کڑوا سچ اور میٹھی شاعری

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ہمارے ہاں ایشوز کی اس قدر بہتات ہے کہ ایک بار جو موضوع لاپتہ ہو جائے پھرکئی ماہ بعد اس کی مسخ شدہ لاش ہی ملتی ہے۔ انتخابات سے قبل دہری شہریت کے حوالے سے بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری تھا ،معاملہ عدالت تک گیا،بعض ارکان پارلیمنٹ نااہل بھی ہوئے مگر پھر وہی ہوا جو باقی ایشوز کے ساتھ ہوتا ہے۔چند روز قبل لاہور میں ایک تقریب کے دوران پاکستانی نژاد امریکی شاعر پروفیسرحمادخان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے چھوٹتے ہی یہ گلہ کیا کہ ہمارے دیس کے لوگ سمندر پار پاکستانیوں کو پل بھر میں پرایا کر دیتے ہیں۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہم جہاں بھی چلے جائیں ،ہمارے اندر کا پاکستانی زندہ رہتا ہے۔یہ شکوہ ان تمام بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ہے جو روزگار یا خوشحال زندگی کی تلاش میںاپنے ملک کو داغ مفارقت دے گئے۔حالانکہ انہیں پاکستان میں مقیم ہم وطنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ حقوق حاصل ہیں اور پاکستان آمد پر ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔اگر بندش ہے تو صرف ایک کہ دہری شہریت کے حامل افراد انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

اگر اس پابندی کے باعث انہیں حق تلفی کا احساس ہوتا ہے تو یہ قدغن تو سرکاری ملازمین پربھی ہے کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ہو سکتا ہے میری رائے حماد خان جیسے بےشمار افراد کو ناگوار گزرے مگر سچ یہی ہے کہ دہری شہریت کے حامل افراد کو مقننہ کا حصہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ایک شخص بیک وقت د وممالک کا وفادار نہیں ہو سکتا ۔اگر کوئی امریکی شہری قومی اسمبلی کا رکن بننے کے بعد کسی پارلیمانی کمیٹی کا ممبر بن جائے اور اسے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑیں تو وہ پاکستان کا مقدمہ کیسے لڑ سکے گا؟آپ اگر اس حلف کے الفاظ پر ہی غور کر لیں جو امریکہ کی شہریت حاصل کرتے وقت لیا جاتا ہے تو معاملے کی حساسیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

" I hereby declare,on oathe, that I absolutely and entirly renouce and abjure all alegiance and fidelity to any foreign prince,potentate,state, or soverignity of whom or which i have herefore been a subject or citizen.

جب آپ اپنے پرانے حلف وفاداری کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر یہ عہد کرتے ہیں کہ امریکی شہری کی حیثیت سے ملک کے دفاع کے لئے ہتھیار بھی اٹھانا پڑے تو گریز نہیں کریں گے تو پھر آبائی ملک میں کسی کلیدی منصب کے لئے اہل کیسے ہو سکتے ہیں ؟اس پرجھٹ پٹ یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ امریکہ نے بھی تو دہری شہریت کے حامل آرنلڈ شیوازنگر کو گورنر منتخب ہونے کی اجازت دی،برطانیہ میں سعیدہ وارثی،لارڈ نذیر ،چوہدری سرور اور شاہد ملک جیسے کئی پاکستانی مقننہ کا حصہ رہے تو پاکستان میں دہری شہریت کے حامل افراد پارلیمنٹ کا الیکشن کیوں نہیں لڑ سکتے۔لیکن یہ دلیل اورتاویل پیش کرتے وقت پوری بات نہیں بتائی جاتی کہ نئے حلف وفاداری کے بعد پرانا حلف مشکوک ہو جاتا ہے اور نئے حلف کو مقدم گردانا جاتا ہے۔مثال کے طور پر اگر جارج گیلوے پاکستان کا پاسپورٹ حاصل کر لیں تو کیا دارالعوام کے ممبر بن سکیں گے؟سچ یہ ہے کہ ان تمام ممالک نے محض ان ’’دیسی گوروں ‘‘کو اپنی پارلیمنٹ کا حصہ بننے کی اجازت دی ہے جو ’’مشرف بہ یورپ‘‘ ہو گئے۔دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کے سیاسی منصب حاصل کرنے پر تو اکثر و بیشتربات ہوتی ہے مگر وہ افسر شاہی جو اس ملک کے سیاہ و سفید کی مالک ہے،اسے کوئی نہیں پوچھتا ۔ سینیٹ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق ہمارے70فیصد بیوروکریٹ دوسرے درجے کے پاکستانی شہری ہیں کیونکہ انہوں نے بیرون ملک وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ان کے بچے کینیڈا، امریکہ، برطانیہ ،جرمنی اور فرانس میں پڑھتے ہیں۔

آڈیٹر جنرل پاکستان بلند اختررانا خود بھی دہری شہریت کے حامل تھے اور ان کے دفتر میں کلیدی عہدوں پر موجود 7اہم افسران دہری شہریت رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر ڈائریکٹر جنرل سید اقبال محمود زیدی کینیڈین ہیں۔ ڈائریکٹر اصغر خان اور سہیل احمد کے پاس برطانیہ کا پاسپورٹ ہے۔پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید اسد علی شاہ امریکی شہریت کے حامل ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کی فائونڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد یار کے پاس بھی امریکی پاسپورٹ ہے۔نادرا کے سابق چیئرمین طارق ملک کینیڈین تھے،فضاء شاہد جو موجودہ ڈی جی نادرا ہیں ،ان کے پاس آسٹریلیا کی شہریت ہے،ڈائریکٹر احمد کمال گیلانی پاکستانی نژاد کینیڈین ہیں۔دو ڈائریکٹر سہیل جہانگیر اور عدنان قریشی امریکی شہریت کے حامل ہیں۔ NHA میں 20ویں اسکیل کی آفیسرسحر سلیم یوکے نیشنل ہیں۔وزارت پیٹرولیم کی نسرین فرح کے پاس نیوزی لینڈ کا پاسپورٹ ہے۔ریونیو ڈویثرن کی ڈائریکٹر سمیرا نذیر خان نیوزی لینڈ کی شہری ہیں ۔

ایڈیشنل کمشنر سجاد تسلیم اعظم کے پاس برٹش پاسپورٹ ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹراورنگ زیب عالمگیر اور باسط حسین کینیڈین ہیں۔ڈاکٹر عمران عبداللہ ،ڈاکٹر عبدالرحمٰن اور ڈاکٹر وسیم ابراہیم بھی برٹش پاسپورٹ ہولڈر ہیں۔ مینا خان کے پاس جرمنی کی شہریت ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویثرن کے سی ای اوظہیر اے حسین امریکن ہیں۔جنرل منیجر رفعت جعفری یو کے نیشنل ہیں۔ پی ڈبلیو ڈی کے محمد خالد،انعام اللہ،محبوب عالم خان، ریاض الدین اور حمیرا خرم کینیڈین ہیں۔ حتی ٰ کہ نیشنل لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین افتخار حسین عارف بھی یو کے نیشنل ہیں۔ کہاں تک سنوگے کہاں تک سنائیں۔ یہ داستان تو بہت طویل ہے اور اس سے پہلے کہ بلڈ پریشر بڑھ جائے اور سر درد کرنے لگے، میں آپ کو واپس اس محفل میں لئے چلتا ہوں اور پروفیسر حماد خان کی میٹھی میٹھی باتیں سناتا ہوں۔
شاعری اور موسیقی لازم و ملزوم ہیں۔ شاعر دلربا تصور کو صفحہ ٔ قرطاس پر منتقل کر کے الفاظ و معنی کے قالب میں ڈھال دیتا ہے تو آلات غناء پر عبور رکھنے والا موسیقار جذبات و احساسات کو دُھن کے پیرائے میں متشکل کرتا ہے اس کے بعد گلوکار اپنی خوش الحانی کے رنگ بکھیرتا ہے اور ساز و آواز کے تال میل سے دلوں کے تار بج اٹھتے ہیں۔

چند روز قبل ایک ایسی ہی حسیں محفل میں جانے کا اتفاق ہوا تو سب سے پہلی پھلجھڑی میرے ساتھ بیٹھے پارلیمانی سیکریٹری اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماء رانا ارشد نے چھوڑی، کہنے لگے، میرا خیال تھا شہزاد خان عمرہ کرکے آئے ہیں تو اسی مناسبت سے کوئی محفل میلاد ہو گی مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ شام غزل کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ محفل امریکہ سے آئے نامور شاعر پروفیسر حماد خان (جن کا ذکر شروع میں بھی کیا تھا) کے اعزاز میں سجائی گئی تھی۔ سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے یہ شاعر پیشے کے اعتبار سے تو الیکٹریکل انجینئر ہیں اور امریکہ میں پڑھاتے ہیں مگر ان کی شاعری ملتانی سوہن حلوے اور آموں سے بھی کہیں زیادہ شیریں اور لذیز ہے۔راحت فتح علی خان کے بھانجے مسرور فتح علی خان نے حماد خان کی لکھی شاعری کے ساتھ ساز و آواز کے رنگ چھیڑے تو ہر شخص بے اختیار جھوم اٹھا باالخصوص جب قلم کا ذکر آیا تو میں بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس خوبصورت انسان کی یہ فکرانگیز غزل ملاحظہ کیجئے :

عمر بھر ہی صنم دیکھتے رہ گئے
نہ ہوا کچھ کرم دیکھتے رہ گئے

ان کے بڑھتے ستم دیکھتے رہ گئے
درد پھر بھی ہے کم دیکھتے رہ گئے

اس قدر تھا حسیں وہ خدا کی قسم
ہم خدا کی قسم دیکھتے رہ گئے

سب کو بھر بھر کے ساقی پلاتا رہا
جام اپنا تھا کم دیکھتے رہ گئے

بک رہا تھا قلم بیچ بازار میں
سب اہل قلم دیکھتے رہ گئے

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں