پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں نے پولیو ٹیموں کے خلاف اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے پیر کے روز ایسی ہی ایک ٹیم پر حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ پولیو مہم کا پہلا روز تھا۔ حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔
پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جن میں دیگر کئی پرانے عوارض کی طرح ابھی تک پولیو کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ لیکن عسکریت پسند یہ سمجھتے ہیں کہ پولیو کے قطرے مقامی آبادی کے لیے مفید نہیں بلکہ خطرناک ہیں۔ اس لیے سالہا سال سے حکومت کو پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار تعینات کرنا پڑ رہے ہیں۔ اب یہ پولیس اہلکار ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا ہدف بن گئے ہیں۔
پیر کے روز دہشت گردوں نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پولیو ٹیم کی حفاظت کی ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دہشت گرد موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ سیکیورٹی سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے دو مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں۔
حکام نے علاوہ ازیں کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں بھی پولیس اہلکاروں پر ایسے ہی حملے کیے ہیں۔ جہاں پولیس اہلکار اپنی معمول کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔
پاکستان کے 79 اضلاع میں پولیو ٹیموں کو خصوصی حفاظتی انتظامات کے تحت ایک کروڑ نوے لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے ہیں۔ یہ مہم ہفتہ بھر جاری رہے گی۔