ایرانی حملوں پرٹرمپ کےخلاف فوجداری مقدمہ درج کرنےکی درخواست:پاکستان کی عدالت نے سماعت کی

درخواست قابلِ سماعت ہے: درخواست گذار کا اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی ایک مقامی عدالت نے منگل کے روز ایک درخواست کی سماعت کی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کا حکم دینے پر فوجداری مقدمے کے اندراج کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں درخواست گذار نے دعویٰ کیا کہ اس سے پاکستانی شہریوں اور وکلاء سمیت لاکھوں افراد کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

درخواست گذار سے کیس کے تمام ضروری تقاضوں سے متعلق استفسار کرتے ہوئے عدالت نے سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔

یہ درخواست ایڈووکیٹ جمشید علی خواجہ نے دائر کی تھی جو انٹرنیشنل لائرز فورم کے سینکڑوں اراکین کی نمائندگی کے دعویدار ہیں۔ ان کے وکیل جعفر عباس جعفری نے دلیل دی کہ 21 اور 22 جون کو امریکی بی ٹو بمبار طیاروں سے ہونے والے حملے سے پاکستان میں وسیع پیمانے پر خوف و ہراس اور نفسیاتی صدمہ پیدا ہوا۔

عدالت کو اس دائرہ اختیار کا حوالہ دیتے ہوئے جہاں ان کے مؤکل مقدمہ درج کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، جعفری نے بتایا، "جہاں جرم ہوا اور جہاں اس کے اثرات محسوس ہوئے، وہاں مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ اس کے اثرات ملک کے طول و عرض بشمول ڈاکس تھانے کی حدود میں محسوس ہوئے۔"

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی ساحلی پٹی کے قریب امریکی بحریہ کی مشتبہ سرگرمیوں سے عوام میں خوف بڑھ گیا۔

انہوں نے بات جاری رکھی، "یہ عمل ذہنی تناؤ کا باعث بنا اور اس نے لاکھوں لوگوں بشمول میرے مؤکل کو دہشت زدہ کر دیا۔"

تاہم عدالت نے دائرۂ اختیار پر سوالات اٹھائے۔

جج نے کہا، "یہ پاکستان کی حدود سے باہر ہوا ہے۔ اگر دنیا میں کہیں بھی کچھ ہوتا ہے تو کیا پاکستانی عدالتوں کو ایسا ہر مقدمہ سننا چاہیے؟"

عدالت نے درخواست گذار کو مقدمے کے قابلِ سماعت ہونے کے متعلق مزید دلائل دینے کے لیے مہلت دے دی۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے سینئر وکیل شوکت حیات نے کہا، درخواست کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، "ڈونلڈ ٹرمپ ایک ملک کے صدر ہیں اور پاکستانی شہریوں یا وکلاء کو براہِ راست کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کل اگر کوئی پاکستانی وزیرِ اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے امریکی عدالت سے رجوع کرے تو کیا امریکی عدالت ہمارے وزیرِ اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے گی؟"

ایک اور سینئر وکیل علی احمد پال نے کہا، لگتا ہے کہ درخواست کا مقصد توجہ طلب کرنا ہے۔

انہوں نے دلیل دی، "اس طرح کی شکایات کے لیے صحیح فورم بین الاقوامی فوجداری عدالت ہو سکتی ہے۔ پاکستانی عدالتوں کے پاس ایسے مقدمات کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے۔"

تاہم جعفری نے کیس کا دفاع کیا

"اس عمل ذہنی دباؤ کا باعث بنا اور لاکھوں لوگوں کو دہشت زدہ کر دیا جن میں میرے مؤکل بھی شامل ہیں اس لیے یہ پاکستان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔" انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عدالت اس درخواست قبول کر لے گی۔

چوبیس جون کو دائر کردہ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایک باضابطہ شکایت (ایف آئی آر) کا اندراج کیا جائے اور اس کے دائر ہونے تک قانونی اور مالی مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں