکاری دورے سے بھی متعلق تھا۔

میتھیو ملر نے میڈیا بریفنگ میں کہا 'ہم اپنے شراکت داروں کے درمیان سفارتی سرگرمیوں کی ہمیشہ حمایت کرتے ہیں۔ میں سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم سفارتی سرگرمیاں معمول کی بات ہے اور ہم اس کی حمایت و حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔'

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا ' یقینا ہم علاقائی کشیدگی میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم نے ایران اور پاکستان کے درمیان محدود تنازعات کا آغاز دیکھا ہے۔ لیکن ہم ایران سے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ خطے میں اس کے مسلسل عدم استحکام کا رویہ ہے۔'

خیال رہے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے گزشتہ ماہ پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا ہے۔ ان کے دورے کی وجہ جنوری میں ہونے والے فوجی حملوں کے بعد تعلقات میں بہتری کی کوشش کی تھی۔

علاوہ ازیں پاکستان اور ایران کے درمیان اس گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی جو امریکی اقتصادی پابندیوں کے زیر اثر 2009 میں معاہدے کی صورت طے پایا تھا۔

نائب وزیراعظم پاکستان اسحاق ڈار نے منگل کے روز کہا ہے 'ایک خود مختار ریاست کے طور پر حکومت مفادات کی پیروی کے تحت کام جاری رکھے گی۔ اسحاق ڈار نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے متعلق کہا 'یہ دورہ رواں ماہ کے دوران کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں