پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ مرحلہ وار بنیادوں پر مخصوص طبی آلات کی درآمد اور مینو فیکچرنگ روک دی جائے گی۔ جن کے استعمال سے ہیپا ٹائٹس اور ایڈز کے پھیلنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ ان طبی آلات کی خرید و فروخت بھی روکی جائے گی۔
اعلان کے مطابق روایتی طور پر استعمال ہونے والے 'ڈسپوزایبل' سرنجوں کی مینو فیکچرنگ یکم جنوری سے روکی جا رہی ہے۔ اس عرصے میں ان سرنجوں کے متبادل کے طور پر سیفٹی انجینیئرڈ ری یوز پریوینشن 'آر یو پی' سرنجوں کو لایا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ اقدامات ایچ آئی وی اور ہیپا ٹائیٹس کے سد باب کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ پاکستانیوں کو ہیپا ٹائٹس سی کا عارضہ لاحق ہے۔ یہ سٹڈی عالمی صحت کے ادارے نے مکمل کی ہے۔ ان میں ہر سال 110000 نئے مریض شامل ہو رہے ہیں۔ 62 فیصد مریض انجیکشن لگانے میں اختیار کردہ بے احتیاطی کی وجہ سے شکار ہوجاتے ہیں۔ ایچ آئی وی کا خطرہ بھی اس وجہ سے بڑھ رہا ہے۔