.

فنون لطیفہ کی مخالفت کیوں؟

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مولانا ابو الکلام آزاد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔وہ اپنے عہد کے مفکر اسلام ہی نہیں ایک صاحب طرز ادیب اور شعلہ بیاں خطیب بھی تھے۔ انہوں نے فلسفے کی گتھیاں بھی سلجھائیں اور اپنی سحر انگیز تحریروں سے بھی اکناف عالم کو مبہوت کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ میدان سیاست کے شہسوار بھی تھے۔ ان کی مادری زبان عربی تھی مگر اس کے باوجود ان کی نثر کسی شکر پارے کی مانند منہ میں گھلتی چلی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ مایوسی و ناامیدی کے سمندر میں امیدوں اور توقعات کے جزیروں سے روشناس کراتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ایوان و محل نہ ہوں تو کسی درخت کے سائے سے کام لیں۔ دیبا و مخمل کا فرش نہ ملے تو سبزہء خودرو کے فرش پر جا بیٹھیں۔ اگر برقی روشنی کے کنول میسر نہیں تو آسمان کی قندیلوں کو کون بجھا سکتا ہے؟ اگر دنیا کی ساری مصنوعی خوشنمائیاں اوجھل ہو گئی ہیںتو ہو جائیں، صبح اب بھی ہر روز مسکرائے گی۔ چاندنی اب بھی ہمیشہ جلوہ فروزی کرے گی۔ لیکن دل زندہ پہلو میں نہ رہے تو خدارا بتلایئے اس کا بدل کہاں سے ڈھونڈیں ؟

اس کی خالی جگہ بھرنے کے لئے کس چولہے کے انگارے سے کام لیں گے؟‘‘مولانا جب کانگریس کے صدر کی حیثیت سے ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘کے سرخیل تھے تو انہیں نصف شب کے قریب دیگر کانگریسی رہنمائوں سمیت گرفتار کر لیا گیا اور قلعہ احمد نگر منتقل کر دیا گیا جہاں وہ تین برس قید رہے۔اس اسیری کے دوران انہوں نے ایک شہرہ آفاق کتاب ’’غبار خاطر ‘‘ تصنیف کی۔متفرق موضوعات پر مشتمل یہ ان کی آخری کتاب ہے اور نہ صرف اسلوب نگارش کے حوالے سے نقطہ ء عروج کو پہنچی ہوئی ہے بلکہ استدلال و تخیل کے اعتبار سے بھی شاہکار تصنیف ہے۔ مولانا آزادکا فنون لطیفہ میں شغف کسی سے پوشیدہ نہیں۔وہ نہ صرف خود ایک عمدہ ستار نواز تھے بلکہ ساز و ترنم کے دلدادہ بھی تھے۔

اس زمانے میں طاہرہ نام کی ایک عرب مغنیہ جو خود تو بلائے جان تھی ہی مگر اس کی صدائے درد اس سے بھی کہیں زیادہ آفتِ ہوش و ایمان تھی، مولانا کی نہ صرف اس سے شناسائی تھی بلکہ وہ اس دور کی ایک اورجان لیوا مصری مغنیہ اُمِ کلثوم کے بھی پرستاروں میں شامل تھے۔ اُم کلثوم نے ایک عرصہ دلوں پر راج کیا اور 1975 ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس دور میں موسیقی کے ریکارڈ سننے کے لئے مولانا لاسلکی کا سفری سیٹ استعمال کیا کرتے تھے مگر دوران اسیری یہ سہولت چھین لی گئی تو انہوں نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھا:’’میں آپ سے ایک بات کہوں ! میں نے بار ہا اپنی طبیعت کو ٹٹولا ہے۔ میں زندگی کی احتیاجوں میں سے ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں لیکن موسیقی کے بغیر نہیں۔ آواز خوش میرے لئے زندگی کا سہارا، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل کی بیماریوں کا علاج ہے۔ مجھے اگر آپ زندگی کی رہی سہی راحتوں سے محروم کرنا چاہتے ہیں تو صرف اس ایک چیز سے محروم کر دیجئے، آپ کا مقصد پورا ہو جائے گا۔‘‘ اس کتاب میں شامل آخری مراسلے میں مولانا آزاد نے اس حوالے سے اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار کیا ہے کہ اسلام فنون لطیفہ کے خلاف نہیں بلکہ ہمارے علماء نے اس ضمن میں ضرورت سے زیادہ سخت گیریت سے کام لیا ہے۔

ان کے اپنے الفاظ کچھ یوں ہیں’’اس بات کی شہرت ہو گئی ہے کہ اسلام کا دینی مزاج فنون لطیفہ کے خلاف ہے اور موسیقی محرمات ِ شرعیہ میں داخل ہے حالانکہ اس کی اصلیت اس سے زیادہ کچھ نہیںکہ فقہا نے سدِوسائل کے خیال سے اس بارے میں تشدد کی اور یہ تشدد بھی باب قضاء سے تھا نہ کہ باب تشریع سے۔ قضاء کامیدان نہایت وسیع ہے،ہر چیز جو سوئِ استعمال سے کسی مفسدہ کا وسیلہ بن جائے قضاء کی رو سے روکی جا سکتی ہے لیکن اس سے تشریع کا حکم اصلی اپنی جگہ سے نہیں ہل جا سکتا۔‘‘با الفاظ دیگر اگر کسی بگاڑ کا اندیشہ ہو تو علماء اجتہاد کر سکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ وہ شے ازروئے شریعت حرام ہو گئی کیونکہ حلال و حرام کا تعین تو پروردگار نے کر دیا ہے۔

موسیقی سے متعلق اس باب میں مولانا آزاد نے بہت سے ایسے علماء کا ذکر کیا ہے جو خود فن موسیقی میں مہارت رکھتے تھے ۔مثال کے طور پر علامہ سعداللہ خان چنیوٹی جو شاہجہانی کہلائے کیونکہ شاہجہان نے انہیں اپنے بیٹوں کے لئے اتالیق مقرر کیا اور بعد ازاں شاہجہان کے معتمد خاص اور وزیر اعلیٰ بھی رہے۔علامہ سعد اللہ خان چنیوٹی مُلا عبدالسلام لاہوری کے شاگرد تھے۔ محدث گجرات ،قاضی القضاء شیخ عبدالوہاب کے خاندان سے تعلق رکھنے والے علماء شیخ معالی خان اور مُلا طاہر پٹنی کی انگلیاں آلات غناء سے ہم آہنگ تھیں۔مُلا عبد القادر بد ایونی جیسے زاہد خشک اور متشرع و متصلب عالم دین بھی بین بجانے میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ الغرض مولانا آزاد کا خیال ہے کہ وہ علماء جو کسی وجہ سے اشتغال موسیقی سے دامن گیر نہ ہوئے، وہ بھی فن کے ماہر اور نکتہ شناس ضرور تھے۔ مغل بادشاہ اکبر کے دور میں فن موسیقی عروج پر تھا اور اسے دیگر فنون دانشمندی میں امتیازی حیثیت حاصل تھی۔ موسیقی میں مہارت حاصل کیے بغیر تحصیل علم کا مرحلہ مکمل نہ ہوتا اور شرفاء اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے وقت موسیقی کے باکمالانِ فن کی خدمات ضرور حاصل کرتے۔ اگرچہ موسیقی اور شاعری ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے مگر باوجوہ ہمارے ہاں الفاظ کے تخیل سے مناقحت پر تو کسی کو اعتراض نہیں مگر ساز و آواز کے ملاپ پر غل مچ جاتا ہے۔ موسیقی اور شاعری تو ایک دوسرے کا پرتو ہیں کیونکہ ُدھن بنانے والا فنکار خوش الحانی کے اجزائے ترکیبی کو وزن و تناسب کے اعتبار سے ترتیب دیتا ہے توشاعر تخیل کو صفحہ ء قرطاس پر منتقل کرتے ہوئے الفاظ و معنی کے حسین امتزاج میںڈھال دیتا ہے۔

جس طرح ہمارے ہاں دیگر فنون لطیفہ کو بیک جنبش قلم حرام اور غیر اسلامی قرار دے دیا گیا،اسی طرح موسیقی کو بھی ناچنے گانے والوں سے جوڑ کر بے توقیر کر دیا گیا۔ موسیقی کو حرام قرار دینے والے علماء کی نیت شاید یہ رہی ہو گی کہ موسیقی کے سیلاب کے آگے بند نہ باندھا گیا تو رفتہ رفتہ رقص و سرود مجروں کی شکل اختیار کر لے گا اور موسیقی اباحیت کے فروغ کا موجب بنے گی۔ لیکن اس سے ہمارا معاشرہ عجیب و غریب تضادات کا شکار ہو گیا ہے ۔اب ہم گلوکاروں ،موسیقاروں اور فنکاروں سے لاتعلق تو نہیں رہ سکتے اور اپنی جبلت کے پیش نظر ان کے تراشیدہ فن سے لطف اندوز تو ہوتے ہیں مگر ان فنکاروں کو معاشرے میں قابل احترام مقام دینے کو تیار نہیں۔موسیقی سے متعلق ہمارے ہاں منفی طرز عمل کیسے پیدا ہوا؟ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فن جب طوائفوں اور بھانڈوں تک محدود ہو گیا تو اس کی پہلے جیسی قدر و اہمیت نہ رہی۔ اس کی مثال بلیئرڈ یا اسنوکر جیسی ہے۔ دیگر تفریحی سرگرمیوں کی طرح یہ کھیل بھی برا نہیں بلکہ قائد اعظم کا پسندیدہ کھیل ہے لیکن جب بلیئرڈ کلب منفی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے اور یہ کھیل محض آوارہ اور اوباش لڑکوں تک محدود ہو گیا تو معاشرے میں اس سے متعلق تاثر تبدیل ہو گیا۔ یقیناً موسیقی سمیت فنون لطیفہ کی حدود و قیود ضرور مقرر ہونی چاہئیں لیکن علماء یہ وضاحت ضرور سامنے لائیں کہ اسلام فنون لطیفہ کے خلاف نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.