'حج کر کے واپس پاکستان پہنچ گئے مگر دل اب بھی حرمین میں اٹکا ہوا ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

حجاج کرام کو وطن واپس لانے والی پہلی پرواز پیر کے روز اسلام آباد ایئرپورٹ پر اتری تو ایک جذباتی منظر تھا۔ ایک تشکر تھا، شادمانی تھی۔ استقبال کرنے والے خوش تھے کہ ان کے پیارے واپس آئے تھے اور حج کرنے والوں کے لیے اس اہم فریضے کی ادائیگی کی سعادت شکر کے جذبات کا باعث تھی۔

سعودی عرب سے پہلی واپس آنے والی پرواز پر آنے والے حاجیوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور تجربات کو اپنے اپنے انداز سے پیش کیا ہے۔ مگر یادوں کا ایک خزانہ ہے کہ ہر کوئی ساتھ لایا ہے۔ کسی کی آنکھوں میں آج بھی کعبہ کو پہلی بار دیکھنے کا منفرد منظر سمایا ہوا ہے اور کوئی روضہ رسول کی جالیوں کو چھو کر جانے والے درود و سلام کو یادگار بنائے ہوئے ہوئے۔

کسی کو ریاض الجنہ کے نوافل اور دعائیں بار بار یاد آتی ہیں، کوئی حجر اسود کا بوسہ لینے کو بھول نہیں پا رہا ہے۔ گویا ان حاجیوں کے دل ہیں کہ آج بھی مکے اور مدینے کی پاک گلیوں میں دھڑک رہے ہیں۔ آنکھوں کی نمی جو مکے اور مدینے کی دعاؤں کا خاصہ رہی آج بھی ایمان کی تراوت کا سبب ہے۔ عرفات، مزدلفہ اور منیٰ ۔ غار حرا اور غار ثور مسجد قبا اور قبلتین۔ نہ جانے کیا کیا ۔ 'منم محو خیال او نمی دانم کجا رفتم ' والی کیفیت ہے۔

اسلام آباد ائیر پورٹ پر اترنے والی ایک حاجیہ رخسانہ ذوالفقار بھی ہیں۔ ان کی زبان یادوں اور جذبات کی ترجمانی سے قاصر ہے۔ بس وہ یہ کہہ پائیں میں رب کعبہ کے گھر میں کعبہ کے سامنے کھڑی تھی اور بس آنکھوں میں آنسوؤں کی ایک جھڑی تھی۔ دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہ تھا۔ میں بس کعبہ کو دیکھتی جارہی تھی۔ گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں والی کیفیت تھی۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے محمد الیاس بھی اسی پہلی پرواز سے واپس پہنچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں اپنے جذبات اور احساسات کو بیان نہیں کر سکتا۔ وہ کچھ اور ہی کیفیت تھی۔ محد الیاس کا یہ حج ادا کرنے کا پہلا تجربہ تھا ، مگر وقیع اور غیر معمولی۔ جس کا تصور تھا نہ کیا جا سکتا ہے۔

حج دین اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ انہیں پانچ ارکان پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ یہ اس مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ پاکستان سے بھی ہر سال لاکھوں مسلمان اس فرض کی ادائیگی کے آرزومند ہوتے ہیں۔ تاہم طے شدہ کوٹے کے مطابق حج 2026 کے لیے پاکستان سے لگ بھگ 179000 عازمین حج گئے تھے۔

حج کی ادائیگی کے بعد پیر کے روز ان پاکستانی حاجیوں میں سے اسلام آباد کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر اترنے والے حاجیوں کا سرکاری استقبال وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کیا۔

پہلی واپس آئی اس سعودی عرب کی فضائی کمپنی کی پرواز کے ذریعے کل 370 حاجی وطن واپس پہنچے۔ بہت سے حاجیوں نے حج انتظامات کو اپنی توقع سے کہیں بہتر پایا اور سعودی عرب کے حکام کے حسن انتظام اور تجربے کی تعریف کی اور کہا حج کے انتظامات ایسے تھے کہ سخت گرمی کا توڑ کرنے کے لیے پانی کی پھوار راستوں میں بھی پڑتی رہتی تھی۔ حاجی ذوالفقار کے مطابق یہ کمال کا انتطام تھا۔ اسی طرح سیکیورٹی کا انتطام بھی بہترین تھا۔

حاجیوں نے ان انتطامات کی تحسین کرتے ہوئے کہا منیٰ میں قائم قیام گاہیں اگرچہ خیموں میں تھیں مگر ان کے اندر بھی ایئرکنڈیشنڈ لگائے گئے تھے۔ راجہ نوید نامی حاجی کے بقول ٹھندک کے اس انتظام نے حاجیوں کے لیے رہائشی معیار کو مزید بہتر کر دیا تھا۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کا نظام بھی بہترین تھا۔

انہی ایئرکنڈیشنڈ بسوں پر ہمیں میدان عرفات سے مزدلفہ لے جایا گیا۔ ہر جگہ انتظامات لا جواب تھے۔ یہ یقینا سعودی حکومت کے حسن انتظام کے بدولت تھا۔ یاد رہے علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی کے باوجود حج 2026 کے دوران دنیا بھر سے پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ حاجی آئے تھے۔ پھر بھی انتظامات بہترین رہے۔

اسلام آباد کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ماہ جون کے اختتام تک مجموعی طور پر 38000 حاجیوں کے واپس اترنے کی توقع ہے۔ حج ڈائریکٹر پاکستان قاضی سمیع الرحمان کے بقول سرکاری سکیم کے تحت گئے پاکستانی حجاج 30 جون تک واپس آ جائیں گے۔ ان حاجیوں کی واپسی کے لیے 129 پروازیں بروئے کار رہیں گی۔

پیر کے روز واپس پہنچنے والے حاجی نوید نے کہا ' میں جسمانی طور پر تو واپس آگیا ہوں مگر میرا دل اب بھی وہیں ہے۔ یہ صرف میری کیفیت نہیں ہر حاجی اسی کیفیت کے ساتھ ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں