.

عراقی باغی کون ہیں؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں نے گذشتہ کالم بعنوان ''عراق ۔۔۔۔ جہنم میں خوش آمدید'' میں عرض کیا تھا کہ اپنے اگلے کالم میں اس بارے میں اظہار خیال جاری رکھوں گا کہ جن لوگوں نے حکومت مخالف تحریک میں حصہ لیا، کیا وہ داعش، بعث پارٹی یا قبیلے کے ارکان تھے؟ اس لیے اس پر بات کرتے ہوئے 2012 داعش اور النصرہ فرنٹ کے بارے میں پہلی مرتبہ سامنے آنے والی بحث کا ذکر ضروری ہے۔

اس وقت بعض لوگوں نے تو سرے سے ہی ان کی موجودگی سے انکار کیا لیکن بڑی تعداد میں لوگوں کا کہنا تھا ان دونوں گروپوں کا دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ یہ شام کی قومی جماعتوں سے متعلق ایسے گروپ ہیں جو اسلامی شناخت رکھتے ہیں۔ بعض کو ان گروپوں کے حوالے سے یہ بھی شبہ تھا کہ یہ دونوں بنیادی طور پر بشار رجیم سے ہی تعلق رکھتے ہیں، جیسا کہ بشا رجیم اس سے پہلے لبنان اور عراق میں بعض گروپوں کو مالی امداد دیتی رہی تھی۔

ان عسکری گروپوں کے بارے میں یہ بحث تقریبا ایک سے ڈیڑھ سال اس وقت تک چلتی رہی جب تک یہ بات حتمی طور پر سامنے نہ آئی کہ یہ دونوں گروپ القاعدہ ہی ہیں اور ان گروپوں نے اقلیتوں کو دھمکا کر شامی رجیم کی سیاسی اعتبار س خدمت انجام دی ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ بین الاقوامی طاقتوں کی مخالفت کی بلکہ شام کی آزاد فوج کے خلاف ہر شامی علاقے میں لڑتے رہے۔

القاعدہ نے عراق میں پہلے اسے ایمن الظواہری کی ماتحتی میں دیے رکھا۔ اس سے مقامی طاقتوں کے ساتھ اس کا کنفیوژن بھی رہا۔ اسی اثناء میں عراق کے سنی مفتی نے ایک پیش رفت کی اور داعش کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے دیا، جبکہ بعث پارٹی، فوجیوں اور قبائل کو بری قرار دے دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ کویت کے خلاف جنگ سے لے کر بعث پارٹی اور نہ ہی بعث پارٹی کے لوگ وجود رکھتے ہیں، یہ قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔ اب صرف ناراض سنی عراقیوں کی اصطلاح بروئے کار ہے۔

امریکی جنرل پیٹریاس اس حقیقت سے آگاہ تھے اسی لیے انہوں نے محسوس کیا کہ سنیوں کو درجوں میں بانٹنا زیادہ دیر تک کامیابی سے چلنے والی حکمت عملی نہیں ہو سکتی ہے۔ اسی لیے پیٹریاس نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے انبار قبائل کے ساتھ تعاون شروع کیا۔ نتیجتا انبار کے قبائل نے جنرل پیٹریاس کے ساتھ مل کر القاعدہ کا مقابلہ کیا۔ جنرل پیٹریاس اس امر بھی قائل نظر آئے کہ سنی اپوزیشن کی پارلیمنَٹ میں ایک خاص تعداد کا ہونا ضروری ہے۔

موجودہ بحران کا آغاز صوبہ انبار میں پرامن احتجاج سے دسمبر 2013 میں ہوا۔ یہ پارلیمانی انتخابات سے پہلے کی بات ہے۔ احتجاج کرنے والوں کی طرف سے 17 نکاتی مطالبات پیش کیے گئے۔ اہم مطالبات میں سے ایک مطالبہ قیدیوں کی رہائی اور سزائیں ختم کرنے کے حوالے سے تھا۔ بہت سے شیعہ رہنماوں مقتداء الصدر اور عمار الحکیم نے بھی ان مطالبات کو درست سمجھا لیکن نوری المالکی نے ان مطالبات پر بات چیت کرنے کے بعد بھی احمقانہ پن کا ثبوت دیا اور شہد کی مکھیوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا۔ بلاشبہ نوری المالکی عام طور پر اپنی بے وقوفی کی وجہ سے ہی جانے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم نوری المالکی نے بڑی تعداد میں فورس بھیج کر ایک ممتاز قبیلے سے تعلق رکھنے والے منتخب رکن اسمبلی احمد العلوانی کو گرفتار کر لیا اور ان کے بھائی کو قتل کرا دیا۔ یہ دستور کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ علوانی آج بھی زیر حراست ہیں جبکہ صوبہ انبار برے حال میں جا چکا ہے۔

داعش اور القاعدہ کے حوالے سے سچ یہ ہے کہ یہ دونوں تنظیمیں عراقی صوبوں میں موجود ہیں۔ جیسا کہ وہ سنی قبائل کے پاس چھپی ہوتی تھیں۔ ان کی کہانی پچھلی جنگ کے حوالے سے ایک تاریخ کے اہم باب کی طرح ہے۔ جیسا کہ عبدالستار ابو ریشہ نے سنی عرب قبائل اور انبار سالویشن کونسل کا صرف ایک سال میں اتحاد جوڑ دیا تھا۔ اس نے القاعدہ پر غلبہ پا لیا اور سنی صوبے میں ایک سال کیلیے حالات بہتر رہے۔ ابو ریشہ کو وہ کامیابی ملی جو امریکی فوج کو بھی نہ مل سکی تھی۔ تاہم القاعدہ نے ابو ریشہ کو 2007 میں قتل کر دیا۔ قبائل کا اتحاد اس وقت تک جاری رہا جب تک امریکی افواج نے اقتدار نوری المالکی کے سپرد نہیں کر دیا۔ مالکی نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر اپنی حکومت کی حمایت کم کرا دی اور مخالفت بڑھالی۔

اس کے نتیجے مں ایک خلاء پیدا ہوا۔ اس خلاء کو داعش نے بھر دیا اور باغیوں کے ساتھ اتحاد کے رشتے میں منسلک ہو کر قبائل کو مسلح کرتے ہوئے خود کو نوری المالکی کی افواج کے ساتھ لڑائیِ میں مشغول کر لیا۔ بجائے اس کے مالکی قبائل کے ساتھ مذاکرات سے مسئلے کا حل نکالتے ان کی افواج نے فلوجہ کو تباہ کرتے ہو ئے لاکھوں شہریوں کو بے گھر کر دیا۔ اس کے باوجود فوج، داعش اور قبائل کو کچلنے میں ناکام رہی بلکہ مالکی نے انہیں مشتعل کیا کہ وہ مالکی کی افواج کا ہر جگہ تعاقب کریں۔

حتی کہ پچھلے بدھ کے روز عراقی جاگے تو موصل کے سقوط کا منظر سا،منے تھا، نینوا کے کے بھی کئی علاقے داعش کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں۔ تکریت اور صوبہ صلاح الدین کا کا بڑا حصہ اگلے دن سرکاری افواج کے قبضے میں چلا گیا۔ اب بغداد کے مختلف حصوں اور مضافات میں بھی یہ گروپ پوزیشنیں لے چکے ہیں۔ سابق فوجییوں کے باغی گروپ اور قبائل کی اکثریت ہے، جبکہ داعش بھی موجود ہے اور آئندہ دنوں میں یہ نوری المالکی اور ان کے اتحادیوں کے لیے بڑے خطرے کی صورت میں موجود ہو گا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شام میں تین کھلاڑیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اسد کی افواج اور اس کے ایرانی اتحادی اور آزاد شامی افواج اور ان کے اتحادیوں کے علاوہ دہشت گرد جو داعش اور النصرہ فرنٹ پر مشتمل ہیں۔

عراق میں داعش کی موجودگی حقائق میں کسی بڑی تبدیلی کا باعث نہیں بنے گی۔ عراقی آبادی کا ایک تہائی حصہ پہلے ہی فرقہ وارانہ پس منظر رکھنے والی حکومت کے ہاتھوں سزا پا رہا ہے۔ اس سزا کی وجہ سوائے ابن الوقتی پر مبنی سیاسی وجوہات کے اور کچھ نہیں ہے۔ عراقی رجیم کے خلاف شروع ہو چکی بغاوت جاری رہے گی۔

القاعدہ نے اب سیکھ لیا ہے کہ جہاں کہیں بھی عوامی سطح پر ناراضگی پائی جاتی ہو وہاں گھسنے کی کوشش کی جائے۔ جیسا کہ افغانستان اور شام میں سیاسی خلاء کی وجہ سے ہو چکا ہے۔ تاہم یہ ذہن نشیں رہنا چاہیے کہ القاعدہ ناراض عراقیوں کی آرزوں کو پورا نہیں کر سکتی۔ نوری المالکی، داعش سے زیادہ برا اور خطرناک ہے۔ وہ ایک برا شخص ہے جو اقتدار میں رہنے کے لیے ہر وقت قتل عام کے لیے تیار رہ سکتا ہے۔ بالکل شامی صدر بشار الاسد کی طرح۔ اس لیے عراق میں استحکام لانے کے لیے نوری المالکی سے نجات ضروری ہے۔ یہ لازم ہے کہ مالکی اور القاعدہ دونوں سے نجات پائی جائی۔ امید ہے کل کے کالم میں عراق میں ایرانی مداخلت کا ذکر کروں گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.