بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکول کے بچوں کو لے کر جانے والی بس پر خودکش حملے کے نتیجے میں تین بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق، جب کہ 38 زخمی ہو گئے۔
ڈپٹی کمشنر خضدار نے کہا ہے کہ دھماکے میں 38 بچے زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو سی ایم ایچ خضدار منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
علاوہ ازیں پولیس حکام کے مطابق دھماکے سے بس کو شدید نقصان پہنچا ہے تاہم پولیس و فورسز کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، مزید معلومات سامنے آنے پر میڈیا اور عوام سے شیئر کی جائیں گی۔
بھارتی پراکسیز نے حملہ کرایا: آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے علاقے خضدار میں سکول بس پر دہشت گرد حملہ کیا گیا، حملے میں سکول کے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین بچوں سمیت پانچ افراد جان سے گئے۔ دہشت گرد حملے میں متعدد بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خضدار میں بزدلانہ حملے کی منصوبہ بندی دہشت گرد ریاست بھارت میں کی گئی، بلوچستان میں بھارتی پراکسیز نے اس بھیانک منصوبے کو انجام دیا، میدان جنگ میں ناکامی پر بھارت بلوچستان اور کے پی میں پراکسیز سے دہشتگردی کروا رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کا استعمال بھارتی سیاسی قیادت کی اخلاقی پستی اور بنیادی انسانی اقدار کی نفی کا مظہر ہے، اس بزدلانہ بھارتی سرپرستی میں کیے گئے حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے اس مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا، پاک افواج پوری پاکستانی قوم کی حمایت سے بھارتی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کا ہر پہلو سے قلع قمع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
خضدار کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر دور وسطی بلوچستان میں واقع ہے جہاں بلوچ مسلح عسکریت پسند تنظیمیں سرگرم رہی ہیں۔
تاہم اسی ہفتے خضدار کے علاقے نال کے قریب لیویز کی چوکی پر حملے میں چار اہلکاروں کو قتل کرنے کے ایک واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔ تازہ حملے کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی۔
سکول بس حملے پر وزیر اعظم کا ردعمل
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے خضدار میں سکول بس پر بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کا سکول بس میں معصوم بچوں پر حملہ ان کی بلوچستان میں تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دہشت گردوں نے سکول بس پر حملہ کر کے درندگی کی تمام حدیں پار کر لیں، بھارتی سرپرستی میں پلنے والے ان دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔
وزیراعظم نے دہشت گرد حملے میں معصوم بچوں اور اساتذہ کی شہادت پر رنج و ملال، بچوں کے والدین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے فوری تعین اور انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے خضدار میں زخمی ہونے والے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارتی حمایت یافتہ ان دہشت گردوں کے بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی، پاکستان کے مستقبل، ننھے و معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بننے والے ان معصوم بچوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، سکیورٹی فورسز اور حکومت پاکستان ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم اور متحد ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی مذمت
ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی نے خضدار دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں، ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
محسن نقوی نے کہا ہے کہ دشمن نے بربریت کا مظاہرہ کر کے معصوم بچوں پر حملہ کیا، سکول بس پر حملہ دشمن کی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش ہے، قوم کے اتحاد سے ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ جاں بحق بچوں کے سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری تمام تر ہمدردیاں جاں بحق بچوں کے خاندانوں اور زخمیوں کے ساتھ ہیں، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔