اسلامی تعاون تنظیم کی غزہ کی جامعات کے صدور کو اسلام آباد اجلاس میں شرکت کی دعوت
طلباء کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے تعاون کے طریقہ کار پر تبادلۂ خیال
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ادارہ کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اتوار کو غزہ کی بڑی جامعات کے صدور کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ یہ دعوت اس امید پر دی گئی ہے کہ ان کا دورہ جنگ زدہ علاقے میں طلباء کے تعلیمی تسلسل کا مسئلہ حل کرنے کا باعث بنے گا۔
او آئی سی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) نے غزہ جنگ کے دوران فلسطینی طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں سہولت فراہم کی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم میں اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 57,000 افراد ہلاک اور سینکڑوں سکول تباہ ہوچکے ہیں جس سے علاقے میں تعلیم کے شعبے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
او آئی سی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا، چوہدری نے غزہ کی تمام بڑی یونیورسٹیوں کے صدور سے ایک اعلیٰ سطحی ورچوئل میٹنگ کی تاکہ خطے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے پر جنگ کے اثرات کے بارے میں "اجتماعی انسانی اور علمی کوششوں" کو منظم کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے، "اجلاس کے دوران کوآرڈینیٹر جنرل نے غزہ کی یونیورسٹیوں کے صدور کو جو اس وقت خطے سے باہر ہیں، اسلام آباد کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت دی۔ اس دورے کا مقصد کلیدی متعلقہ اداروں سے براہِ راست بات چیت کو فروغ دینا اور ان غیر معمولی حالات میں تعلیمی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے باہمی تعاون کا حل تلاش کرنا ہے۔"
جیسا کہ اسرائیل کی جنگ جاری ہے تو چودھری نے فلسطین کے لوگوں بالخصوص ماہرینِ تعلیم، طلباء اور محققین کے لیے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
"غزہ کے لوگوں کے مصائب ناقابلِ برداشت ہیں، پھر بھی ان کا حوصلہ متأثر کن ہے،" چودھری نے کامسٹیک کے حوالے سے کہا۔
کامسٹیک نے کہا کہ اجلاس کے دوران یونیورسٹی کے نمائندگان نے ایک پریزنٹیشن دی جس میں بے گھر طلباء کے لیے طبی تربیت کی سہولت، صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے استعدادِ کار بڑھانے، سائنسی اشاعت تک رسائی اور جنگ کے نفسیاتی اثرات پر تحقیق میں معاونت کے لیے اہم تجاویز پر روشنی ڈالی۔
بیان میں مزید کہا گیا، "شرکاء نے ورچوئل لرننگ پلیٹ فارمز اور فاصلاتی لیبارٹری کی سہولیات کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا کیونکہ یونیورسٹی کے کئی کیمپس تباہ ہو چکے ہیں۔"
ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (اے پی ایس یو پی) اور کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کی رکن یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر کامسٹیک نے 2021 میں ایک پروگرام شروع کیا جس میں فلسطینی طلباء کو 500 مکمل مالی معاونت والے سکالرشپس اور فیلو شپس کی پیشکش کی گئی۔
یہ تعداد 2023 میں بڑھا کر 5000 سکالر شپس تک کر دی گئی۔ اس پروگرام کے تحت کئی فلسطینی طلباء پہلے ہی پاکستان آ چکے ہیں اور فل ڈگری پروگرامز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ مزید طلباء کو یہاں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔