.

نوری المالکی قابل بھروسہ یا تشویش کا باعث شخصیت؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی، جن کے اقتدار کا مینڈیٹ اور مدت ختم ہو چکی ہے، پچھلے سال نومبر 2013 میں اپنے دورہ امریکا کے دوران وائٹ ہاوس کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مالکی کے اس دورے سے پہلے امریکی انتظامیہ ان سے ناخوش تھی۔ اس ناراضی کی وجہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد مالکی کی زیر قیادت بد انتظامی کی بدولت ملک میں پھیلنے والی کرپشن، فرقہ واریت کے علاوہ ایران اور شام کو عراق سے فراہم کی جانے والی خدمات بھی تھیں۔

نوری مالکی نے اوباما انتظامیہ کو رام کرنے کے ساتھ ساتھ نرم گرم تعلقات پر قابو پا لیا۔ امریکا کو اس مقصد کے لیے مالکی نے یقین دلایا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں سرگرم ہیں۔ نیز وہ دیے گئے نظام الاوقات کے مطابق عام انتخابات کرانے پر بھی یکسو ہیں۔

امریکی دورے سے واپس آتے ہی نوری المالکی نے صوبہ انبار میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے نام پر فوج بھجوا دی اور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ امریکا نے اس کے لیے سفارتی انداز میں حمایت کا اہتمام یوں کیا کہ اسے ہیل فائر میزائل، اپاچی ہیلی کاپٹر اور ڈرون طیارے جدید اسلحے کی صورت میں دے دیے۔

اس سے ایک سال پہلے مالکی نے روسی حمایت اس طرح حاصل کی تھی کہ روس کے ساتھ چار اعشاریہ تین ارب ڈالرکا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کا مشرق وسطی کے کسی ملک کے لیے اسلحہ فراہمی کا سب سے بڑا معاہدہ تھا۔

اس معاہدے کے بعد ہی روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا وہ تاریخی بیان سامنے آیا کہ ''دونوں ملک علاقائی معاملات پر ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی روس نے شام کے لیے اپنی امداد میں اضافہ کر دیا۔ اس طرح مالکی نے آنے والے برسوں میں اپنی حکومت کے لیے راستہ بنایا کہ عالمی طاقتیں اس کے ساتھ ہیں لیکن مالکی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صدام کی طرح کا انداز حکومت رکھتے ہیں۔ گویا اختیارات کا ایک ہی ہاتھ میں ارتکاز صدام کی طرح مالکی کو بھی پسند ہے۔

صدام کا خیال تھا کہ اس کی بڑی فوج، بڑھا ہوا ظلم، مخالفین کا صفایا، ریاستی وسائل پر حاوی ہونا، مالی اور عسکری اعتبار سے تمام تر اختیارات کو اپنے ہاتھ میں رکھنا اس کے اقتدار کے قائم رہنے کی ضمانتیں ہیں۔ اسی بنیاد پر اس نے امریکا کے لیے ایران سے جنگ کی، اس کے مقابلے میں مالکی نے ایران کی خوشی کے لیے بشار الاسد کی مدد کی جبکہ امریکی خوشی کے لیے انبار میں القاعدہ کے خلاف فوج بھی بھجوا دی۔

اب مالکی کو عراق اور عراقی رجیم کی نہیں اپنی بقاء کی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ اس امر کی تردید نہیں کی جاتی کہ مالکی ایک خوفناک خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ خطرہ دہشت گردی اور عراق کی تقسیم کا ہے۔ امریکا کی طرح بہت سی عراقی قومی جماعتیں بھی یہ محسوس کر رہی ہیں کہ مالکی مسئلے کا حل نہیں بذات خود بڑا مسئلہ ہیں۔

اگر مالکی سنیوں کے خلاف جنگ نہ کرتے تو القاعدہ کو ایسی خوفناک واپسی کا موقع ملتا۔ نہ ہی القاعدہ ایک مرتبہ پھر دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی۔ اگر مالکی آمرانہ انداز نہ رکھتے، کرد کرکوک پر قبضہ کر پاتے نہ آزاد کرد ریاست کی بات زور پکڑتی۔ اس وقت غصہ صرف اقلیتوں میں نہیں ہے بلکہ شیعہ عوام بھی مالکی سے خوش نہیں ہے۔ زیادہ تر شیعہ رہنماوں اور دوسری جماعتوں کا یہ مطالبہ سامنے آ چکا ہے کہ ایک ایسی حکومت بنائی جائے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

نوری مالکی کے خلاف اس موثر مہم کے نتیجے میں اگر عراقی عوام خود کو متحد رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اس امیر اور متنوع قسم کے ملک کے لیے زیادہ اہم بات ہو گی۔ اگر لوگ امن بحال کرنا چاہتے ہیں تو ان کے پاس دستور کے تحت سیاسی مفاہمت کے بغیر کوئی آپشن نہیں ہو سکتی ہے۔ عراقی عوام کو ضرور ایک ایسی حکومت بنانا ہو گی جو مفاہمت کا حصول ممکن بنا سکے اور مالکی کے فاشسٹ اقتدار کے انجام کا ذریعہ بن سکے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.