پاکستان:سلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن منتخب ہوکرمشرق وسطیٰ میں امن کےلیےموثرکردارکاعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے 'سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر منتخب ہونے کی صورت میں پاکستان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اپنی بہترین کو کوششیں کرے گا۔ 'انہوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کے روز کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان میں سے پانچ مستقل ارکان ہیں جنہیں ویٹو کا اختیار بھی حاصل ہے ، جبکہ دس ارکان غیر مستقل ہوتے ہیں۔ جن کا انتخاب ہر سال کیا جاتا ہے۔ ان دس ارکان کے لیے اقوام متحدہ کے ارکان ووٹ کرتے ہیں۔

غیر مستقل ارکان کے سیشن 2025 / 2026 کے لیے انتخاب کا شیڈول اگلے ماہ چھ جون کے لیے طے کیا گیا ہے، جس کے لیے پاکستان نے بھی خود ایک امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان اس سے قبل بھی 1952/1953 1968/ 1969 ، 1976/ 1977، 1983/ 1984، 1993/1994، 2003 / 2004 اور 2013 میں سات مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر منتخب ہو چکا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم اتوار کے روز امریکہ میں مقیم پاکستانی طلبہ کی ایسوسی ایشن ' پی ایس اے کولیشن سے ویڈیو لنک پر اپنے خطاب میں کہا ' سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہونے کے لیے پاکستان کو کشمیر، افغانستان اور انسداد دہشت گردی کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ' اے پی پی ' کے مطابق انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا ' غیر مستقل ممبر منتخب ہونے پر پاکستان ترقی پزیر ملکوں کے احساسات اور خواہشات کی درست ترجمانی کر سکے گا۔ نیز مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک میں قیام امن کے لیے کام کرے گا۔ غیر ملکی قبضے میں رہنے والے علاقوں کے لوگوں کے حق خود ارادیت کے آواز اٹھائے گا۔

منیر اکرام نے اس موقع پر دنیا کے موجود ہ تنازعات اور علاقائی سطحوں پر موجود بڑے ایشوز سمیت تمام چیلنجوں کے حل کے لیے پاکستان کے موقف اور سوچ کا اظہار کیا ، ان کا کہنا تھا بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت اور مقابلے کی فضا میں شدت موجودہ عالمی نظام میں ایک نئی حقیقت کے طور پر سامنے آئیہے۔ اس صورت حال میں دنیا یک محوری سے 'دو محوری پلس آرڈر' طرف بہت تیزی سے سفر کر رہی ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب یہ گفتگو ایسے وقت میں کر رہے تھے جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور غزہ میں اسرائیلی جنگ میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اب تک اسرائیلی فوج نے غزہ میں 3538 6سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ اور آٹھ لاکھ افراد کو رفح پر اسرائیلی حملے کے باعث محض چند ماہ کے دوران دوہری نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ جبکہ غزہ میں خوراک اور پینے کے پانی تک کی قلت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں