بلوچستان میں حکام کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور جانے والی ٹرین (جعفر ایکسپریس) پر نامعلوم دہشت گردوں نے مچھ میں فائرنگ کی، سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے ٹرین پر حملہ کر کے ’450 کے قریب مسافروں‘ کو ’یرغمال‘ بنا لیا ہے۔
حکام کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر گڈالر اور پیرو کنری کے درمیان پیش آیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عسکریت پسندوں نے بولان پاس کے علاقے میں جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔‘ بیان کے مطابق عسکریت پسندوں نے معصوم مسافروں جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی بھی ہیں، کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے بھی رابطے میں ہیں۔‘
دوسری جانب ایف سی بولان کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی ’اندھا دھند فائرنگ سے تین کمسن بچے شہید‘ ہو چکے ہیں۔ ایف سی بولان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، اور اب تک چار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کوئٹہ ریلوے کے ایک سینیئر اہلکار محمد کاشف نے بتایا ہے کہ ’مسلح افراد نے ٹرین پر سوار 450 کے قریب مسافروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔‘ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ’ٹرین کو 8 نمبر ٹنل میں مسلح افراد نے روک لیا، جس کے بعد مسافروں اور عملے سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کا کہنا ہے کہ واقعے کے نتیجے میں سبی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ ایمبولینسز جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں مزید بتایا ہے کہ ’پہاڑی اور دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث جائے وقوعہ تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔‘ بیان کے مطابق محکمہ ریلوے کی جانب سے امدادی ٹرین بھی جائے وقوعہ پر روانہ کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ’واقعہ دہشت گردی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے تاہم فی الحال واقعے کی نوعیت اور ممکنہ دہشت گردی کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
لیویز حکام کا کہنا ہے کہ ’سبی اور بولان کی حدود میں ٹنل نمبر 8 کے قریب پیرو کنری کے مقام پر مسلح افراد نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا ہے۔‘ لیویز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’حملے اور فائرنگ سے انجن ڈرایئور سمیت تین مسافر زخمی ہوئے ہیں۔‘
ادھر پشاور ریلوے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور آ رہی تھی جس میں 450 کے قریب مسافر سوار ہیں۔
عہدیدار نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کی روزانہ پشاور اور کوئٹہ کے درمیان چار ٹرینیں بیک وقت جعفر ٹریک پر ہوتی ہیں۔ ’ایک ٹرین کوئٹہ سے پشاور، دوسری پشاور سے کوئٹہ اور دو ٹرینیں پہلے سے راستے میں ہوتی ہیں۔‘ ان کے مطابق جس ٹرین پر مسلح افراد نے حملہ کیا وہ صبح نو بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی اور اس کو بدھ کی شام ساڑھے سات بجے پشاور پہنچنا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں قبول کی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ منگل کو مسلح افراد نے مسافر ٹرین پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں ڈرائیور زخمی ہو گیا اور نتیجتاً ٹرین میں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد ٹرین ضلع بولان کے ایک دور دراز علاقے میں رک گئی۔
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں حملے کی مذمت کی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے تاحال مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔