عراق میں جہاز اور اعتماد دونوں ہی گولیوں سے چھلنی ہوئے

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

عراق کے دارالحکومت بغداد کے ہوائی مستقر پر پچھلے ہفتے ''فلائی دبئی'' کے جیٹ طیارے پر چلائی جانے والی گولیوں سے نہ صرف بغداد کے لیے آنے والی بہت ساری پروازیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں بلکہ عراق حکومت سے بین الاقوامی امیدیں بھی تعطلی کی زد میں آ گئی ہیں۔ وہ امیدیں جو اقوام عالم نے نئی عراقی حکومت سے وابستہ کر رکھی تھیں کہ یہ ملک کو سنبھال لے گی اور عراق میں امن و استحکام کی نئی شروعات ہو سکیں گی۔ اس سے پہلے یہ بین الاقوامی پروازیں نہ صرف ہزاروں مسافروں کی آمدورفت اور ٹنوں کے حساب سے سامان کی نقل و حمل ممکن بناتی رہی ہیں بلکہ یہ عراقی رجیم اور ریاستی اداروں پر اظہار اعتماد کا ذریعہ بھی رہی ہیں۔ لیکن اب یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ عراق میں ائیر پورٹس اور ان کے ارد گرد کے ماحول کومحفوظ بنانے کی ضرورت زیادہ ہو گئی ہے۔

لیکن اس واقعے سے جو اہم مسئلہ سامنے آیا ہے وہ اس اعتماد کے متزلزل ہونے کا اور حکومتی استعداد کمزور ہونے کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ اس ناطے عراقی حکام کا یہ موقف تشفی کا ذریعہ نہیں بن سکا کہ بغداد ائیر پورٹ پر '' فلائی دبئی'' کمپنی کے طیارے کو گولیاں لگنے کی وجہ ایک تقریب شادی پر کی جانے والی ہوائی فائرنگ بنی تھی کہ شادی کی خوشی میں بعض افراد کی طرف سے کی جانے والی ہوائی فائرنگ ہوا کے رخ کے تبدیل ہو جانے کی وجہ سے طیارے تک جآ پہنچی تھی۔ عراقی حکام کے مطابق یہ محض ایک حادثہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ہوائی فائرنگ تصادم زدہ علاقے سے ہٹ کر ایک علاقے میں ہوئی تھی۔

کیا عراقی داراحکومت محفوظ ہے؟ کیا آج کا عراق ایک سال پہلے کے مقابلے میں بھی زیادہ غیر محفوظ ہو گیا ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ بغداد ائیر پورٹ پر ہونے والے اس واقعے نے پرانے خوف پھر سے زندہ کر دیے ہیں جو پچھلے سال داعش کے بغداد کی طرف بڑھنے کی اطلاعات کی بنیاد پر پیدا ہوئے تھے۔

ائیر پورٹ پر ہونے والے واقعے سے زیادہ سنگین مسئلہ عراقی قیادت اور سیاستدانوں کی عدم استعداد کا ہے۔ عراقی قائدین ابھی تک سلامتی کے حوالے سے انہی وعدوں کو زیر بحث لا رہے ہیں جو وزیر اعظم حیدر العبادی نے پچھلے سال ستمبر میں حاصل کیے تھے۔ تاہم نیشنل گارڈز کا قیام تھا۔ کئی ماہ گزر چکنے کے بعد بھی ممکن نہیں ہوا۔ عراق کے دو اہم شہر موصل اور تکریت کے علاوہ عراق کا ایک چوتھائی حصہ ابھی تک داعش کے قبضے میں ہے یا دہشت گردی کے حملوں کے خطرے کی زد میں ہے۔

اب جبکہ سات فضائی کمپنیوں نے دارالحکومت کے لیے پروازیں معطل کی ہیں تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صرف ایک طیارے پر فائرنگ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ تعطل مجموعی بدامنی کی وجہ سے ہے۔ نیز یہ حکومت کی قیام امن سے متعلق چیلنجوں کو نمٹنے اور اس حوالے سے حکومتی وعدے پورا کرنے کے بارے میں مذکورہ فضائی کمپنیوں کےعدم اطیمنان کا ایک اشارہ ہے۔ دوسری جانب حکوتی اقدامات ہیں کہ عوامی تحرک اور فرقہ وارانہ ملیشیا کے حوالے سے تو کسی حد تک کر رہی ہے لیکن نیشنل گارڈز کا قیام محض رومن طرز کی لمبی بحثوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

اگر عراقی حکومت نے ملک کو قیادت فراہم کرنے اور تمام قومی طاقتوں کو متحد کرنے کے حوالے سے اپنی سنجیدگی اور اہلیت ثابت نہ کی اور تمام صوبوں اور طبقات کو یکجا نہ کیا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہار جائے گی۔ اہل عراق کو اپنے پڑوس میں شامی استحکام کی شکست وریخت سے سبق سیکھنا چاہیے۔ یہ دراصل مرکزی حکومت کے کمزور ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والا عدم استحکام اور ٹوٹ پھوٹ ہے۔ جو چیز اور اہم ہے وہ شامی رجیم کے خلاف شامی عوام کی الوالعزمی ہے کہ شامی رجیم ان کے سامنے زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکی ہے۔ اس لیے حکومتی اہلیت، استعداد اور نیک نیتی ملک کے اندر اور باہر اعتماد قائم رکھنے کے دو اہم ذرائع ہیں۔ دیکھا یہ جائے گا کہ العبادی حکومت اپنی ریاست کے لیے لڑ رہی ہے یا اس کی لڑائی کا اصل محرک اس کے اپنے اور محض اپنی حکومت کے لیے ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size