السیسی کی شام سے متعلق پالیسی

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

مصر کے نومنتخب صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران داخلی مسائل اور مصری شہریوں کی تشویش اور تحفظات پر ہی اپنی توجہ مرکوز کی تھی۔ انھوں نے عالمی امور، لیبیا کے استحکام اور خلیج کے تحفظ کے بارے میں کوئی زیادہ بات نہیں کی ہے۔

شامی رجیم سے تعلق رکھنے والی ویب سائٹس نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ مصر کے نئے صدر شام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس قول کی بنیاد یہ ہے کہ وہ انتہا پسند اسلامی گروپوں کے خلاف ہیں اور وہ اخوان المسلمون کے خلاف بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

تو کیا ہم یہ بات جانتے ہیں کہ نو منتخب صدر علاقائی ایشوز کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں؟ نہیں۔ ابھی نہیں۔ ذاتی طور پر میں السیسی سے ایک ہی مرتبہ ملا ہوں۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے۔ تب وہ مصر کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ تھے اور مسلح افواج کی سپریم کونسل کے ایک رکن تھے۔ اسی فوجی کونسل نے 2011ء کے اوائل میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر کا اقتدار سنبھالا تھا۔ میں نے اس انقلاب کے تھوڑے عرصے کے بعد ہی ان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی تھی۔ میں اس وقت یہ اندازہ نہیں کر سکا تھا کہ وہ معاندانہ رجحان رکھنے والی شخصیت ہیں یا وہ جارحانہ خیالات کے حامل ہیں۔ وہ حقیقت پسند، متحمل اور مصر کے مستقبل کے بارے میں مشوش نظر آئے۔ انھیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ ملک کو طوائف الملوکی سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اب ہم یہ نہیں جانتے کہ خارجہ سیاست میں وہ کیا موقف اختیار کریں گے لیکن ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ مصر اپنی تنہائی سے نکل آئے گا اور آیندہ ہفتوں کے دوران ایک طویل غیر حاضری کے بعد مختلف خارجہ مسائل کے حوالے سے معاملہ کاری شروع کر دے گا۔ مصر ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے علاقائی منظر نامے سے غائب ہے۔

السیسی کی خطے کے سب سے سلگتے ہوئے اور مشکل مسئلے شام کے بارے میں پالیسی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے یہ سوال پوچھیں کہ ان کا ایران کے بارے میں کیا موقف ہے؟

مصری وجوہات کی بنا پر ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ السیسی کی معزول صدر حسنی مبارک کے مقابلے میں ایران کے بارے میں سخت پالیسی ہوگی۔ حسنی مبارک نے اپنے دور حکومت میں تہران میں علماء کی حکومت سے اپنے تعلقات منقطع ہی رکھے تھے۔اخوان المسلمون کے ایرانی رجیم کے ساتھ طویل عرصے سے روابط استوار تھے اور محمد مرسی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ ان کے لیے قاہرہ کے دروازے کھول دیے تھے حالانکہ 1979ء میں شاہ ایران کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ایرانی رجیم کے مصر کے ساتھ روابط منقطع تھے۔

ایرانی رجیم نے ایک سکیورٹی اور انتظامی ٹیم مرسی کو ریاست کے امور چلانے کے لیے مدد دینے کی غرض سے بھیجی تھی۔ مرسی نے ان کے مشورے کو قبول کرتے ہوئے ان کی تقلید کی کوشش کی اور عدلیہ ،سکیورٹی اور میڈیا کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔تاہم تب تک بہت تاخیر ہوچکی تھی۔

اگر السیسی ایرانی رجیم کو حقیقی طور پر اپنا مخالف خیال کرتے ہیں تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ شامی انقلاب کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور خاص طور پر شامی قومی اتحاد اور جیش الحر کی حمایت کریں گے۔ اس طرح وہ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،اردن اور باقی اعتدال پسند عرب ریاستوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔شام خطے میں ایران ہی کا لمبا ہاتھ ہے اور یہ حماس، جہاد اسلامی اور حزب اللہ کے حامی ہیں جو تہران کی حمایت کرتے ہیں۔

تاہم ایک سال پہلے کی بات ہے۔السیسی کے کیمپ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا تھا کہ وہ بشارالاسد کے ساتھ ہیں کیونکہ عرب فوجوں کے خاتمے کے لیے ایک غیر ملکی سازش پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ صدام حسین کی فوج کو ختم کر دیا گیا اور اب بشار الاسد کی فوج محاصرے میں ہے مگر مصری فوج اس سازش کو قبول نہیں کرے گی۔ میرا نہیں خیال کہ علاقائی تنازعات اتنے سادہ ہوں گے۔

حافظ الاسد اور بشارالاسد کے ادوار حکومت میں شامی فوج محض ایک صدارتی فورس بن کر رہ گئی ہے۔ اس نے اکتوبر 1973ء کی جنگ سمیت اسرائیل کے ساتھ گذشتہ برسوں کے دوران لڑی گئی تمام جنگوں میں شکست کھائی ہے۔ اس کو لبنان میں اسرائیلیوں کے ساتھ محاذ آرائی میں بھی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ لبنان میں مداخلت کے بعد یہ قابض فوج بن گئی تھی۔ اس نے چالیس سال سے زیادہ عرصے تک شامی عوام کی اکثریت کو جبر و استبداد کا نشانہ بنائے رکھا ہے۔

اس کا مصری فوج سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا جس نے ایک ادارے کے طور پر مصر کو برقرار رکھا ہے اور اس نے ایک توازن بھی برقرار رکھا ہے۔ اس کو مصری اپنی فوج ہی سمجھتے ہیں۔ جہاں تک اخوان المسلمون کے ساتھ تعلقات کا تعلق ہے تو اسد رجیم اور اس کی لبنانی اتحادی حزب اللہ نے حسنی مبارک اور انورالسادات کی حکومتوں کے مقابلے میں اس جماعت کی حمایت کی تھی۔

میرے خیال میں صدرعبدالفتاح السیسی سعودی عرب ایسے قریبی اتحادیوں کی حمایت کریں گے۔ وہ شامی انقلاب کی حمایت کریں گے اور وہ ایران مخالف موقف محض اس وجہ سے اختیار نہیں کریں گے کہ وہ ایران اور اخوان المسلمون کے مخالف ہیں بلکہ وہ ایسا اس وجہ سے بھی کریں گے کہ خطے کو نئے اتحاد میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو خطے کی از سر نو تنظیم نو کرے اور استحکام لائے۔

اگر السیسی ایسا کرتے ہیں تو اس طرح وہ خطے کو درپیش تباہ کاریوں کو بھی روک لگا دیں گے اور ان کو بھی جو مصری انقلاب کو اس کے ابتدائی ہفتوں کے دوران سبوتاژ کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ میں ان لوگوں کا حوالہ دے رہا ہوں جو حزب اللہ، حماس اور جہاد اسلامی سے تعلق رکھتے تھے اور مصر میں در آئے تھے اور جنھوں نے جیلوں سے ایسے قیدیوں کو بھی چھڑوا لیا تھا جو دہشت گردی کے الزامات میں سزا یافتہ تھے۔ اس لیے تمام راستے دمشق کی جانب ہی جاتے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size