پاکستان کا سلامتی کونسل میں بیان: 'ٹی ٹی پی' کو افغان حکام مدد فراہم کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیم 'ٹی ٹی پی' کی پاکستان میں دہشت گردی کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے اور کہا ہے کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے ٹی ٹی پی کو افغانستان کی ڈیفیکٹو اتھارٹیز کی طرف سے حمایت حاصل ہے۔

یہ بات ڈنمارک کی نائب مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کے سامنے کہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ساتھ اس سلسلے میں رابطہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے ماحول میں کیا گیا ہے جو ٹی ٹی پی نے پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبرپختونخوا سمیت بعض دیگر علاقوں میں تیز کر رکھی ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا افغانستان کی سرحد سے جڑا ہوا ہے۔

ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا اہم ترین ہدف پاکستان کے سیکیورٹی ادارے، قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومتی حکام اور بے گناہ عام شہر شامل ہیں۔

پاکستان کی طرف سے افغانستان کو بار بار اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کر رہی ہے اور یہ ٹی ٹی پی بھارت سے تربیت اور فنڈز حاصل کرتی ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی دونوں پاکستان کے اس مؤقف کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

ڈنمارک کی نائب مندوب ساندرا جنسین لینڈی نے سیکیورٹی کونسل کو بتایا کہ ٹی ٹی پی کی وجہ سے علاقے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی تقریباً 6000 جنگجووں پر مشتمل ہے اور اسے افغانستان کی ڈیفیکٹو اتھارٹیز کی طرف سے لاجسٹکس سمیت دوسری مؤثر حمایت بھی حاصل رہی۔

انہوں نے سلامتی کونسل کو اپنی بریفنگ کے دوران بتایا اس جنگجووں کے گروپ نے پاکستان کے خلاف متعدد بڑی دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں اور یہ کارروائیاں افغان سرزمین سے کی گئی ہیں اور ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ڈنمارک کی نائب مندوب نے کہا ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں سنہ 2000 کے آخر سے متحرک ہے اور اس نے نومبر 2022 سے ان کارروائیوں کو مزید تیز کیا ہے۔

خیال رہے یہ گروپ اپنے آپ کو افغان طالبان سے الگ ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ پاکستانی حکام اسے افغان حکام ہی کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ البتہ کابل کی طرف سے اس امر کی تردید کی جاتی ہے۔

پچھلے ماہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر لمبی سرحد پر جھڑپوں کی ایک لہر شروع ہوئی۔ تاہم بعد ازاں دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں 19 اکتوبر سے جنگ بندی ہوگئی۔ اس جنگ بندی کے باوجود کشیدگی کی سطح دونوں پڑوسیوں کے درمیان کافی اونچی ہے۔ جیسا کہ دہشت گردوں نے افغانستان سے جڑے علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔


لینڈی نے یہ بھی کہا کہ داعش اور القاعدہ سے وابستہ لوگ مسلسل اپنا پراپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور انہیں شان و شوکت دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی بھرتیاں کرتے ہیں اور ان کے لیے فنڈز کا بندوبست کرتے ہیں۔

ڈنمارک کی مندوب نے مطالبہ کیا کہ ان کارروائیوں کو روکنے کے لیے کثیر الجہتی تعاون کی بنیاد پر اس کا توڑ کرنے کی ضرورت کے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی خطوں میں غیر ملکی دہشت گرد تحریکیں جاری ہیں۔ خاص طور پر شام ، افریقہ اور وسط ایشیائی ریاستوں میں ان کی موجودگی اقوام متحدہ کے ممبر ملکوں کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے۔ اس لیے کثیر الجہتی تعاون کے ساتھ ساتھ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں ہوشیار رہنے کی بھی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں