.

کم از کم بھکاری کی تو عزت کریں

وسعت اللہ خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھے وہ سب بہت عجیب لگتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بھیک مانگنا کوئی پیشہ نہیں، ایک گھٹیا عادت ہے۔ہٹے کٹے ہونے کے باوجود بھکاری کام کرنے سے زیادہ ہڈ حرامی پسند کرتے ہیں۔انھیں سدھارنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ معاشرے کا ناسور اور سماجی تذلیل کا سبب ہیں۔

جان کی امان پاتے ہوئے عرض کروں تو برا نہ مانئے گا کہ بھیک انتہائی ڈیمانڈنگ اور محنت طلب پیشہ ہے۔اس میں اوسط درجے کی عقل رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں۔آپ اس پیشے میں جتنی محنت کریں گے، آپ کا دماغ جتنا تیز کام کرے گا ، آپ کے اعصاب جس قدر مضبوط ہوں گے، آپ کی تخلیقی اپچ جتنی بہتر ہوگی۔ بھکارت میں اتنی ہی ترقی پائیں گے۔( دس پروفیشن از ناٹ فار فینٹ ہارٹڈ )۔۔۔۔
بھیک کے پیشے میں نہ پرچی چلتی ہے ، نہ رشوت ،نہ سیاسی کوٹہ ، نہ شکل و صورت کام آتی ہے اور نہ ہی خاندانی پس منظر۔یا تو آپ بھکاری ہیں یا پھر بھکاری نہیں۔فل اسٹاپ۔اگر آپ اس پیشے کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتے تو برا بھلا کہنے کے بجائے ادھر کا رخ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔بہتر ہے کہ آپ دکانداری، کمیشن ایجنٹی یا کسی بندھی ٹکی تنخواہ والی سرکاری نوکری میں ہی زندگی بھر سر کھپاتے رہیں۔کسی بھکاری کو ہڈ حرام کہنا ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی محنت کش کو مفت کی روٹیاں توڑنے کا طعنہ دے کر اس کی محنت کی توہین کریں۔

مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے بیشتر چونکہ محدود اور متعصبانہ سوچ کے مالک ہیں لہٰذا بھیک کی عظمت پر قائل کرنے کے لیے کچھ موٹی موٹی دلیلیں دینا ضروری ہے۔

مثلاً کیا آپ نے کسی بھکاری کو کبھی مقروض دیکھا ہے۔کیا اسے چھٹی کرتے دیکھا ہے۔کیا اسے اپنی مقررہ جگہ پر دیر سے آتے اور جلدی جاتے دیکھا ہے۔کیا اسے کبھی چائے ، تو کبھی پھوپھی کو اسپتال لے جانے یا راستے میں ٹریفک جام کے بہانے اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے کام نامکمل چھوڑ کر کسی اور بھکاری کے حوالے کرکے غائب ہوتے دیکھا ہے۔کیا کوئی ایسا بھکاری ہے جو روزانہ بھیک کا ریٹ بڑھا دے۔حالانکہ اب تو جی ایس ٹی بھی سولہ سے سترہ فیصد ہو چکا ہے۔

آپ کو اعتراض ہے کہ وہ بہروپیا بن کے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔تو پھر اداکار کو آپ بہروپیا کیوں نہیں کہتے ؟؟ آپ کہتے ہیں کہ بھکاری ایک نہیں سو سو ڈرامے کرتا ہے۔کبھی دائیں آنکھ پر پٹی باندھ کر تو کبھی بائیں ہاتھ پر۔کبھی مریض بن کر آتا ہے تو کبھی لٹا پٹا مظلوم بن کر۔اچھا اگر یہ کوئی خراب بات ہے تو پھر مارکیٹنگ میں کیا ہوتا ہے۔کیا پروڈکٹ بیچنے والے کبھی ریپر بدل کر تو کبھی فارمولا ذرا سا آگے پیچھے کرکے تو کبھی اشتہار میں نئی ماڈل ڈال کر ہر دو بوتلوں یا ٹیوبوں کی خریداری پر ایک تربوز مفت کی اسکیم سے آپ کو نہیں رجھاتے ؟ مگر ایک کو آپ بھکاری کہتے ہیں اور دوسرے کو مارکیٹنگ گرو…واہ جی واہ۔

آپ کہتے ہیں کہ بھکاری ہزار بار ’’ جاؤ بابا معاف کرو ’’ کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ڈھیٹ بنا کھڑا رہتا ہے جب تک آپ اس سے پنسل ، رومال یا کمربند خرید کر گلو خلاصی نہ کرا لیں۔تو پھر سیلز ریپریزینٹیٹو کو آپ کیا سمجھتے ہیں۔جو اپنی پروڈکٹ کو محض معمولی سے کمیشن کے چکر میں کائنات کی آخری پروڈکٹ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کے ساتھ آپ کے پیچھے پڑ جاتا ہے اور آپ اس سے جان چھڑانے کے لیے ایک آدھ سمپل لے ہی لیتے ہیں۔کیا نہیں لیتے؟اور اس کے جاتے ہی اپنے سیکریٹری سے کہتے ہیں کہ اگر آیندہ تم نے اس بندے کو اندر گھسنے دیا تو تم فارغ۔

آپ کہتے ہیں کہ بھکاری جتنے کماتا ہے اتنے خرچ نہیں کرتا۔روٹی بھی مانگ کر کھاتا ہے۔چائے بھی مظلوم بن کر طلب کرتا ہے۔ پیسے کی سرکولیشن ، سرمایہ کاری اور ملکی معیشت کی روانی میں اس کا کوئی کردار نہیں۔چلیے اگر ملکی معیشت میں بھکاری کا کوئی کردار نہیں تو پھر کالا دھن گھروں میں چھپانے والوں ، اپنے ملازموں کے نام پر زمینیں رکھنے والوں اور ہیرا پھیری کا پیسہ بیرونِ ملک ٹرانسفر کرنے والوں کا ملکی معیشت کی بہتری اور اسے رواں رکھنے میں کیا اور کتنا کردار ہے۔مگر ان کا نام تو آپ صاحب کا لاحقہ لگائے بغیر نہیں لیتے لیکن بھکاری کو ہمیشہ اوئے کہہ کر بلاتے ہیں۔کیوں ؟

ویسے بھکاری آپ سے آخر رتبے میں کم کیوں ہے ؟ کیا اس لیے کہ اس کے پیشے کا تقاضا ہے کہ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور آپ اس لیے اکڑیں کہ قمیض میں کلف لگا ہوا ہے۔اچھا تو آپ روزانہ کتنے گھنٹے اپنے پیشے کے لیے وقف کرتے ہیں۔آٹھ گھنٹے ؟ بس ؟ مگربھکاری تو بارہ گھنٹے کام کرتا ہے۔آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟ بس ساٹھ ہزار ؟ اور اوور ٹائم ملا کر ستر پچھتر ہزار ؟ عہدہ کیا ہے آپ کا ؟ اچھا اچھا ڈپٹی ڈائریکٹر ؟ نیوز ایڈیٹر ؟ سینئر پروڈیوسر ؟ میجر ؟ کنسلٹنٹ؟ بس ؟

تو پھر سنئے کہ کسی بھی شاہراہ کے مصروف چوک یا کسی خوشحال علاقے میں دیہاڑی لگانے والا بھکاری مہینے میں کم ازکم اسی سے نوے ہزار روپے کماتا ہے۔رمضان ، عید ، بقر عید کا بونس الگ اور گرمیوں کے سیزن میں ٹھنڈے صحت افزا علاقوں میں گروہ در گروہ جا کر سیاحوں پر سرمایہ کاری الگ۔ہالیڈے کی ہالیڈے اور کام کا کام۔۔۔

کار اس کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے کون سا باس کی گڈ بک میں رہنے کے لیے پارٹی میں جانا ہے یا اوپر کے فالتو کام بھی نمٹانے ہیں یا کام نکلوانے اور بل کلئیر کرانے کے لیے ہر آڑے ترچھے کے پاس پہنچنا ہے یا پھر بیوی کے نخرے سہنے ہیں ( وہ تو خود اپنے شوہر کی طرح ورکنگ لیڈی ہے) …اسی لیے بھکاری کو اس کی بھی کوئی پروا نہیں کہ آج پٹرول کتنا مہنگا ہوگیا اور سی این جی ہفتے میں کس کس دن مل رہی ہے۔تنخواہ اس کی کبھی لیٹ نہیں ہوتی کیونکہ سارا کام ہی نقد اور کیش کا ہے۔لہذا بینک اکاؤنٹ کا بھی جھنجھٹ نہیں کہ انکم ٹیکس والوں سے کوئی خطرہ ہو۔ڈاکو اسے فقیر سمجھ کر لفٹ نہیں کراتے۔چور خود کو اس سے زیادہ افضل سمجھتے ہیں۔ بے روزگاری کا لفظ بھکاری کی ڈکشنری میں ویسے ہی نہیں۔

اور انویسٹمنٹ کیا ہے اس پیشے میں ؟ اونلی ون ٹائم انویسٹمنٹ۔۔۔ایک کشکول ، دو ملنگی لباس ، ایک چھوٹا ریڑھا ، ایک گھنگرو والا ڈنڈا ، لاکھوں دعائیں ، محبت سب سے، نفرت کسی سے نہیں۔جو دے اس کا بھی بھلا ، نہ دے اس کا بھی بھلا۔دفتر بھی خود ، فائل بھی خود ، پبلک ریلیشن افسر بھی خود۔جونئیر ہے تو اپنے ایریا مینجر کو ایمانداری سے کمیشن دیتا ہے۔سینئیر ہے تو ایک نہ ایک دن خود ایریا مینجر بن جاتا ہے۔

آپ دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ جو آدمی پولیس کو بھتہ دیتا ہو، اسے کس منہ سے بھکاری کہہ سکتے ہیں ؟

اور ہاں اگر آپ کو اب بھی کوئی شک ہو تو پھر ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک ، ترقی یافتہ ممالک کے ایگزم بینکوں (امپورٹ ایکسپورٹ بینک) خلیجی ممالک اور واشنگٹن میں محکمہ خزانہ کے ریکارڈ سے تصدیق کرلیں۔ آپ اگر ان میں سے کسی بھی جگہ میرے محلے کے نکڑ پر نابینا بن کر کھڑا ہونے والے صابر ملنگ کا نام پائیں تو میں اپنا نام صابر ملنگ رکھنے اور کشکول پکڑنے کو تیار ہوں۔ لگائیں شرط جتنی مرضی کی…

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.