افغان سرحد پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس نے افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں کم از کم 26 جنگجوؤں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب افغانستان نے بدھ کے روز بتایا کہ پاکستانی فضائی حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں، جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک اور علامت ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران جاری جھڑپوں میں سینکڑوں افراد جان گنوا چکے ہیں۔


طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں نے افغانستان کے صوبوں خوست، کنڑ اور پکتیکا کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں 11 بچے، ایک خاتون اور ایک معمر شخص ہلاک ہوئے۔

اگرچہ فضائی حملوں کے چند گھنٹوں بعد سرحدی علاقوں میں صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی، تاہم ماضی میں کابل پاکستانی حملوں کے جواب میں سرحد کے مختلف حصوں میں پاکستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔

اسلام آباد مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ کابل ایسے شدت پسند جنگجوؤں کو پناہ دے رہا ہے، جو پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور مؤقف اختیار کرتی ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کا مسئلہ ایک داخلی معاملہ ہے۔

یاد رہے کہ تشدد کی حالیہ لہر پاکستان اور افغانستان کے درمیان نسبتاً طویل عرصے سے قائم سکون کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کر رہی ہے۔

دونوں ممالک جو کبھی اتحادی سمجھے جاتے تھے، اب حریف بن چکے ہیں۔ فروری میں دونوں کے درمیان کئی برسوں کی بدترین جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد گزشتہ مارچ میں چین کی ثالثی کی کوششوں کے دوران ایک نازک جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں