ہر آنے والے سال کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل نظام کے تحت ادائیگیوں اور موبائل فونز کے ذریعے شروع کی گئی موبائل بینکنگ کی طرف شہریوں کے آنے اور استعمال میں اضافہ غیر معمولی طور پر 12 فیصد دیکھا گیا ہے۔
اکتوبر سے دسمبر 2024 کے دوران عام آدمی کی سطح پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حجم میں یہ 12 فیصد اضافہ پاکستان کے مرکزی بینک 'سٹیٹ بینک آف پاکستان' کی طرف سے متعارف کرائے گئے موبائل بینکنگ کے سسٹم کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ نیز عوام نے اس میں گہری دلچسپی لی ہے۔
'سٹیٹ بینک آف پاکستان' کے مطابق 'خوردہ لین دین کے حجم میں 11 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔ یوں 2143 ملین لوگوں نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ جبکہ لین دین کی مالیت 12 فیصد اضافے سے 154 ٹریلین روپے تک ہو گئی ہے۔'
یہ اضافہ بنیادی طور پر موبائل بینکنگ ایپ کی مدد سے ادائیگیوں، انٹرنیٹ بینکنگ کی ادائیگیوں اور بینک برانچوں میں 'اوور دی کاؤنٹر' لین دین کی وجہ سے ہوا ہے۔
سٹیٹ بنک نے جمعہ کو جاری ہونے والی اپنی سہ ماہی رپورٹ میں بتایا ہے ڈیجیٹل ادائیگی کے چینلز نے تمام خوردہ لین دین کا 88 فیصد حجم کے لحاظ سے پروسیس کیا، جس میں موبائل ایپ پر مبنی بینکنگ ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ پلیٹ فارمز جن میں موبائل بینکنگ ایپس، برانچ لیس بینکنگ والیٹس اور ای-منی والیٹس شامل ہیں نے مجموعی طور پر 24 ٹریلین روپے مالیت کی 1450 ملین ٹرانزیکشنز کی ہیں۔
جس سے حجم میں 12 فیصد اضافہ اور قیمت میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 'پاکستان دنیا کی سب سے بڑی غیر بینک شدہ آبادی کا گھر ہے۔ اس کی تقریباً 64 فیصد بالغ آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹ ہے۔ پاکسستان نے حال ہی میں معیشت کو دستاویزی قالب میں ڈھالنے ، ڈیجیٹل بنانے اور ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لیے کئی اصلاحات کی ہیں۔'
ڈیجیٹل بینکنگ خدمات سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کی تعداد میں بھی رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق 'اس مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ڈیجیٹل بینکنگ سروسز سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔' موبائل بینکنگ ایپ کے صارفین کی تعداد 21 ملین ہو گئی ہے، e-Money اور BB والیٹ کے صارفین بالترتیب 4.7 ملین اور 64.3 ملین ہو گئے ہیں۔ جبکہ انٹرنیٹ بینکنگ کے صارفین 13.3 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔'
مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ڈیجیٹل ای کامرس ٹرانزیکشنز کے حجم میں 30 فیصد اضافے کے ساتھ 152 ملین تک پہنچ گئی، جس کی رقم 193 بلین روپے ہے۔