چین اور سعودی عرب کا مستقبل میں اتحاد

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مشکل سال آنے والے ہیں۔ شاید پانچ سے دس سال۔ اس مستقبل کے لیے ایک نئی عالمی اور بین الاقوامی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکا کا شاید وہ کردار نہ رہے جو وہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے ادا کرتا چلا آرہا ہے۔ یورپ اپنے جنوب میں واقع ہمسائے شمالی افریقہ پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گا۔دوسرے ممالک جیسا کہ خلیجی عرب ممالک ہیں،وہ اپنے دفاع کے لیے چھوٹے چھوٹے بلاک قائم کرسکتے ہیں۔وہ اپنے بڑے مفادات پر مبنی مزید اضافی اتحاد بھی قائم کرسکتے ہیں۔

سعودی ولی شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کا حالیہ دورۂ چین ایک اضافی دلچسپی کا موجب ہے۔وہ چار روزہ دورہ مکمل کرکے اتوار کو ریاض لوٹے ہیں۔سعودی عرب چین کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ اس کا ایک اہم شراکت دار ہے۔چین سعودی عرب سے روزانہ دس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل خرید کرتا ہے۔ مزید برآں سعودی عرب چین کی مسلم اقلیت کے لیے روحانی مرکز نگاہ ہے۔میں بھی اس دورے میں سعودی ولی عہد کے ساتھ چین گیا تھا۔اس سے قبل سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے چین کا دورہ کیا تھا اور شاہ عبدالعزیز نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا ایک لمبا عرصہ چھوڑا تھا۔تیل اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری چین اور سعودی عرب کے درمیان طویل المیعاد تعلقات کی بنیاد ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ چینی بہت زیادہ سیاست کو پسند نہیں کرتے ہیں۔چنانچہ اہم سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں کوئی اپنے مفادات کا کیسے تحفظ کرسکتا ہے؟دنیا کے جن ممالک کو آیندہ چند برسوں کے دوران نئے چیلنجز کا سامنا ہوگا،انھیں اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہے۔

چین اور یورپ کے نمایاں ممالک اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ مستحکم ممالک کے ساتھ تعلقات ناقابل اعتبار یا ایران جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ایسے بہت سے اشاریے موجود ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین اپنی خریداریوں سے کہیں زیادہ تزویراتی مفادات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔تیل اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری چین اور سعودی عرب کے درمیان طویل المیعاد تعلقات کی بنیاد ہیں۔


سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں وفد چین کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ہی آیا تھا۔اس سے شاید سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے کیونکہ امریکا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ خلیج سے مزید تیل خرید کرنے کی سکت نہیں رکھتا ہے کیونکہ اس کے پاس تیل کے کافی ذخائر ہوگئے ہیں۔

چین اس وقت سعودی عرب جیسے ممالک ہی کی طرح تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ وہاں بتدریج تبدیلی رونما ہو رہی ہے اور یہ بظاہر بہت سست رفتار نظر آسکتی ہے۔میں قریباً بیس سال کے بعد دوبارہ چین گیا تھا۔اس ملک میں پُراسرار اور دلچسپ انداز میں تبدیلی کا عمل جاری ہے ۔بیجنگ میں کم وبیش ہر چیز تبدیل ہوچکی ہے۔جب میں پہلی مرتبہ چین گیا تھا تو بیجنگ کی چوڑی شاہراہوں پر ہر طرف بائیسکلیں ہی چلتی نظرآتی تھیں۔ان کی تعداد ہزاروں میں تھی جبکہ کاریں چند ایک ہی نظرآتی تھیں۔شہر کے گرمائی نظام کے لیے استعمال ہونے والے کوئلے کا سیاہ دھواں ہر طرف چھایا نظر آتا تھا۔تاہم اب چین ،اس کے عوام اور اس کا نظریہ تبدیل ہوچکا ہے۔

لیکن اس کے باوجود انقلاب مخالف اقدامات برپا کرنے والا رجیم تبدیل نہیں ہوا ہے اور وہ افراتفری سے بچتے ہوئے بتدریج تبدیل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔اسی طریقے سے چین دنیا کی امیر ترین اور مضبوط معیشت بن گیا ہے۔وہ اب اس مرحلے پر پہنچ گیا ہے کہ وہ نئی منڈیوں تک رسائی اور اپنے نئے اتحادوں کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ چین امریکا کی جگہ لے لے گا لیکن وہ دنیا کے اسٹیج پر ایک اہم کھلاڑی بن جائے گا۔اس کے علاوہ اس کی فلاسفی اور عملی کردار روس سے بہت مختلف ہے کیونکہ اس ملک (روس) نے تو جہاں بھی مداخلت کی ہے،اس کا بھیانک چہرہ سامنے آیا ہے۔

---------------
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ وہ عالمی شہرت یافتہ صحافی ہیں۔ قبل ازیں وہ لندن سے شائع ہونے والے عرب روزنامے الشرق الاوسط کے ایڈیٹر انچیف رہ چکے ہیں۔ اس اخبار کے ساتھ اب بھی کالم نگار کی حیثیت سے ان کی وابستگی برقرار ہے اور وہ اس کے لیے باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔ الشرق الاوسط میں شائع ہونے والے اس کالم کوامتیاز احمد وریاہ نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size