پاکستان کے لیے اگلے دو سال ’اہم‘: سعودی عرب کے اہم کاروباری شعبوں میں وسیع مواقع
پاکستان کے لیے اگلے دو سال ’اہم‘: سعودی عرب کے اہم کاروباری شعبوں میں وسیع مواقع
سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے اس ہفتے کہا ہے کہ پاکستانی اداروں کے لیے سعودی عرب کے اہم کاروباری شعبوں میں اپنی موجودگی میں اضافہ کرنے کے لیے اگلے دو سال انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی کاروباری ادارے ریاض کے ان پرعزم اقدامات سے فائدہ اٹھائیں جو وہ اپنی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے کر رہا ہے۔
سعودی عرب ویژن 2030 پروگرام کے تحت اپنی معیشت کو جدید خطوط پر مستحکم کر رہا ہے جو تزویری اہمیت کا حامل ایک ترقیاتی لائحہ عمل ہے اور اس کا مقصد مملکت کی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنا ہے۔ اس کا مقصد صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، تفریح اور سیاحت جیسے عوامی خدمات کے شعبوں کو ترقی دینا ہے۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں مملکت کے ساتھ وسیع تر تجارتی اور اقتصادی تعلقات پر زور دیا ہے۔ اکتوبر 2024 میں دونوں ممالک نے 2.8 بلین ڈالر کے تجارتی معاہدات پر دستخط کیے۔ سعودی عرب میں 20 لاکھ سے زائد پاکستانی تارکینِ وطن کام کرتے ہیں جو جنوبی ایشیائی ملک کے لیے غیر ملکی ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
کراچی ایوانِ صنعت و تجارت (کے سی سی آئی) نے ایک بیان میں کہا کہ فاروق نے بدھ کو پاکستانی تاجروں اور صنعتکاروں سے ملاقات کے لیے (کے سی سی آئی) کا دورہ کیا۔
کے سی سی آئی نے کہا، "معیشت کو متنوع بنانے کی غرض سے وضع کردہ وژن 2030 کے تحت مملکت میں آنے والی انقلابی تبدیلی کو نمایاں کرتے ہوئے سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے لیے سعودی عرب میں اپنی موجودگی میں اضافہ کرنے کی غرض سے اگلے ایک سے دو سال اہم ہوں گے۔"
فاروق نے کہا، اگلے دو سالوں میں سعودی عرب کے تعمیرات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت اور ہوٹلنگ اور مہمان نوازی کے شعبوں میں "بہت زیادہ مواقع" ہوں گے۔
انہوں نے پاکستان پر اپنی افرادی قوت کو ہنرمند بنانے پر زور دیا تاکہ وہ مملکت میں روزگار حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا، "اگر ہم اپنے حصے کا فوری دعویٰ نہ کریں تو یہ ہمارے حریف لے جائیں گے لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کو اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ سعودی تقاضوں کے مطابق تربیت دے کر اپنی افرادی قوت کو ہنرمند بنائے۔
پاکستانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کا مقصد ایک علاقائی آئی ٹی مرکز بننا ہے جس سے انسانی وسائل اور مہارت کی خاطر خواہ طلب پیدا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کو ایک "اہم موقع" ملا ہے کہ وہ تیزی سے ترقی کرنے والے شعبے کو اپنی خدمات اور مصنوعات فراہم کریں۔
فاروق نے کہا کہ سعودی عرب آئندہ عشرے میں چار بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کرے گا: 2027 میں ایشین فٹ بال کپ، 2029 میں ایشین ونٹر گیمز، 2030 میں ریاض میں عالمی ایکسپو اور 2034 میں فیفا ورلڈ کپ۔
انہوں نے کہا، "ان تقریبات کے لیے سعودی عرب بنیادی ڈھانچے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے جس میں 250 نئے ہوٹلوں کی تعمیر شامل ہے۔ یہ توسیع پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، غذائی برآمدات، اور مہمان نوازی اور رہائشی شعبوں میں تربیت یافتہ افرادی قوت کے لیے مواقع پیدا کرتی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں نیوم جیسے عظیم اور وسیع تعمیراتی منصوبوں میں بھی پاکستانی افرادی قوت کے لیے مواقع ہیں۔
فاروق نے کہا، "تمام دنیا کی کمپنیاں منافع بخش معاہدے حاصل کر رہی ہیں اور پاکستان کو بھی اس موقع سے پھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔"