پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے انتہائی خطرناک نتائج ہوں کے: فیلڈ مارشل کی دشمن کو وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو بھارت کے خلاف ’معرکہ حق‘ کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ ہوں گے۔

معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں پر وقار یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ آج کا دن پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل دشمن نے پاکستان کے قومی عزم کو کمزور کرنے کی کوشش کی، تاہم مسلح افواج نے بھرپور اور مؤثر جواب دے کر دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں تھی بلکہ یہ دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن مقابلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے 10 مئی تک دشمن نے پاکستان کے قومی وقار کو آزمانے کی ناکام کوشش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا، ماضی میں بھی دشمن پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا رہا، تاہم معرکۂ حق میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا اور دشمن کو ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

چیف آف آرمڈ فورسز کے مطابق ہندوستان کا مقصد پاکستان کو عسکری دباؤ اور سفارتی تنہائی کا شکار بنا کر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنا ہے، لیکن دشمن کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نہ پہلے طاقت کے دباؤ میں آئیں اور نہ آئندہ کبھی آئیں گی۔

اس سے قبل مسلح افواج کے سربراہان نے جی ایچ کیو میں یادگار شہداء پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو سلامی پیش کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق قوم کی حمایت سے مسلح افواج ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ معرکۂ حق میں کامیابی افواجِ پاکستان کی تیاری، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے، جبکہ اس کامیابی نے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔

تقریب میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف بھی شریک ہوئے۔ مسلح افواج کے سربراہان کی جانب سے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی جبکہ تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے سلامی پیش کی۔

علاوہ ازیں بھارتی جارحیت کے خلاف پاک فوج کے آپریشن بنیان مرصوص معرکہ حق میں تاریخی فتح پر آج ملک بھر میں یوم تشکر بھی منایا جارہا ہے۔

معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور جراتمندانہ فیصلوں کو معرکہ حق کی کامیابی میں کلیدی قرار دیا جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی قوم کو نہ مرعوب کیا جا سکتا ہے نہ جھکایا جا سکتا ہے۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک فضائیہ کے سربراہ اور شاہینوں کی غیر معمولی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

معرکہ حق کی مناسبت سے جاری پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قوم شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے، شہداء فولادی دیوار بن کر وطن کے دفاع میں ڈٹے رہے۔

یاد رہے کہ معرکہ حق حالیہ دہائیوں میں دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے سنگین فوجی کشیدگی میں سے ایک تھا۔

یہ بحران 22 اپریل، 2025 کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے حملے کے بعد شروع ہوا، جہاں مسلح افراد نے دو درجن سے زائد سیاحوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا، جسے اسلام آباد نے مسترد کرتے ہوئے ایک غیر جانب دار اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

سفارتی تعلقات تیزی سے بگڑ گئے۔ سرحدیں سخت کر دی گئیں، ویزے معطل کر دیے گئے اور دونوں اطراف فوجی نقل و حرکت میں تیزی آ گئی۔

چھ اور سات مئی کی رات انڈیا نے پاکستان کے اندر متعدد مقامات پر حملے کیے۔

پاکستانی حکام نے کہا کہ ان حملوں نے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جن میں رہائشی مکانات اور مساجد شامل تھے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری اموات ہوئیں۔

پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے ذریعے جواب دیا، جو فضائی، بری، بحری، سائبر اور انفارمیشن وار فیئر صلاحیتوں پر مشتمل مربوط فوجی ردعمل کا کوڈ نام تھا۔

پاکستانی حکام نے کہا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں بھارت کے متعدد جنگی طیارے مار گرائے گئے، جن میں رافیل طیارے بھی شامل تھے اور انڈین فوجی تنصیبات پر جوابی حملے کیے گئے۔

بھارت نے بعد ازاں ڈرون مداخلت اور فوجی اہداف پر میزائل حملوں کے ذریعے تنازعے کو وسعت دی، جس کے بعد بین الاقوامی سفارتی مداخلت سے چار دن بعد جنگ بندی عمل میں آئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں