راولپنڈی میں سڑک کنارے کتابوں کے بازار معدوم ہونے لگے
مرکزی صدر بازار کے ساتھ سڑک کنارے کتابوں کی دکانیں 80 کے عشرے سے کم از کم 2010 تک مرکزِ توجہ رہیں
پاکستان کی ایک عظیم زندہ اردو شاعرہ اور ادیبہ کشور ناہید کے لیے راولپنڈی کے مرکزی صدر بازار کے ساتھ پھیلے ہوئے سینکڑوں کتابوں کے سٹالز کا دورہ کرنا اتوار کی صبح کا معمول ہوتا تھا۔
لیکن جوں جوں سٹالز کم اور کتب فروش غائب ہوتے گئے تو اب ناہید اور ان جیسے دیگر افراد کے پاس صرف یادیں رہ گئی ہیں اور ایک معدوم ادبی ثقافت کے نقصان کا گہرا احساس باقی بچا ہے جو کبھی راولپنڈی کی فکری زندگی کا مرکز ہوا کرتا تھا۔
اس ہفتے ایک انٹرویو میں ناہید نے عرب نیوز کو بتایا، "ہر اتوار کی صبح زاہد ڈار [اردو شاعر]، انتظار [حسین] صاحب [ناول نگار]، میں اور میرے تمام مصنف دوست، ہم وہاں [راولپنڈی کے کتاب بازار] جاتے اور کتابیں لینے کی کوشش کرتےا۔ یہ کتابوں کا جنون تھا۔"
بک سٹال کے ایک 69 سالہ مالک فرید الحق نے کہا کہ راولپنڈی کے کھلے میدان میں کتابوں کے سٹال 80 کے عشرے میں شروع ہوئے اور کم از کم 2010 تک ترقی کرتے رہے جب آہستہ آہستہ زوال شروع ہوا۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میں اس بازار میں 25 سال سے کتابیں فروخت کر رہا ہوں اور سڑک کنارے کتابوں کا یہ بازار تقریباً 50 سال سے لگا ہوا ہے،" انہوں نے مزید بتایا کہ لوگ سٹالز پر دوسرے شہروں سے آتے، گھنٹوں کتابیں دیکھا کرتے اور اکثر اپنے مطلوبہ عنوانات ہاتھ سے لکھے ہوئے ساتھ لے کر آتے تھے۔
"میں نے اس بازار کا عروج دیکھا ہے جب یہاں اتنا ہجوم ہوتا تھا کہ پیدل چلنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اب لوگ اپنی کتابیں لاتے ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ یہ ان کے دادا دادی کی کتابیں ہیں اور پوتا انہیں فروخت کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ ان کی قدر سے واقف نہیں۔"
سڑک کنارے لگے سٹال نئی اور پرانی کتابوں کی وسیع اقسام پیش کرتے ہیں: قدیم جلدیں، سکول کی کتابیں، تاریخی کام، مختلف زبانوں میں افسانے اور ہر قسم کے رسائل۔
فروخت کنندگان اور صارفین کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا اور آن لائن بک سٹورز کے عروج سے کتاب بازاروں کی عملداری متأثر ہوئی ہے اور سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کی بدولت دنیا بھر میں لوگوں کے معلومات استعمال کرنے اور پڑھنے کے طریقے میں تبدیلی آئی ہے۔
راولپنڈی کی رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے میڈیا سائنسز کے طالب علم نعمان سمیع نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم سوشل میڈیا، آن لائن اور غیر حقیقی (ورچوئل) کتابوں کے دور میں رہتے ہیں اور کئی لوگ اب حقیقی کتابیں پڑھنے کو ترجیح نہیں دیتے۔"
ایک پاکستانی افسانہ نگار، ناول نگار اور ادبی نقاد محمد حمید شاہد کے مطابق کتابوں کے بازاروں میں کمی کے پسِ پردہ معاشی عوامل بھی کارفرما ہیں۔
بڑھتے ہوئے کرائے، مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے کئی کتب فروشوں کے لیے اپنا کاروبار برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تھا جبکہ صارفین کے پاس کتاب جیسی آسائش پر خرچ کرنے کے لیے پیسے کم تھے۔ شہری ترقی کے منصوبوں نے بھی کتاب بازار ختم کر دیئے ہیں کیونکہ ادبی گوشے تجارتی یا رہائشی ترقی کے لیے ختم کر دیئے گئے۔
شاہد نے کہا، "عام لوگ اکثر مہنگی کتابیں نہیں خرید سکتے لیکن سڑک کنارے لگے بک سٹالز پر آپ کو خزانے مل جائیں گے۔ یہاں کتابوں کی وسیع اقسام دستیاب ہیں اور ہمارے فٹ پاتھوں پر بیٹھے یہ دکاندار تعاون کے مستحق ہیں تاکہ ان کے ذریعے علم کا شعلہ زندہ رہے اور کتابیں ہمارے بچوں تک پہنچتی رہیں۔"
مصنف نے کہا کہ بازار ان کے اپنے ادبی سفر میں ایک اہم عنصر رہا ہے: "یہ دکاندار جو فٹ پاتھوں پر کتابیں پھیلا کر بیٹھے رہتے تھے، وہ ہر طرح کے موضوعات کا احاطہ کرتی تھیں، انھوں نے میرے کیریئر میں اہم کردار ادا کیا، انھوں نے مجھے مصنف بننے کی تحریک دی۔"
کتاب فروش حق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، راولپنڈی میں آئندہ نسلیں اس چیز کا تجربہ نہیں کر پائیں گی۔
اس ماہ اتوار کی صبح اپنے سٹال پر تنہا بیٹھے گاہکوں کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میں نے اس بازار کو لوگوں سے بھرا دیکھا ہے لیکن اب یہ تقریباً خالی ہے۔"