جب پاکستانی فضائیہ کے افسر نے 200 امریکی مسافروں کو بچایا
سوچیں آپ ہزاروں میل کی بلندی پہ محو پرواز ہوں اور جہاز میں اچانک ہنگامہ برپا ہو جائے تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟
پانچ جون 2026 کو جب 200 سے زائد مسافر امریکی ائیر لائن فرنٹیئر کی پرواز 2407 پہ سوار ہوئے تو انہیں یہ گمان بھی نہ تھا کہ یہ سفر غیر معمولی طور پہ طویل ہو جائے گا۔
لاس ویگاس ائیر پورٹ سے پرواز بھرنے والی یہ کئی معمول کی پروازوں میں سے ایک تھی، جس کی منزل واشنگٹن ڈی سی تھی۔
پرواز بھرنے سے چند ہی لمحے بعد جب جہاز متوازن ہوا تو ایک مشتعل مسافر نے جارحانہ انداز میں کاک پٹ پر دھاوا بول دیا۔ وہ زبردستی کیبن کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔
وہ پہلے کیبن کے دروازے پر زوردار ضربیں لگاتا رہا ،پھر جنونی انداز میں بھاگتا ہوا جہاز کی پچھلی جانب گیا۔
نشستوں سے ٹکراتا وہ دوبارہ کاک پٹ کی جانب آیا۔
فلائٹ اٹینڈنٹ اور دیگر فضائی عملے نے اسے کیبن تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی مگر مضبوط جسامت کا وہ شخص انہیں زدو کوب کرنے لگا۔
اس دوران فلائٹ اٹینڈنٹ اسے قابو کرنے کے لیے آگے بڑھیں مگر اس کے تشدد کا شکار ہو کے وہ پیچھے گر گئیں۔
یکایک بے قابو مسافرایمرجنسی دروازوں کی جانب بڑھنے لگا تو کپتان کی جانب سے درخواست کی گئی کہ اسے آگے بڑھنے سے روکا جائے۔
طیارے میں موجود چند مسافروں نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی مگر وہ رستے میں آنے والی ہر شے ، اور لوگوں کو ٹکر مارتا، زدو کوب کرتا۔
مسافر سہمے بیٹھے تھے۔ عورتیں اور بچے رو رہے تھے۔ جہاز میں افراتفری مچ چکی تھی۔
مسافروں کی خوف کی ایک وجہ تقریبا تین روز پہلے پیش آنے والا ایسا ہی واقعہ تھا جس میں سان خواں سے شکاگو جانے والی پرواز میں ایک 50 سالہ شخص نے دوران سفر جہاز کا دروازہ کھول کر چھلانگ لگانے کی کوشش کی اور مزاحمت پر فلائٹ اٹینڈنٹ کا گلا دبایا جس کے بعد جہاز کو میامی ائیر پورٹ ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی۔
پاکستان سے امریکہ فیلوشپ کے لیے آئے زاہد یعقوب عامر بھی پرواز 2407 میں سوار تھے۔ وہ پاک فضائیہ سے حال ہی میں سکوارڈن لیڈر ریٹائر ہوئے تھے اور جانتے تھے کہ ہنگامی حالات کو کیسے سنبھالنا ہے۔
ٹیک آف کے چند لمحے بعد جب انہوں شور شرابہ سنا تو کاک پٹ کی جانب متوجہ ہوئے۔ اسی دوران کپتان کی جانب سے اعلان سنائی دیا کہ بپھرے شخص کو ایمرجنسی دروازے کی طرف جانے سے روکا جائے۔
یہ غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے کہ کوئی شخص اتنا بے قابو ہوجائے کہ مسافروں کو اسے قابو کرنے کے لیے کہا جائے۔ وہ بھی اس مسافر کو قابو میں کرنے کے لیے آگے بڑھے۔
زاہد کہتے ہیں کہ بطور انسان مجھے پہلا خیال یہ آیا کہ اس مسافر کو کوئی ایمرجنسی ہوسکتی ہے۔ مگر پھر بات چیت اور دیگر حربوں کے باوجود بھی وہ دوسرے مسافروں کے لیے تکلیف کا باعث بنا رہا تو اسے ایک جگہ محصور کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ پاک فضائیہ میں انہیں یہ بات سکھائی گئی تھی کہ جہاز میں ایمرجنسی سے نپٹنے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہییں۔
وہ اس سے بات چیت کرتے رہے۔ اس دوران دو اور مسافر ان کی مدد کے لیے آگئے۔ اور مسافر کی حرکت مسدود کر دی گئی۔
اس دوران زاہد دیگر مسافروں کو حوصلہ دیتے رہے اورپر امن رہنے کی درخواست بھی کرتے رہے۔
" مجھے اندازه تھا کہ کپتان اب کہیں ہنگامی لینڈنگ کرے گا اس لیے میرا ارادہ تھا کہ اسے محفوظ لینڈنگ تک مصروف رکھوں۔ " انہوں نے کہا وہ اس سے بات چیت کرتے رہے مسافر انگریزی زبان میں بات کر رہا تھا اور متضاد بئانات دیتا رہا۔
ایک فلائٹ اٹینڈنٹ جو امریکی بحریہ سے وابستہ رہ چکی تھیں وہ بھی آخر تک بے قابو مسافر کو روکنے کے لیے ڈٹی رہیں۔
یوں تقریبا ایک گھنٹہ تک فضا میں اس مسافر کو قابو کر کے ایمرجنسی دروازے پر پہنچنے سے روکا گیا۔
جہاز بالآخر رینو تاہوائیر پورٹ اتار لیا گیا جہاں پہلے سے موجود پولیس نے بےقابو مسافر کو حراست میں لے لیا۔ مسافر کے بارے میں مزید معلومات ظاہر نہیں کی گئیں۔
اڑھائی گھنٹے کے بعد جہاز دوبارہ واشنگٹن کے لیے عازم سفر ہوا۔ ائیر لائن نے مسافروں سے معذرت کی اور 25 ڈالر ہر مسافر کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کیے گئے۔
زاہد کہتے ہیں کہ وہ لمحہ میرے لیے باعث فخر اور جوش تھا کہ جب کسی دوسری سرزمیں پہ مسافر میرے لیے خوشی سے تالیاں بجارہے تھے اور گلے مل رہے تھے۔ وہاں میں بطور پاکستانی ملک کا مثبت تشخص پیش کر رہا تھا۔
جہاں جہاز کے عملے نے زاہد کا شکریہ ادا کیا۔ وہیں پاکستانی قونصل جنرل نے ان سے ملاقات کر کے اس جرات مندانہ اقدام پہ خراج تحسین پیش کیا۔
زاہد یعقوب عامر کا کہنا ہے: "اس وقت میں نے یہ نہیں سوچا کہ میں کسی اور ملک کی فضاوں میں ہوں یا یہ کہ یہ شخص مجھے نقصان پہنچا سکتا ہے میرے سامنے بس انسانیت تھی جسے مجھے بچانا تھا اور میں نے اپنی کوشش کی۔"