پاکستان اور امارات کے درمیان انسداد منشیات کے لیے دوطرفہ تعاون پر اتفاق کرتے ہوئے دونوں نے اس مقصد کے لیے خصوصی نمائندے مقرر کر دیے ہیں
اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے علاوہ مشترکہ آپریشنز پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ دو طرفہ تعاون کے ذریعے اس چیلنج سے نمٹا جا سکے۔ یہ بات پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے جمعرات کے روز بتائی گئی ںے۔
وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور عرب امارات کے انسداد منشیات قومی ادارے کے سربراہ شیخ زاید بن حماد بن حمدان النہیان کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے ائی ہے۔
یاد رہے ہاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان ماہ اپریل کے دوران اس سلسلے میں علاقائی بنیادوں پر ایک اجلاس میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اپریل میں ہونے والے اجلاس کی میزانی پاکستان نے کی تھی۔
اس موقع پر خلیجی ریاستوں نے ہیروئن، مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ خطے بھر میں ہیروئن، مصنوعی منشیات کی سمگلنگ پر مل کر قابو پایا جا سکے۔
پاکستان کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے انسداد منشیات کے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے، پاکستان نے ڈائریکٹر جنرل 'اے این ایف' میجر جنرل عبدالمعید کو خصوصی نمائندہ مقرر کیا، جبکہ یو اے ای نے بریگیڈیئر طاہر غریب کو خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے متحدہ عرب امارات کے انسداد منشیات کے وفاقی ادارے کے قیام کا خیرمقدم کیا اور شیخ زید کو اس کا پہلا چیئرمین بننے پر مبارکباد دی اور اسے دو طرفہ تعاون میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منشیات کی گھناؤنی تجارت میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔