پاکستان اور بھارت

بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پاک فوج کو مکمل اختیار دے دیا گیا: قومی سلامتی کمیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قومی سلامتی کمیٹی نے حالیہ بھارتی جارحیت پر شدید اظہار مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کو مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کے مکمل اختیارات سونپ دیے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت، وزراء اور دیگر اہم حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بھارتی حملوں سے متاثرہ شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، شہداء کے اہل خانہ سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ "بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بغیر کسی اشتعال کے پاکستانی حدود میں میزائل، فضائی اور ڈرون حملے کیے، جن کا نشانہ پنجاب کے سیالکوٹ، شکرگڑھ، مریدکے، بہاولپور اور آزاد کشمیر کے مظفرآباد و کوٹلی کے علاقے بنے۔"

"ان حملوں میں جان بوجھ کر شہری آبادی، مساجد اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارت نے جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر معصوم شہریوں کو شہید کیا، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل تھے، جب کہ نیلم-جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ پر حملہ بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔"

اعلامیے کے مطابق "بھارتی جارحیت سے نہ صرف پاکستانی شہری متاثر ہوئے بلکہ برادر خلیجی ممالک کی فضائی پروازیں بھی شدید خطرے میں آگئیں، جو ہزاروں مسافروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنیں۔"

قومی سلامتی کمیٹی نے اعلان کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ دشمن کو منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔ پاک فوج کو اس حوالے سے مکمل اور مؤثر ردعمل کے لیے مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

فورم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی غیرقانونی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کا نوٹس لے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر جوابدہ ٹھہرائے۔

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ "پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی خودمختاری، قومی وقار اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں