پاکستان نے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل کے حماس رہنماؤں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ’پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے اور اپنی ذاتی حیثیت میں بھی، میں دوحہ میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے رہائشی علاقے پر کی گئی ’غیر قانونی اور گھناؤنی بمباری‘ کی شدید مذمت کرتا ہوں، جس نے بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔
’اس مشکل وقت میں ہماری دلی ہمدردیاں اور یکجہتی امیرِ قطر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطری شاہی خاندان اور قطر کے عوام کے ساتھ ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’یہ اسرائیلی جارحیت بالکل ناجائز ہے، قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایک نہایت خطرناک اشتعال انگیزی ہے جو خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
’پاکستان ریاستِ قطر کے ساتھ پختہ طور پر کھڑا ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا ’شہریوں اور خودمختار ریاست کی سرزمین کو نشانہ بنانا جارحیت کا ایسا اقدام ہے جس کا کسی طور دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ان سنگین حالات میں ریاستِ قطر اور اس کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘
آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد اسرائیلی چینل 14 نے ایک سینیئر اسرائیلی عہدے دار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے قطر میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا ہے، جن میں خلیل الحیہ اور ظہیر جبارین شامل ہیں اور نتائج کے منتظر ہیں۔‘
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے دوحہ حملوں کا حکم ایک روز قبل یروشلم میں ہونے والی اُس فائرنگ کے بعد دیا جس کی ذمہ داری فلسطینی تنظیم نے قبول کی تھی۔
قدس پریس کے مطابق حماس کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ تنظیم کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت خلیل الحیہ کر رہے تھے، اسرائیل کے اس فضائی حملے میں محفوظ رہا۔