وزیرِاعظم نے اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے افسر کے قتل کی تحقیقات کا حکم دے دیا

مرد اور خاتون کے جھگڑا دیکھ کر کیپٹن عاصم نے مداخلت کی، ایک مشتبہ شخص گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکام کو اسلام آباد میں پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے اہلکار کے حالیہ قتل کی شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے اتوار کے روز کہا کہ اس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جس نے پی اے ایف کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو اسلام آباد کی مصروف نائن ایونیو روڈ پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ روڈ متعدد سرکاری دفاتر اور پی اے ایف ہیڈ کوارٹر کے قریب واقع ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان محمد تقی جواد نے کہا کہ طارق اتوار کو اپنے دفتر سے نکلے تو انہوں نے ایک شخص کو ایک عورت سے جھگڑتے ہوئے دیکھا اور مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم سعد عباسی نے اہلکار کو گولی مار دی اور موقع سے فرار ہو گیا۔ طارق بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

شہباز شریف کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، "وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔اور یہ کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔"

شریف نے پی اے ایف افسر کے قتل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک خاتون کی عزت کا تحفظ کر کے جرأت اور فرض شناسی کی بے مثال نظیر قائم کی۔

شہباز شریف کے دفتر نے ان کے حوالے سے کہا، "پوری قوم صدمے کے دوران سوگوار خاندان کے ہمراہ ہے۔"

اتوار کو واقعے کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) علی ناصر رضوی نے کہا کہ ملزم عباسی خاتون کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ خاتون اسے بار بار مار رہی تھی تو طارق نے اسے بچانے کے لیے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص اسلام آباد میں ایک ڈپارٹمنٹل سٹور پر خاتون کے ساتھ کام کرتا تھا اور اسے کام کی جگہ پر لے جانے کے لیے لفٹ کی پیشکش کی تھی۔ جب ملزم نے اسے کہیں اور لے جانے کی کوشش کی تو خاتون نے مزاحمت کی جس سے جھگڑا ہو گیا۔

اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ مشتبہ شخص کا سراغ لگانے کے لیے گیارہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل سرویلنس ٹیم، سیلولر ٹیکنالوجی ٹیم، نجی کیمرہ ٹیم اور سیف سٹی کی کیمرہ ٹیم شامل تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں