"بھارت افغانستان سے پاکستان کے خلاف کم شدت کی جنگ لڑ رہا ہے اور نئی دہلی مئی میں اسلام آباد کے ساتھ ہونے والی چار روزہ جھڑپ میں شکست کے بعد حساب چکتا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔" ان خیالات کا اظہار پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے العربیہ انگلش کے فلیگ شپ نیوز شو "کاونٹر پوائنٹس" خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
العربیہ "کاونٹر پوائنٹس" کی میزبان میلنڈا نوسیفورا کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی مشرقی یا مغربی سرحد، یعنی بھارت یا افغانستان کے ساتھ کسی قسم کی خلاف ورزی ہوئی تو پاکستان مؤثر جواب دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان نے بھارت کا مہرہ یا پراکسی بننے کا انتخاب کیا ہے۔!--EndFragment>
جب خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ کیا وہ افغانستان کے ساتھ وسیع یا مکمل جنگ کا خدشہ دیکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا میں قیاس آرائی نہیں کروں گا کہ مکمل جنگ ہو سکتی ہے، لیکن سرحد پر حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ ضرور ہے، اور اگر ہمیں اس بات کے ثبوت ملے کہ سرحد پار سے مداخلت ہو رہی ہے، تو ہم جوابی کارروائی کریں گے، ہم اندر جا کر حساب برابر کریں گے۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں شروع ہوئیں تو اس وقت افغان وزیرِ خارجہ بھارتی دارالحکومت کے دورے پر تھے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان ’بھارتی پراکسی‘ بن چکا ہے، اور بھارت دراصل افغان سرزمین سے ہمارے خلاف کم شدت کی جنگ لڑ رہا ہے اور پچھلی جھڑپ میں ہونے والی اپنی شکست کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے، تقریباً پانچ یا چھ ماہ پہلے، جب وہ بری طرح ہارے تھے۔ ان کے سات طیارے گرائے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے کئی مواقع پر (حتیٰ کہ کل بھی) اس بات کا ذکر کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپ میں سات برانڈ نیو خوبصورت طیارے تباہ ہوئے تھے۔!--StartFragment>
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مئی میں ہونے والا تصادم مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا، جس کا الزام نئی دہلی نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دیا تھا، اسلام آباد نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
نئی دہلی نے سات مئی کو پنجاب اور آزاد کشمیر میں مہلک فضائی حملے کیے تھے، چار روزہ تصادم کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد 10 مئی کو امریکی مداخلت سے جنگ بندی عمل میں آئی، پاکستان نے ابتدا میں پانچ بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جسے بعد میں بڑھا کر سات کر دیا گیا تھا۔
!--EndFragment>
انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس کیا ثبوت ہیں، جن کی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ نئی دہلی دوحہ اور ترکی میں طالبان نمائندوں سے مذاکرات کے دوران “پتلی تماشا” چلا رہا تھا؟ اس پر خواجہ آصف نے جواب دیا کہ جب ثبوت دکھانے یا پیش کرنے کی بات آئے گی تو ہم ضرور کریں گے، ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔
انٹرویو کے دوران جب خواجہ آصف نے ایک بار پھر مئی کے واقعے کا حوالہ افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں دیا تو میزبان میلنڈا نوسیفورا نے کہا کہ آپ کا یہ کہنا کہ بھارت کسی دوسرے ملک کو استعمال کر کے بدلہ لینا چاہتا ہے، ایک جرات مندانہ بیان ہے۔ اس پر خواجہ آصف نے جواب دیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ بیان دوبارہ دہرا دوں؟ میں بلا جھجھک ایسا کر سکتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کابل اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے رہے ہیں، چاہے دونوں ملکوں میں حکومتیں بدلتی رہیں، دونوں ممالک کے تعلقات میں تسلسل ہے، اور یہ ہمیشہ پاکستان کے نقصان میں رہے ہیں۔
غزہ امن فورس میں پاکستان کی شرکت
"کیا پاکستان غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کا حصہ بننے کے لیے فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے؟" اس سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے بتایا کہ ہم پہلے ہی ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت ہوئی تو ہم امن، استحکام اور حالات کی بحالی کے لیے اس فورس کا حصہ بننے کو تیار ہیں، پاکستان ہمیشہ اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار رہے گا۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر یہ بات چل رہی ہے کہ پاکستان نے کوئٹہ کے قریب ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا ہے، تو وزیرِ دفاع نے جواب دیا کہ یہ محض قیاس آرائی ہے۔