پاکستان : لبنانی سرحد پر تعینات ' یونیفل' پر اسرائیلی گولہ باری قابل مذمت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسرائیل کی طرف سے اقوام متحدہ کے ان امن دستوں پر گولہ باری کی مذمت کی ہے جو سالہاسال سے لبنان کی سرحد پر اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت امن کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان امن دستوں میں کئی یورپی ملکوں سمیت متعدد ملکوں کے فوجی اہلکار شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا' یہ امن دستوں کے لیے بڑا سنگین معاملہ ہے کہ ان حالات میں وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔'

واضح رہے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان آٹھ اکتوبر 2023 سے سرحدی علاقوں میں جھڑپیں جاری تھیں لیکن پچھلے ماہ 23 ستمبر سے اسرائیل نے اپنی حزب اللہ کے خلاف جنگ کو لبنان کے اندر بھی منتقل کر دیا ، پہلے مرحلے پر بیروت پر بمباری کی گئی اور پھر لبنانی سرحد سے زمینی حملہ شروع کرنے کا بھی اعلان کر دیا گیا۔

اسی دوران اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر گھسنے کے لیے ' یونیفل ' کے دستوں کو بھی راستے سے ہٹانے کی کوشش کے طور پر اس پر کئی بار گولہ باری کی ہے۔ تاہم ' یونیفل' کے دستوں نے راستے سے ہٹنے کا اسرائیلی مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

اسرائیل جس کے مقابل ان دنوں اس کے خیال میں کوئی نہیں ٹھہر سکتا اس امن فوج کے کیمپ کے دروازے تک کو ٹینکوں سے ہٹا دیا۔ علاوہ ازیں گولہ باری کی اور متعدد امن فوجیوں کو زخمی کر دیا۔ اسرائیلی فوج کی اس جارحیت کی اقوام متحدہ سمیت تقریباً 50 ملکوں نے اب تک مذمت کر دی ہے۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

واضح رہے لبنانی سرحد پر تعینات کیے گئے یونیفل دستوں میں دس ہزار کے لگ بھگ امن فوجی شامل کیے گئے ہیں۔ پاکستان نے ان امن دستوں پر جان بوجھ کر کی گئی اسرائیلی گولہ باری کی جمعرات کے روز مذمت کی ہے۔

ممتاز زہرا بلوچ نے کہا اسرائیلی حملہ ہر حوالے سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ اقوام متحدہ کے تعینات کردہ ان دستوں کو یہ حق ہے کہ وہ بلا خوف اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ وہ ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس موضوع پر بات کر رہی تھیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے غزہ کے علاقے بیت لاھیہ پر اسرائیل فورسز کی بلا امتیاز بمباری کے تازہ واقعے کی بھی مذمت کی ہے۔ شمالی غزہ کے اس علاقے میں اسرائیلی بمباری سے 80 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اس علاقے میں آبادی کو بغیر کسی پیشگی وارننگ کے بمباری کا نشانہ بنایا اور بھوک اور قحط کی زد میں آئے فلسطینیوں پر بمباری کر کے بڑی تعداد کو ہلاک کر دیا گیا۔

ادھر بدھ کے روز ' انروا ' کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے اس کے ملازمین بھی زد میں آئے اور اب تک مجموعی طور پر ایک سال کے دوران ' انروا ' کے 223 ملازمین کو اسرائیلی فوج بمباری کر کے ہلاک کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں