وزیر اعظم پاکستان نے دنیا بھر میں اپنے سفارتخانوں کو ہدایت کی ہے کہ روزگار کے مواقع کے لیے سامنے آنے والے اشتہارات کی نشاندہی کریں تاکہ پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ملک روز گار میسر آ سکیں۔ انہوں نے سفارتخانوں کو یہ ہدایت پیر کے روز دی ہے۔
پاکستان میں آٹھ لاکھ نوجوانوں نے ڈیجیٹل یوتھ ہب پر رجسٹر کرایا ہے۔ اس کے بعد میاں شہباز شریف کی یہ ہدایت سامنے آئی ہے۔
ڈیجیٹل یوتھ ہب کو عرف عام میں پی ایم یوتھ پروگرام کہا جاتا ہے۔ یہ پاکستانی نوجوانوں کو سکالرشپ، ملازمتیں اور سرمایہ کاری کے مواقع دلوانے کے لیے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ نیز نوجوانوں میں ہنر مندی کے فروغ کے لیے بھی کام کرتا ہے۔
پاکستان میں جہاں روز گار کے کافی مسائل ہیں، ان دنوں ترسیلات زر اور سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ عام طبقے کے لوگوں سے ٹیکسوں کے کھاتے میں حاصل ہونے والی رقوم اہم سمجھی جاتی ہیں۔ اس لیے حکومت نوجوانوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے مواقع تلاش کرنے کی کوشش میں رہتی ہے۔ تاہم بیرون ملک روزگار کے لیے ہنر مند کارکنوں کی کھپت زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے حکومت ووکیشنل ٹریننگ دینے والے اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ زیادہ پاکستانی مزدوری کے لیے باہر جا سکیں۔ خلیجی ممالک، یورپی ممالک اور بعض دیگر ملکوں کے لیے اس سلسلے میں کافی امکانات ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سفارتخانوں سے کہا ہے کہ وہ کوششوں کو تیز کریں اور عوامی آگاہی کے لیے ڈیٹا فراہم کریں۔ یاد رہے پاکستان میں بے روزگاری 7.1 فیصد تک چلی گئی ہے۔ پچھلے 21 برسوں کے دوران یہ بے روزگاری کی بلند ترین سطح ہے۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پیداواری شرح نمو 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔
صرف ایک سال کے دوران بے روزگار افراد میں 14 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال یہ تعداد 45 لاکھ تھی۔ اب یہ 59 لاکھ ہو چکی ہے۔ حکومت کی طرف سے کوششیں جاری ہیں کئی ایسے بیانات حکومت کی ترجیح کو ظاہر کرتے ہیں۔ بیانات میں نوجوانوں کو تربیت کے مواقع دینے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔