برطانوی پارلیمنٹ میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے کی گونج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

برطانوی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو رہا کیا جائے۔ عمران خان پچھلے سال ماہ اگست سے جیل میں بند ہیں۔ اگلے ماہ ان کی اسیری کا ایک سال مکمل ہو جائے گا۔

اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد وہ مسلسل زیر عتاب ہیں اور ان کے خلاف لگ بھگ دو سو کے قریب مقدمات بنائے جا چکے ہیں۔ تاہم بہت سے مقدمات میں انہیں عدالتوں سے ریلیف بھی مل چکا ہے اس کے باوجود ان کی رہائی کی کوئی صورت نہیں بن پائی۔

برطانوی پارلیمنٹ نے منگل کے روز عمران خان کے حوالے سے ایک خصوصی سماعت کا اہتمام کیا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے اپنے پارٹی لیڈر اور ان کے ساتھ پیش آمدہ صورت حال کے علاوہ پاکستان میں امن و امان کے بگڑتے حالات اور بڑھی ہوئی سنسر شپ کا بطور خاص ذکر کیا۔

پارلیمنٹ کی اس خصوصی سماعت کی میزبانی مشترکہ طور پر کنزرویٹو پارٹی کے ڈینیل حنان اور لیبر پارٹی کی پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے کی۔ سماعت میں کنزر ویٹو پارٹی کے سابق وزیر داخلہ پریٹی پاٹیل، ایوان بالا کی رکن سعیدہ وارثی، لیبر پارٹی کی نوشابہ خان ، لارڈ طارق احمد اور دیگر نے بطور خاص شرکت کی۔

سماعت کے بعد ارکان پارلیمنٹ نے طے کیا کہ وزیر اعظم کیر سٹارمر اور وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی اور حکومت عمران خان کی اسیری کے بارے میں اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کا جائزہ لیں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کریں۔

ارکان پارلیمنٹ نے کہا 'پاکستانی جمہوریت کے دوست ہونے کے ناطے ہم پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ نے جو سفارشات کی ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ نیز عمران خان کی اسیری ختم کرنے کے لیے کہا جائے۔ '

برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ پاکستان میں آزادانہ اور سب جماعتوں کو شامل کر کے انتخابات کرانے کا بھی کہا جائے۔

ان ارکان نے کہا 'ہم جمہوریت کے لیے اپنا دباؤ جاری رکھیں گے۔ پالیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے لیے ہم اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر بھی سامنے لائیں گے اور دوست ممالک کے ارکان پارلیمان سے بھی رابطے کریں گے۔ تاکہ وہ اس سلسلے میں اپنی آواز بلند کر سکیں۔

خیال رہے عمران خان جو تقریباً ایک سال سے جیل میں ہیں انہیں عام انتخابات سے ذرا پہلے مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں ۔ جو بعد ازاں عدالتوں نے ختم کر دی ہیں یا معطل کر دی ہیں۔ ان میں سے ایک سزا پر عدالت نے انہیں اور ان کی اہلیہ کو بری کیا لیکن اس کے فوری بعد انہیں ایک اور پرانے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔

عمران خان کو گزشتہ سال ماہ مئی میں اپنے پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کو فوجی دفاتر اور تنصیبات پر حملے کے لیے اکسانے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ تاہم وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک پینل نے اسی ماہ عمران خان کے جیل میں ہونے کی کسی بنیاد کو قبول نہیں کیا۔ اور کہا ہے 'ایسا لگتا ہے کہ مقصد صرف انہیں سیاسی عہدے کے لیے نااہل قرار دینا ہے۔'

برطانوی پارلیمان میں عمران خان کے بارے میں اس سماعت کے دوران عمران خان کے ساتھی زلفی بخاری اور رکن قومی اسمبلی مہر بانو قریشی نے پاکستان میں جاری اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے اس موقع پر کہا ' اپنے ایک بڑے پاکستانی حلقے اور پاکستان سے تعلق کی وجہ سے میں پاکستان کی کامیابی کے لیے خواہش مند ہوں۔ خاص طور پر پاکستان میں جمہوریت، انصاف کی بالادستی اور صحافت کی آزادی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی پاکستان کے بارے میں رپورٹ ہم سب کے لیے بڑی تکلیف کا باعث بنی ہے۔ ہم پاکستان کی ترقی یقینی بنانے کے لیے پارلیمان میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔'

واضح رہے برطانوی پارلیمان میں یہ سماعت دو روز قبل پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ پر ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے چھاپے اور سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن سمیت میڈیا مینیجر احمد وقاص جنجوعہ کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی ہے۔

ان تازہ گرفتاریوں سے محض ایک ہفتہ پہلے پاکستان کی مخلوط حکومت کے وزیر اطلاعات نے یہ اعلان کیا تھا کہ پی ٹی آئی پر فوج مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، سرکاری راز افشاں کرنے اور غیر ملکوں سے فنڈنگ حاصل کرنے کی بنیاد پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

ایک عدالتی فیصلے کے مطابق اگر پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں مل جاتی ہیں تو یہ ایک بڑا واقعہ ہوگا کہ عددی اعتبار سے پارلیمان میں موجود چھوٹی جماعتیں آپس میں مل کر اسمبلی میں زیادہ تعداد رکھنے والی جماعت کے خلاف پابندی کا فیصلہ کریں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں