پاکستان کی دو کھاد پیدا کرنے والی فیکٹریوں نے 'ایل این جی' کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے کام کو بند کر دیا ہے۔ کھاد تیار کرنے کے لیے امریکہ ایران جنگ کے باعث گیس کی دستیابی ناممکن ہو گئی تھی۔ یہ بات ایک عہدیدار نے منگل کے روز بتائی ہے۔
پاکستان قطر سے 'ایل این جی' درآمد کرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔ لیکن جب سے امریکہ و اسرائیل نے ایران کے خلاف 28 فروری سے اپنی جنگ شروع کی اور ردعمل میں ایران نے قطری تنصیبات اور جہازوں پر حملے کیے، پاکستان کے لیے ایل این جی کی فراہمی بھی مشکلات میں پڑ گئی۔
آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بھی تیل کی ترسیل کے ساتھ ساتھ قطری ایل این جی کی ترسیل بھی رک چکی ہے۔
خیال رہے آبنائے ہرمز سے تیل کی عالمی ضرورتوں کا 30 فیصد حصہ گزر کے جاتا ہے جبکہ ایل این جی کا بڑا حصہ بھی اسی آبنائے ہرمز سے گزر کر قطر برآمد کرتا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کو بین الاقوامی مارکیٹ سے کارگو کے ذریعے گیس منگوانا پڑتی ہے۔ جو کہ مقابلتاً زیادہ مہنگی گیس ہے۔ اس لیے گیس کی اس کمی کے مسئلے سے دو چار ہونے کے بعد دو کھاد ساز فیکٹریوں نے اپنا کام بند کر دیا ہے۔
یہ بات پاکستان کے وزارت توانائی کے حکام سے بھی تصدیق شدہ ہے۔ تاہم عہدیدار نے اپنا نام ظآہر کرنے سے گریز کیا ہے اور یہ بھی بتانے سے معذرت کی ہے کہ یہ فیکٹریاں کن ناموں سے کام کر رہی تھیں۔
پاکستان میں یوریا کھاد تیار کرنے کے کل 10 کارخانے ہیں۔ جو سالانہ بنیادوں پر 9.73 ملین ٹن کھاد تیار کرتے ہیں۔ یہ بات پاکستان کے اکنامک سروے نے 2025 اور 2026 میں بتائی ہے۔
ان دو فیکٹریوں کی بندش کے نتیجے میں 68 فیصد گیس کی بچت ہوگی جو کارگو کے ذریعے سے آرہی تھی۔ تاہم اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ اپنی جگہ بڑھ گیا ہے۔
کسان تنظیم کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا پاکستان میں فصلوں کی تیاری میں کھادوں کا استعمال ایک اہم عنصر ہے۔ مجموعی پیداواری لاگت میں تقریباً 15 فیصد کھاد کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ جبکہ فصل کی پیداوار میں 30 سے 50 فیصد اضافے کا باعث بنتی ہے۔
کسانوں کی ایک تنظیم کے سربراہ نے اس بارے میں کہا کہ زراعت سے متعلق پیداواری یونٹ متاثر ہو رہے ہیں۔
'ایگری ٹیک لیمیٹڈ' کے لیے بھی گیس کی فراہمی سوئی نادرن گیس پائپ لائن نے بند کر رکھی ہے، اسی طرح فاطمہ فرٹیلائزر کے لیے بھی۔ خالد محمود کھوکر نے کہا اب یہ دونوں پلانٹ بند ہیں۔
'ایگری ٹیک لیمیٹڈ' نے اسی ہفتے کے شروع میں پاکستان سٹاک ایکسینچ کو اطلاع کر دی تھی کہ گیس کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے اس کے ہاں 18 جولائی سے کام بند ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس کھاد بنانے والے یونٹ کی پیداواری صلاحیت 4 لاکھ 33 ہزار ٹن تھی۔
'ایگری ٹیک لیمیٹد' نے بھی سوئی نادرن کو آگاہ کر دیا ہے کہ اس نے بھی اپنی پیداوار کو 20 جولائی سے بند کر دیا ہے۔
بہت منفی اثرات
چیف ایگزیکٹیو آفیسر عارف حبیب کماڈیٹیز احسن محنتی نے خبردار کیا ہے کہ گیس فراہمی کے بحران کی وجہ سے کھاد کی نہ صرف قیمتیں بہت بڑھ جائیں گی بلکہ کھاد کی فراہمی بھی بہت مشکل میں ہوگی۔ اس سے کسانوں پر برے اثرات آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ و ایران کے درمیان امن معاہدہ اس بحران پر کنٹرول پانے کے لیے ضروری ہے۔
خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ ان دو کھاد فیکٹریوں کا بند ہونا بہت منفی اثرات لائے گا۔ خصوصا ہمارا زرعی شعبہ اس کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا زرعی شعبہ ملک کے جی ڈی پی میں 23 فیصد اور روزگار کی فراہمی میں 27 فیصد 'کنٹریبیوٹ' کرتا ہے۔
کھاد کی اس صورتحال کی وجہ سے سب سے پہلے چاول کی فصل متاثر ہوگی اور پھر اکتوبر، نومبر، دسبر میں گندم کی فصل کو بھی مسائل کا سامنا ہوگا۔