سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کی معطلی کے خلاف پاکستان کا اقوام متحدہ سے رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ میں ایک درخواست دائر کی ہے کہ بھارت کو سندھ طاس آبی معاہدے پر عمل کے لیے کہا جائے۔ جس نے ماہ اپریل سے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ ورلڈ بنک کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان عمل میں آیا تھا۔ جس کے تحت دحریاؤں کی 1960 میں تقسیم کی گئی تھی۔

انڈس واٹر ٹریٹی دو جوہری ملکوں کے درمیان نہ صرف دریاؤں کی تقسیم کرتا ہے بلکہ ان دریاؤں کے پانی کے استعمال کے لیے دونوں کے حقوق کا تعین کرتا ہے اور اس سلسلے میں ایک کمیشن کے طور پر معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ تاہم ماہ اپریل میں بھارت نے یکطرفہ طور پر اس پر عمل روک دیا اور اس کا عذر یہ پیش کیا کہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے سیاحوں پر حملہ پاکستان نے کرایا ہے۔

پاکستان بھارت کے اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور پاکستان نے اس سلسلے میں بھارت کو مشترکہ تحقیقات کرانے اور دودھ کا دودھ اور پانی پانی کرنے کے لیے بھی پیشکش کی تھی لیکن بھارت نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔

ماہ اگست میں بین الاقوامی عدالت برائے ثالثی نے ایک حکم جاری کیا جس کے تحت سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح کی گئی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مسلح تصادم کے ماحولیاتی اثرات سامنے آئے ہیں۔ جبکہ لاکھوں ٹنوں کے حساب سے بارودی باقیات نے پانی کو زہریلا کیا ہے، جنگلات کو تباہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے انتظامی معاملات میں مشکلات پیش آرہی ہیں، نقل مکانی میں تیزی آئی ہے اور انسانی بحران گہرا ہوا ہے۔

زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بھارت مشترکہ وسائل کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جس کی ایک مثال اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا ہے۔ جیسا کہ بھارت نے اس سال کے شروع میں یہ کیا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا ثالثی عدالت نے 2025 میں سندھ طاس معاہدے کی تجدید کی تھی اور اس سلسلے میں پاکستان کے مؤقف کو قبول کیا تھا اور ساتھ یہ کہا تھا کہ مسائل کو قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے حل کرنا چاہیے۔ اس لیے ہم توقع کرتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کا احترام کیا جائے گا اور نہروں کے قیام سے اس کی نارمل فنکشنگ کا آغاز ہوگا۔

یاد رہے سندھ طاس معاہدہ 3 دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں کا مکمل اختیار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں