پاکستان میں گذشتہ مالی سال کے دوران ترسیلاتِ زر میں 10.7 فیصد اضافہ ریکارڈ

ترسیلات کا بڑا حصہ شرقِ اوسط سے موصول ہوا، مجموعی آمد 30.3 بلین ڈالر رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

سٹیٹ بینک نے منگل کو اعلان کیا کہ پاکستان میں گذشتہ مالی سال کے دوران ترسیلاتِ زر کی مد میں 30.3 بلین ڈالر کی آمد دیکھنے میں آئی۔ اس طرح مالی سال 2023 کے 27.3 بلین ڈالر کے مقابلے میں اس سال 10.7 فیصد اضافہ ہوا جس کا زیادہ تر حصہ شرقِ اوسط سے بھیجا گیا۔

بیرونِ ملک پاکستانی محنت کشوں کی ترسیلات ملکی معیشت کی بنیاد ہیں جو ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرتی ہیں۔

حکومت نے بیرونِ ملک بالخصوص شرقِ اوسط میں پاکستانیوں کے روزگار کے مواقع کو فعال طور پر فروغ دیا ہے تاکہ ترسیلاتِ زر میں مستقل اضافے کو یقینی بنایا جا سکے جو ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

گذشتہ مالی سال کے اختتام پر جون کے اعداد و شمار کا اشتراک کرتے ہوئے سٹیٹ بینک پاکستان نے کہا، "جون 2024 کے دوران محنت کشوں کی ترسیلاتِ زر میں 3.2 بلین ڈالر کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ افزائش کے لحاظ سے جون 2024 کے دوران ترسیلاتِ زر میں [سال بہ سال] کی بنیاد پر 44.4 فیصد اضافہ ہوا۔"

سٹیٹ بینک نے کہا کہ گذشتہ ماہ ترسیلاتِ زر کی آمد زیادی تر سعودی عرب (808.6 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (654.3 ملین ڈالر)، برطانیہ (487.4 ملین ڈالر) اور امریکہ (322.1 ملین ڈالر) سے ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں