پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے افغان مہاجرین کی ملک بدری روکنے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کا فیصلہ ہر صورت نافذ کیا جائے گا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتے کے روز صحافیوں کو بتایا کہ وطن واپسی کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اس عمل میں کسی قسم کا "تعطل" نہیں ہو گا۔ یہ بات افغان خبر رساں ایجنسی "خاما پریس" نے بتائی۔
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے اس سے قبل اسلام آباد پر زور دیا تھا کہ وہ ملک بدری کا عمل روک دے، کیونکہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے باعث ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔
اسی طرح افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے بھی پاکستان سے بے دخلی کے عمل کو مؤخر کرنے کی اپیل کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اس اقدام سے کمزور خاندان ایک سنگین انسانی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس کے جواب میں وزارتِ خارجہ پاکستان نے کہا کہ ملک بدری کا عمل جاری رہے گا، تاہم ان افغان شہریوں کے لیے "لبرل ویزا پالیسی" برقرار ہے جو قانونی طریقے سے داخل ہونا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے یکم ستمبر 2025 کی حتمی تاریخ مقرر کر رکھی تھی، تاکہ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور وہ افراد جن کے عارضی قیام کے اجازت نامے ختم ہو چکے ہیں، رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیں۔