.

کیا ہم نیا اوباما دیکھ رہے ہیں؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر براک اوباما نے یہ وضاحت نہیں کی کہ مصر میں جب فوجی انقلاب برپا ہوا تو کیا ہوا تھا اور انھوں نے شام میں صدر بشارالاسد کے رجیم کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔وہ مشرق وسطیٰ میں روس کی توسیع پسندی پر بھی خاموش نہیں رہے ہیں اور انھوں نے یہ بھی ارشاد نہیں کیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کریں گے۔

براک اوباما کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر نے امریکی صدر کا ایک مختلف تشخص پیش کیا ہے۔وہ فوجی انخلاء کی مدح سرائی کررہے تھے اور انھوں نے خود کو امریکا کے داخلی امور تک محدود رکھا ہے۔

مصر میں نظم ونسق (گورننس) کے حوالے سے ہم نے امریکی صدر کا ایک نیا موقف سماعت کیا ہے۔اوباما نے برطرف صدر محمد مرسی کے بارے میں کہا کہ وہ دراصل بیلٹ باکس کے ذریعے جمہوری طورپر برسراقتدار آئے تھے لیکن وہ جمہوری اصولوں کے مطابق حکمرانی نہیں کرسکے تھے۔اس طرح انھوں نے قانونی استثنیٰ کی بے توقیری کی۔امریکی حکومت مرسی کے الگ تھلگ ہونے کے بعد سے اس کا تذکرہ کررہی تھی اور اس عمل میں وہ موجودہ عبوری حکومت کو مسترد کررہی تھی۔

میں یہ نہیں جانتا کہ ان کی تقریر امریکا کی نئی پالیسی کا اظہار تھی۔ہم نے جو کچھ سنا،وہ اس سے بہت مختلف تھا جو براک اوباما صدر امریکا منتخب ہونے کے بعد کہتے چلے آرہے تھے۔انھوں نے خود کو اپنے پیش روؤں سے ممیّز کرنے کی کوشش کی ہے

امریکی پالیسیوں کا تجزیہ

جنرل اسمبلی میں تقریر دنیا کی تمام حکومتوں کے لیے اپنی پالیسیوں اورموقف کا خاکہ بیان کرنے کا ایک اہم سالانہ موقع ہوتی ہے۔اوباما نے اپنی تقریر میں کہا کہ امریکا روس اور دوسرے ممالک کے خلاف اپنے مفادات سے دستبردار نہیں ہوگا۔انھوں نے یہ بات بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کے اس تبصرے کے ردعمل میں کہی تھی کہ اوباما نے امریکا کے مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کم ہونے کے بعد خطے سے انخلاء کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اڑسٹھویں سالانہ اجلاس کے موقع پر ہم نے براک اوباما کو پہلی مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ خطے میں امریکا کے مفادات کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اگر مشرق وسطیٰ سے امریکا کے لیے تیل کی برآمدات میں کمی واقع بھی ہوتی ہے تو اس سے اس خطے کے تیل کی عالمی قیمتوں اور امریکی مارکیٹ پر اثرات محدود نہیں ہوں گے۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔انھوں نے نہ صرف امریکا کے وسیع تر مفادات کے عزم کا اعادہ کیا بلکہ ایک غیرمتوقع اعلان کرتے ہوئے انھوں نے اپنے پیش رو صدر جارج ڈبلیو بش کی بھی یاد دلائی اور بین الاقوامی تنازعات میں مداخلت کے حوالے سے سلامتی کونسل کی حدود کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

انھوں نے سلامتی کونسل کے مؤقف کے علی الرغم کہا کہ اسد رجیم نے شامی عوام کے ساتھ جو کچھ کیا ،اس سے کوئی رورعایت نہیں برتی جاسکتی ہے۔اس نئی پالیسی کا اظہارغالباً روس کے موقف سے مایوس ہوکر کیا گیا ہے۔ روس نے جدید تاریخ کے ایک بڑے جنگی مجرم کے تحفظ کے لیے سلامتی کونسل کا غلط استعمال کیا ہے۔

اوباما نے اس حقیقت کو پالیا ہے کہ عالمی قانون پر اعتماد کا مطلب اس کا نفاذ بھی ہے۔روسیوں کو جب یہ پتا چل گیا کہ اوباما نے جواز کوئی بھی ہو ،(شام میں) مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،تو انھوں نے سلامتی کونسل کا غلط استعمال کیا ہے۔

اوباما اور ایران

اوباما کی تقریر اور پالیسی میں سب سے تشویشناک بات ان کا ایران کے بارے میں موقف تھا۔اوباما ایران کے نئے صدر حسن روحانی کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات سے جڑے ہوئے ہیں۔ایرانی صدر امن کے محبّ کے طور پر سامنے آئے ہیں اور وہ اوباما کو اس صدی کی سب سے بڑی سیاسی ڈیل دینے کو تیار ہیں۔

ایرانیوں نے گذشتہ ڈیڑھ ایک عشرے کے دوران ہمیشہ بڑے بروقت کارڈ کھیلے ہیں۔ایرانیوں کو صرف ایک جوہری بم کی تیاری کی کامیابی درکار ہے،اس کے بعد یہ تمام کھیل ختم ہوجائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ انھیں اس صلاحیت کے حصول میں مزید کتنا وقت درکار ہے ،ایک سال ،دو یا تین سال؟حسن روحانی کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کے جوہری منصوبے کے حل کے لیے ایک سال کا وقت درکار ہے۔انھیں یہ تمام وقت کیوںکر درکار ہے؟اگر ایرانی حقیقی طور پر اس کے بارے میں سنجیدہ ہوتے تو وہ اپنی پیش کش سامنے لاتے اور اس کے تحت اس تنازعے کو ہفتوں میں طے کردیا جاتا لیکن وہ وقت گزاری کے لیے ایک گیم کھیل رہے ہیں۔وہ اس لمحے تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہیں جب وہ یہ اعلان کرسکیں کہ وہ ایک فوجی جوہری ملک بن گئے ہیں۔اس کے بعد کسی کے لیے بھی ان کی جوہری تنصیبات پر حملہ یا ان کے رجیم کے خلاف کسی قسم کی جنگ مسلط کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ایران بھارت،پاکستان یا اسرائیل نہیں ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ایران سیاسی کھیلوں کے تحدیدات کو زیادہ بہتر طور پر جانتا ہے۔وہاں ایک انتہا پسند نظریاتی رجیم کی حکمرانی ہے اور یہ گذشتہ تیس سال میں اپنے ہمسایہ ممالک اور دنیا میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور خواہشات کا واضح اظہار کرچکا ہے۔اگر اوباما نے ایرانیوں کو حسن روحانی کے میٹھے بول اور مسکراہٹ کے ذریعے خود کو بے وقوف بنانے کی اجازت دے دی تو وہ ایک ناقابل تلافی غلطی کے مرتکب ہوں گے۔ایرانی ایسا وقت گزاری کے لیے کرسکتے ہیں یا پھر وہ ان سے یہ جعلی اور کھوکھلے وعدے کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو استعمال نہیں کریں گے۔

(ترجمہ:امتیاز احمد وریاہ)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.