پاکستان: عالمی برادری مسجد اقصیٰ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعہ کے روز عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ اور مغربی کنارے کے حوالے سے جاری اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے اور اسرائیلی جارحانہ اقدامات کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔

وزارت خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا یے کہ مسجد اقصیٰ و دیگر مقدس مقامات کا تقدس اور فلسطینی عوام اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے سخت خطرے میں ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کا یہ بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی فوج نے دو نوعمر فلسطینیوں کو پچھلی رات ایک جارحانہ کارروائی میں قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے نزدیک پیش آیا۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں اسرائیلی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور آئے روز کسی نہ کسی علاقے سے فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور ان کے گھروں کی مسماری کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

دوسری جانب غزہ میں 10 اکتوبر سے جنگ بندی جاری ہے اور بظاہر وہاں فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں کمی ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود اسرائیلی فوج نے 6 ہفتوں کے دوران جنگ بندی کے باجود غزہ میں 312 فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔ تاہم یہ تعداد جنگ بندی سے پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔

مغربی کنارے میں اس عرصے میں اسرائیلی فوج کی جارحیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل 7 اکتوبر 2023 سے اب تک تقریبا ایک ہزار فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے قتل کیا ہے اور ابھی اس سلسلے میں مغربی کنارے کی حد تک کمی نہیں نظر آرہی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری ان جارحانہ واقعات کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ کہ اسرائیلی فوج نے نہ صرف فلسطینی عوام کے خلاف قتل و غارتگری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے بلکہ مسجد اقصیٰ کی توہین کا بھی ارتکاب کرتی رہتی ہے اور اس سلسلے میں طے شدہ قواعد کو نظر انداز کرتی ہے۔

یاد رہے پاکستان ان آٹھ مسلمان اور عرب ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے غزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے سے اتفاق کیا اور اس کے بعد 10 اکتوبر سے غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوگئی۔ پاکستان کے حوالے سے یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہتی ہیں کہ اس کے فوجی دستے غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ ہوں گے۔ تاہم پاکستان میں اس سلسلے میں ابھی تک سرکاری طور پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور یہودی آبادکاروں کی طرف سے جاری خلاف ورزیوں کا مؤثر نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے جن کی اسرائیلی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

یاد رہے انہی دنوں میں یہودی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں اپنی تلمودی رسومات کی انجام دہی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں