.

انسانی ہاتھوں سے ہونیوالی تباہی

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ملک کے کسی بھی حصے میں ہونے والی تباہی پر پورے ملک سے ردعمل آتا تھا۔ لوگ گھر گھر جا کر پیسے‘ کپڑے‘ برتن اور روز مرہ کے استعمال کی بہت سی چیزیں اکٹھی کر کے مختلف تنظیموں کو دیتے تھے جو متاثرین کی بحالی کے کام میں مصروف ہوتی تھیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہ رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ آج بھی فکر مندی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں لیکن ملک گیر سطح پر امدادی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ یعنی اب جذبے اور احساس کی وہ فراوانی دکھائی نہیں دیتی جو کہ ایک زمانے میں محسوس ہوا کرتی تھی۔

آپ اتراکھنڈ کی مثال ہی دیکھ لیں۔ وہاں نہایت وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ 5000 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے، جب کہ مالی نقصانات کروڑوں اربوں روپے سے زیادہ ہیں لیکن ردعمل مایوس کن ہے۔ انفرادی طور پر تو بہت کوششیں نظر آ رہی ہیں لیکن قومی سطح پر کوئی خاص تشویش نظر نہیں آ رہی، بالخصوص جنوب اور مشرق کی ریاستوں کی طرف سے بہت کم سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ پہاڑی ریاست اتراکھنڈ اور مرکز کی حکومتوں نے امدادی کاموں کے آغاز میں بہت تاخیر کر دی اور انھیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے۔ تباہی کے 10 روز بعد بھی 20,000 سے زاید لوگ مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے جو بحث ہوتی رہی وہ یہ تھی کہ آیا یہ مکمل طور پر قدرتی آفت ہے یا اس میں انسانی ہاتھوں کا بھی کوئی عمل دخل ہے۔ بے شک یہ انسانی ہاتھوں کا قصور تھا۔ وجوہات صاف ظاہر ہیں۔ وہ درخت جو اس قسم کی آفات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں بیورو کریسی نے بے دریغ کٹوا دیے۔ دریاؤں میں جمنے والی گار کو صاف کرانا کسی بھی حکومت کے ایجنڈے میں کبھی نہیں رہا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ بورڈ سے پہلی دفعہ کام لینے کی کوشش کی گئی مگر بے سود۔ سیاسی جماعتوں نے اس المیے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کے سوا اور کوئی ٹھوس کام نہ کیا۔ جب کہ حسب روایت سرکاری طور پر یہ اپیل جاری کر دی گئی کہ عوام وزیر اعظم کے امدادی فنڈ میں رقوم اور سامان جمع کرائیں۔

حیرت کی بات ہے کہ کسی بیرونی ملک نے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے کسی امداد کی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی کوئی مالی امداد آئی ہے۔ پاکستان نے بھی بھارتی عوام سے دوستی جتانے کا ایک سنہری موقع کھو دیا۔ اسلام آباد کو چاہیے تھا کہ خوراک اور ادویات کے ٹرک واہگہ بارڈر پر بھیج دیتا، اور اگر نئی دہلی کی حکومت انھیں روکتی تو یہ اس کی اپنی بے عزتی ہوتی۔

اگر اس المیے کا تجزیہ کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہماری قوم بے حس ہو چکی ہے۔ مختلف ریاستوں نے جیسے الگ الگ جزیرے بنا رکھے ہیں اور کوئی بھی المیہ اس کی سرحدوں سے باہر نہیں نکلتا۔ جب متاثرہ افراد کو نکالنے کا موقع آیا تو مغربی بنگال اور گجرات جیسی ریاستوں نے صرف اپنے اپنے علاقے کے باسیوں کو باہر نکالا۔

اجتماعی قومی احساس ناپید ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ریاست کا دوسری ریاست کے کچھ علاقوں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ نقصان تو دوسری ریاست کا ہوا ہے ہمارا کیا تعلق واسطہ ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے ڈیم جو تعمیر کیے گئے وہ فائدہ مند ہونے کے بجائے الٹا نقصان دہ ہو گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان آبی ذخائر کی تیاری پر جو بے پناہ دولت خرچ ہوئی اس سے سیاسی اور سرکاری سطح پر کرپشن کے دروازے بھی کھلے۔ زمینوں پر قبضے اور عمارتی لکڑی کے مافیا نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جب کہ نقصان پوری قوم کا ہوا۔

وزارت ماحولیات کی سطح پر ملک بھر میں تعاون ممکن ہے۔ یہی وزارت اس امر کی ضمانت بھی فراہم کر سکتی ہے کہ حیاتیات کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ لیکن یہ وزارت ریاستی حکومتوں اور مختلف لابیوں کی طرف سے اس قدر دباؤ کا شکار ہے کہ اب یہ صرف دستخط کرنے والی اتھارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ اتراکھنڈ کے ارد گرد کا علاقہ اس قدر نازک ہے اور بُھربُھرا ہے کہ مرکزی حکومت اس کی ’’اکالوجی‘‘ کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی۔ اور جب اصلاح احوال کا کوئی موقع آتا ہے تو دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں کانگریس اور بی جے پی ایکا کر لیتی ہیں اور بات وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔

اور تو اور اتراکھنڈ کے لوگوں کا اپنا رویہ بھی خاصا غیر انسانی تھا۔ ایسے بہت سے واقعات منظر عام پر آئے جب دکانداروں نے روز مرہ کے استعمال کی چیزوں کے حد سے زیادہ دام وصول کیے۔ بسکٹ کا ایک پیکٹ 200 روپے میں بیچا گیا۔ روٹی کے ایک ٹکڑے کی قیمت 100 روپے تک وصول کی گئی۔ لوٹ مار کے علاوہ خواتین کی بے حرمتی کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ ایک عورت کو طبی امداد کی ضرورت تھی کیونکہ اس کی سونے کی زنجیر اس کے گلے سے نوچ لی گئی تھی جس سے وہ زخمی ہو گئی۔ حتیٰ کہ سادھوؤں اور سنتوں نے بھی موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ وہ لاشوں کی نقدی اور زیورات لوٹتے رہے۔

اس ساری صورتحال میں صرف ایک ہی روشنی کی کرن تھی اور وہ تھا فوج اور فضائیہ کا کردار۔ انھوں نے ہزاروں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال کر محفوط مقامات پر پہنچایا۔ زندہ بچ جانے والوں نے جہاں حکومت کی غفلت اور بے حسی کی بات کی وہاں مسلح افواج کی تعریف بھی کی جنہوں نے انھیں کھانا اور تحفظ دیا۔ ائر فورس کا ایک ہیلی کاپٹر جو امدادی کارروائیوں میں مصروف تھا خراب موسم کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا۔ بیس جانیں ضایع ہو گئیں۔بھارت ایک بے حس ریاست بن چکی ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس کی اخلاقی اقدار مسخ ہو چکی ہیں۔ اب مثالیت پسندی کی کوئی رمق بھی برقرار نہیں رہی کہ سماجی انصاف کی کوئی بات کی جا سکے اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو اس عذاب سے نجات دلائی جا سکے۔ غربت‘ بیروز گاری اور خوراک کی کمی جو ایک مرتے ہوئے معاشرے کی علامات ہیں ان میں دن بدن اضافے پر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہندو آبادی کی شرح نمو ایک بار پھر 4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بھارتی روپے کی قدر زوال پذیر ہے اور ایک ڈالر 60 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ آج شرح نمو کے اس حد تک گر جانے اور مستقبل سے مایوسی کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کا ملک کی مجموعی ترقی کی طرف کوئی دھیان نہیں۔ بدقسمتی سے پارٹیوں کی اس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کہ ملک کو کس طرح آگے لے جایا جا سکتا ہے۔

اس صورت حال کی سب سے زیادہ ذمے داری ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی پر آتی ہے۔ وہ آپس میں کسی بات بھی پر تعاون پر تیار نہیں حالانکہ اگر وہ اپنے رویے میں تھوڑی سی بھی تبدیلی پر آمادہ ہوں تو اس کے نہایت مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ کم و بیش جمود کا شکار ہے۔ پارلیمنٹ کے کئی سیشن بغیر کسی پیشرفت کے گزر جاتے ہیں جن سے پارلیمانی عدم کارکردگی کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔ سیاسی پارٹیاں اس نااہلی کو تسلیم کرتی ہیں اور نجی محفلوں میں اس کا برملا اظہار کرنے سے نہیں ہچکچاتیں۔ لیکن ایوان میں ان کے ہونٹوں پر جیسے مہر لگ جاتی ہے، وہ ایک لفظ بھی نہیں بولتیں۔

اب بھارت میں خیال و عمل کی آزادی بھی مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ جس رفتار سے ہم انحطاط کا شکار ہو رہے ہیں وہ ایک بڑی تباہی کی نشاندہی کر رہا ہے۔ آخر دونوں بڑی پارٹیاں ملک کے مجموعی مفاد کی خاطر کیوں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ کم از کم حالیہ تباہی سے متاثر ہونے والوں کی بحالی کے لیے تو وہ کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کر سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے انھیں پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا۔ آج کرسی پر قبضہ کی جو دوڑ لگی سے اس کے پیش نظر یہ مشکل نظر آتا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی قومی مفاد کو اولیت دے گی۔ اتراکھنڈ کے جیسے اور بہت سے المیے بھی شاید سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات تبدیل نہ کر سکیں۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ لیکن یہ سچ ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.