بین الپارلیمانی یونین کی سماعت: پاکستان نے تنازعات کے پرامن حل، قانون کے احترام پر زور دیا
امن، پائیدار ترقی، جمہوری حکمرانی اور مؤثر کثیرالجہتی کو آگے بڑھانے پر بات کی گئی
پاکستان نے جمعہ کے روز بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی سالانہ سماعت میں بین الاقوامی قانون کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل میں بامعنی پیش رفت کا مطالبہ کیا جو اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہو۔
بارہ اور تیرہ فروری کو ہونے والی آئی پی یو 2026 کی سالانہ سماعت "پارلیمان اور اقوامِ متحدہ: مشترکہ بہتری، لوگوں کے لیے فراہمی" کے عنوان سے منعقد ہوئی جس میں امن، پائیدار ترقی، جمہوری حکمرانی اور مؤثر کثیرالجہتی پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کے معاہدے اور اصلاح کی کوششوں میں شراکت شامل ہے۔
سینیٹ آف پاکستان کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی جو چھے رکنی پارلیمانی وفد کی قیادت کر رہے تھے، نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں آئی پی یو کی سالانہ سماعت میں قومی بیان دیا جس میں اقوامِ متحدہ کی شہرت کو بہتر کرنے کے لیے جمہوری، شفاف اور جوابدہ فیصلہ سازی پر زور دیا گیا۔
سینیٹ نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "بین الاقوامی وعدوں کو قومی سطح پر اپنانے کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ ناگزیر شراکت دار ہیں۔ اصلاح ضروری ہے لیکن 'اصلاح سب کے لیے اور استحقاق کسی کے لیے نہیں' ہونا چاہیے۔"
سینیٹ کے چیئرمین نے کثیرالجہتی تعاون کی بنیاد کے طور پر اقوامِ متحدہ کی مسلسل اہمیت کو نمایاں کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تنظیم کی عالمی رکنیت اور منشور پر مبنی مینڈیٹ عالمی امن و سلامتی کو فروغ دینے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا، "ماحولیاتی تبدیلی، پرتشدد تنازعات اور بڑھتی ہوئی سماجی و اقتصادی عدم مساوات سمیت تہ در تہ بحران اقوامِ متحدہ کی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت کو مسلسل چیلنج کرتے ہیں۔ یہ دباؤ غیر متناسب طور پر غیر ترقی یافتہ ممالک کو متأثر اور مشکل سے حاصل کردہ ترقیاتی فوائد ختم کر دیتے ہیں۔"
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی قوم تنہا ان منظم چیلنجز سے نمٹ نہیں سکتی اور اقوامِ متحدہ پر اعتماد کی تجدید کا مطالبہ کیا جس کی بنیادیں مضبوط کثیر الجہتی تعاون میں ہوں اور اس کی مناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی اعانت ہو تاکہ تنظیم اپنا مینڈیٹ مؤثر طریقے سے پورا کر سکے۔