پاکستان اور چین سرحدی علاقے میں مشترکہ پولیس اور نیم فوجی مشقیں کریں گے

دونوں ممالک کا دہشت گردی، سمگلنگ اور منشیات کے انسداد کے لیے تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک سرکاری بیان میں ہفتے کے روز کہا گیا کہ پاکستان اور چین نے سرحدی علاقے میں مشترکہ پولیس اور نیم فوجی مشقیں کرنے پر اتفاق جبکہ سکیورٹی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کا بھی عہد کیا۔

پاکستان کے گلگت بلتستان اور چین کے سنکیانگ کی 600 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے جو دونوں ممالک کے لیے تزویراتی اہمیت کی حامل ہے بالخصوص بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ایک اعلیٰ سطحی منصوبے سی پیک کے تناظر میں۔

یہ علاقے اہم تجارتی راستوں کے طور پر کام کرتے ہیں جن سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اقتصادی تعلقات کو فروغ ملتا ہے۔ تاہم چین صوبہ سنکیانگ میں سلامتی کی صورتِ حال کے بارے میں فکر مند ہے جہاں وہ عسکریت پسندی اور خطے میں منشیات کی روانی سے نبرد آزما ہے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور چین کے وزیر برائے سیاسی و قانونی امور چن منگ گو کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں یہ امور زیرِ بحث آئے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران دہشت گردی، سمگلنگ اور منشیات کے انسداد اور سرحد پار تعاون کی کوششوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

اس میں مزید کہا گیا، "گلگت بلتستان یا سنکیانگ میں مشترکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشقیں کرنے اور سنکیانگ پولیس اکیڈمی میں گلگت بلتستان کے پولیس افسران کو تربیت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔"

نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان منشیات، اسلحہ اور دیگر تمام سامان کی چین کو سمگلنگ مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق چینی وزیر نے پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے نقوی کو سنکیانگ کے دورے کی دعوت بھی دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں