.

ناکامی کامیابی کا زینہ کیوں نہیں بنتی؟

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ناکامی،کامیابی کا پہلا زینہ ہوتی ہے۔ بیشتر افراد کی طرح میرا بھی یہ خیال تھا کہ یہ کتابی باتیں ہیں جو نصیحت کرتے وقت اچھی لگتی ہیں وگرنہ حقیقی زندگی میں ناکامی کے بعد کامیابی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا لیکن ایک عظیم انسان کی کتاب زیست کے اوراق پلٹتے ہوئے احساس ہوا کہ انسان بصیرت ،عزم اور اخلاص کی دولت سے مالا مال ہو تو کاتب تقدیر کو بھی اپنی منشا بدل کر اس کے مقدر میں کامیابیاں رقم کرنا پڑتی ہیں۔ اس عظیم انسان کی کہانی 12فروری1809ء سے شروع ہوتی ہے۔

وہ منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہوا،اس کے باپ کے پاس 600ایکڑ قابل کاشت اراضی ہے،بیشمار گھوڑے،بھینسیں اور بکریاں ہیں مگر اس کی پیدائش کے محض سات سال بعد اس کا باپ یہ سب مال و اسباب ایک عدالتی مقدمے میں ہار جاتا ہے اور اسے بچوں سمیت گھر سے بیدخل کر دیا جاتا ہے۔سڑک پر آنے کے دو سال بعد ہی اس کی ماں مر جاتی ہے اور اسے گھر کا چولہا جلانے کے لئے لڑکپن میں نوکری کرنا پڑتی ہے۔1831ء میں اس نے پیسے جوڑ کر ایک اسٹور کھولا لیکن اس کی قسمت کا ستارہ گردش میں تھا اس لئے نقصان اٹھانے کے بعد اسٹور بند کرنا پڑا۔اس نے مایوس ہونے کے بجائے ایک ورکشاپ بنائی مگر شومئی قسمت کہ یہاں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ تنگ آ کر فوجی دستے میں شامل ہو گیا۔اس کے فوجی کیرئر میں بھی نحوست نے ساتھ نہ چھوڑا، پہلے اس کی تنزلی ہوئی اور پھر نوکری سے ہی نکال دیا گیا۔ اسی دوران اس نے منگنی کی تو محبوبہ کا انتقال ہو گیا۔سب لوگوں نے اسے ’’پنوتی‘‘ کہنا شروع کر دیا۔

کوئی اسے قرض دینے پر تیار نہ ہوتا۔ ایک دوست نے ترس کھا کر قرض دیا اور دوبارہ کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دی۔ایک بار پھر دیوالیہ ہو گیا اور پیسے ڈوب گئے۔ قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی،سوچا کیوں نہ وکالت کا پیشہ اختیار کیا جائے۔یہاں بھی کامیابی نہ ملی اور تھک ہار کر ملازمت کرنا پڑی۔1832ء میں ریاستی مجلس قانون ساز کا الیکشن لڑا،مجلس کی رکنیت تو نہ ملی البتہ نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔ہمت نہ ہاری 1834ء میں دوبارہ مجلس قانون ساز کا الیکشن لڑا، اس مرتبہ قسمت نے یاوری کی اور کامیاب ہو گیا۔

حوصلہ پا کر 1838ء میں مجلس قانون ساز کے اسپیکر کا الیکشن لڑا،لیکن بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔1840ء میں ایک بار پھر الیکشن میں شکست کا مزہ چکھا مگر بدمزہ نہ ہوا اور 1843ء میں کانگریس کے انتخابات میں کود پڑا،ایک بار پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔مایوس ہونے کے بجائے 1846ء میں دوبارہ الیکشن میں حصہ لیا اور اس بار رکن کانگریس منتخب ہو گیا۔ کامیابی اور ناکامی کی کشمکش ختم نہ ہوئی،1848ء میں ایک بار پھر کانگریس کا الیکشن لڑا اور ہار کو گلے لگایا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ پے در پے ناکامیوں نے راستہ روک لیا مگر اس شخص کے پایۂ استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔1854ء میں سینیٹ کا الیکشن ہارا،1856ء میں پارٹی کا نائب صدر منتخب نہ ہو سکا،1858ء میں ایک بار پھر سینٹ کا انتخاب ہارا مگر 1860ء میں یہ ہارا ہوا شخص ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا، تاریخ اس عظیم انسان کو ابراہم لنکن کے نام سے جانتی ہے۔

واصف علی واصف لکھتے ہیں، پریشانی حالات سے نہیں ،خیالات سے ہوتی ہے اور جسے ہم غم کہتے ہیں دراصل وہ ہماری مرضی اور خدا کی منشا کے فرق کا نام ہے۔جو لوگ ناکامی کو عذر بنا کر پریشانی کی دلدل میں اتر جاتے ہیں ،ان کی زندگی روگ ہو جاتی ہے اور وہ پریشانی کی اس دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں مگر وہ باہمت لوگ جو ناکامی کو کامیابی کا پہلا زینہ سمجھ کر جشن مناتے ہیں ،قسمت ان پر مہربان ہوتی چلی جاتی ہے۔ میں حسرتوں کے قبرستان میں مجاور بن کر زندگی بسر کرتے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو ونسٹن چرچل یاد آتا ہے جو چھٹی جماعت میں فیل ہو گیا تھا۔ بدقسمتی کا یہ عالم تھا کہ آکسفورڈ اور کیمرج یونیورسٹی میں میرٹ پر داخلہ نہ لے سکا لیکن آج اس کا شمار دنیا کے کامیاب ترین حکمرانوں میں ہوتا ہے۔آج البرٹ آئن اسٹائن کے نظریات پڑھے بغیر طبعیات کا مضمون ادھورا محسوس ہوتا ہے لیکن جب وہ پیدا ہوا تو چار سال تک بول نہیں سکتا تھا،اس لئے سات سال کی عمر میں اس کی ابتدائی تعلیم شروع ہوئی۔ جب اس نے یونیورسٹی آف برن میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ پیش کیا تو اس کے اساتذہ نے اسے غیرحقیقی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

فیڈرل سمتھ وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے کوریئر سروس کا تصور دیا،اس نے ایم بی اے کے دوران یہ تجویز پروجیکٹ کے طور پر جمع کرائی تو اسے ’’سی گریڈ‘‘ ملا کیونکہ یونیورسٹی انتظامیہ کے خیال میں یہ ایک بے سود اور نا قابل عمل تصور تھا۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کیا لیکن اپنی اس کوشش میں وہ سیکڑوں مرتبہ ناکام ہوا ،اس نہج پر کوئی نہیں سوچتا۔لوئس پاسچر کو اپنے تعلیمی ادارے سے کند ذہن طالبعلم کا خطاب ملا اور کیمسٹری کے مضمون میں اس نے ہمیشہ سب سے کم نمبر لئے۔آئزک نیوٹن کی پہچان ایک غیر ذمہ دار طالبعلم کی تھی،اگر وہ لعن طعن سن کر زندگی سے سمجھوتہ کر لیتا اور مایوسی کا چلتا پھرتا اشتہار بن جاتا تو آج ہم اس کا ذکر نہ کر رہے ہوتے۔گراہم بیل نے جب فون ایجاد کیا تو ناقدین کا خیال تھا کہ یہ ایک غیر مفید چیز ہے جسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔باسکٹ بال کے سپر اسٹار مائیکل جورڈن اپنے اسکول کی باسکٹ بال ٹیم میں منتخب نہیں ہو سکے تھے،اگر وہ اپنے اسکول کے کوچ کا یہ فیصلہ تسلیم کر لیتے اور پہلی ناکامی سے دلبرداشتہ ہو جاتے تو کبھی سپراسٹار نہ بن پاتے۔ بل گیٹس کی کہانی کسے معلوم نہیں، والٹ ڈزنی جس نے ڈزنی لینڈ جیسا کامیاب ادارہ چلایا،اس نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ ایک اخبار میں ملازم تھا تو ایڈیٹر نے اسے غیر تخلیقی شخص قرار دیکر نوکری سے نکال دیا۔اس نے ڈزنی لینڈ کی بنیاد رکھی تو کئی بار دیوالیہ ہوا لیکن آج اس کا شمار امریکہ کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں کامیابی کی بیشمار داستانیں موجود ہیں۔ چوہدری سرور جو آج کل پنجاب کے گورنر ہیں ،ایک وقت تھا کہ وہ برطانیہ میں انڈے بیچا کرتے تھے۔شاہد خان جو پاکستانی نژاد امریکی ہیں اور ان کا شمار وہاں کے چند امیر ترین افراد میں ہوتا ہے ،1968ء میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے امریکہ گئے تو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ پر ڈش واشر کے طور پر کام کرتے رہے۔

آج ہر شخص مردم بیزار نظر آتا ہے، کوئی عشق میں ناکامی پر قید حیات سے چھٹکارا پانے کی کشمکش میں ہے تو کوئی غم روزگار سے یوں برسرپیکار جیسے شکست خوردہ سپاہی حالت جنگ میں ہو۔ کسی کو یہ غم کھائے جاتا ہے کہ امتحان میں امتیازی نمبر نہیں لے سکا تو کوئی اس پریشانی میں ہے کہ سالہا سال سے دفتروں کی خاک چھانتے گزر گئے مگر ملازمت نہیں ملی۔ اسی طرح کوئی ازخود یہ طے کر کے بیٹھا ہے کہ اس کے ستارے گردش میں ہیں، سونے میں ہاتھ ڈالتا ہے تو مٹی ہو جاتا ہے۔ ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں سمیٹتے کچھ لوگ اس لئے حسرت و یاس کی تصویر بنے پھرتے ہیں کہ ناکامیوں نے ان کے آنگن میں مستقل پڑائو ڈال لیا ہے۔

ہمارے ہاں ناکامی کامیابی کا زینہ بننے کے بجائے مایوسی کا سفینہ اس لئے بن جاتی ہے کہ ہم ناکامی کے اسباب تلاش کرنے کے بجائے اپنی نااہلی چھپانے کے لئے تاویلات اور توجیہات ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ ابتلا و آزمائش کی بھٹی میں جلنے کے بجائے حسد کی آگ میں جلنے لگتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔بعض اوقات عزم اور اخلاص میں کوئی کمی نہیں ہوتی مگر بصیرت کی ناپختگی آڑے آ جاتی ہے۔ بسا اوقات بصیرت، عزم اور اخلاص کی بنیادی شرائط پوری ہونے کے باوجود ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ ہم مقررہ وقت سے پہلے قسمت آزمائی کر بیٹھتے ہیں لیکن ہر شخص کی زندگی میں وہ موڑ آتا ضرور ہے جہاں سے درست راستے کا انتخاب کر کے منزل مراد پائی جا سکتی ہے۔ چرچل کہتا ہے،ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا خاص لمحہ ضرور آتا ہے جب اس کا کندھا تھپتھپایا جاتا ہے اور ایک ایسا خاص کام کرنے کا موقع ودیعت ہوتا ہے جو اس کی صلاحیتوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔ بدقسمت وہ ہے جسے وہ پل میسر آئے اور وہ اسے گنوا دے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.