.

جھاڑو والا جادوگر

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مرزا غالب کے شہر دہلی نے ایک جھاڑو والے کو اپنا حکمران بنا لیا ہے۔ اس جھاڑو والے نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کیلئے دہلی کو راجدھانی کی بجائے ایک سبق آموز کہانی بنا دیا ہے۔ اس جھاڑو والے کا نام اروند کجریوال ہے جس نے دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مودی کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ کجریوال کی عام آدمی پارٹی کا انتخابی نشان جھاڑو تھا۔ اس نے ریاستی اسمبلی کی 70میں سے 67نشستیں حاصل کرکے دہلی میں ناصرف بی جے پی بلکہ کانگریس کا بھی صفایا کردیا۔ بھارت کے کچھ مبصرین نے کجریوال کو جھاڑو والا جادوگر قرار دیا ہے لیکن کجریوال کہتا ہے کہ اس نے کوئی جادو نہیں دکھایا کیونکہ اصل جادو تو دہلی کے ووٹروں نے دکھایا ہے۔

بات بھی سچ ہے۔ صرف چند ماہ پہلے 2014ء میں بھارت میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ عام آدمی پارٹی نے لوک سبھا کی 543 نشستوں کیلئے 434 امیدوار کھڑے کئے جن میں سے صرف چار امیدوار کامیاب ہوئے اور 414 کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ دہلی سے لوک سبھا کی تمام نشستوں پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی اور مودی نے دہلی کو بی جے پی کا لال قلعہ قرار دیدیا لیکن صرف چند مہینوں کے اندر اندر ایک جھاڑو والے نے مودی کو ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کی یاد کیسے دلا دی؟ آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ دہلی میں بی جے پی کی شکست میں نوازشریف نے بھی کچھ کردار ادا کیا ہے۔ میں نے ایک بھارتی ٹی وی چینل پر نوازشریف کے کردار کے متعلق تبصرہ سنا تو بڑی حیرانگی ہوئی لیکن اس میں کچھ نہ کچھ سچائی موجود تھی۔ نوازشریف کے کردار پر مودی بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام بھی نہیں لگا سکتے۔

نوازشریف کے کردار کا ذکر بعد میں کرتے ہیں پہلے آپ کجریوال کی عام آدمی پارٹی کا پس منظر سمجھ لیں۔ کجریوال کی عمر 46 سال ہے۔ اس نے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی لیکن نوکری انڈین انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں کی۔ انکم ٹیکس کی نوکری میں اسے پتہ چلا کہ بھارت کے امیر لوگ ٹیکس کیسے چوری کرتے ہیں اور کرپشن کیا شے ہے۔ اس نے نوکری چھوڑی اورانا ہزارے کے ساتھ مل کر کرپشن کیخلاف تحریک چلانے لگا۔ 2011ء میں اس نےانا ہزارے کے ساتھ مل کر کرپشن کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کیا اور دہلی میں بھوک ہڑتال کی۔ انا ہزارے کی تحریک کو عوام میں بڑی پذیرائی ملی لیکن بھارت کی پارلیمنٹ میں موجود بڑی جماعتوں نے انا ہزارے کے مطالبے پر کرپشن کے خلاف قانون سازی سے گریز کیا۔ اروند کجریوال نے انا ہزارے کو مشورہ دیا کہ ہمیں خود ایک سیاسی جماعت بنا کر پارلیمنٹ میں پہنچنا چاہئے اور خود کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے۔ انا ہزارے کا خیال تھا کہ وہ صرف ایک سماجی کارکن ہیں انہیں سیاسی کارکن نہیں بننا چاہئے۔ کجریوال کا کہنا تھا کہ جب تک نچلے اورمتوسط طبقے کے لوگ خود سیاست میں نہیں آئیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوسکتی۔ انا ہزارے سیاست میں آنے سے انکاری رہے۔

آخر کار کجریوال نے انا ہزارے کو خیرباد کہا اور 26 نومبر 2012ء کو عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس پارٹی نے انقلاب کا نعرہ نہیں لگایا بلکہ صرف یہ کہا کہ بھارت کے آئین پر عمل کرتے ہوئے سب شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔ 2013ء میں دہلی کی ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں عام آدمی پارٹی نے پہلی دفعہ اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ کجریوال نے وعدہ کیا کہ وہ دہلی کا وزیراعلیٰ بن کر عام آدمی کے مسائل حل کرے گا اور کرپشن کے خلاف بل پاس کرائے گا۔ 2013ء کے ریاستی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کو 70 میں سے 28 اور بی جے پی کو 31 نشستیں ملیں۔ کجریوال نے کانگریس کی 8 نشستوں کیلئے کانگریس سے اتحاد کر لیا اور دہلی کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے ریاستی اسمبلی میں کرپشن کے خلاف لوک پال بل پیش کیا تو ان کی اتحادی کانگریس اور بی جے پی نے اس بل کی حمایت سے انکار کردیا۔ جب کجریوال نے دیکھا کہ انہیں اقتدار تو مل گیا لیکن قانون سازی کا اختیار نہیں مل رہا تو انہوں نے صرف 49 دن کے بعد اقتدار کو لات مار دی اور وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دیدیا۔ کجریوال پر بہت تنقید ہوئی اور ان کے کئی ساتھی پارٹی چھوڑ گئے لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔

2014ء کے عام انتخابات میں بی جے پی نے انتخابی مہم میں ان پر حملے کرائے، انہیں تھپڑ اور جوتے مارے گئے۔ شکست ان کا مقدر بنی۔ کئی تجزیہ نگاروں نے 2014ء کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے 414 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہونے کے بعد کجریوال کا سیاسی کیریئر ختم ہونے کا دعویٰ کردیا لیکن کجریوال نے عام آدمی کے ساتھ اپنا ناطہ نہیں توڑا۔ وہ کبھی بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف جلوس نکالتا رہا، کبھی رکشہ ڈرائیوروں کی ہڑتال میں حصہ لیتارہا کبھی ٹی وی چینلز کے لائیو شوز میں بیٹھ کر اپنے ناراض ووٹروں سے معافیاں مانگتا رہا اور پھر اس نے دہلی کی ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں دوبارہ حصہ لینے کا اعلان کردیا۔ اس اعلان پر مودی نے سرعام کجریوال کا مذاق اڑایا۔عام آدمی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں کرپشن کے خلاف قانون سازی کے وعدے کو سرفہرست رکھا لیکن ساتھ ہی ساتھ عام آدمی کے مسائل پر بھی توجہ دی۔

جن وعدوں نے نوجوانوں کی توجہ حاصل کی ان میں اہم ترین وعدہ یہ تھا کہ تمام پبلک مقامات پر انٹرنیٹ کی سہولت (وائی فائی سروس) مفت فراہم کی جائے گی اوردہلی کے مضافاتی علاقوں میں نئے کالج بنائے جائیں گے۔ بجلی اور پانی کے بلوں پر سبسڈی دینے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ ہر امیدوار سے یہ حلف لیا گیا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد سرخ بتی والی کوئی گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ بلاضرورت سیکورٹی نہیں لے گا، بڑے بنگلے میں نہیں رہے گا اور کرپشن کے خلاف بل کی حمایت کرے گا۔ عام آدمی پارٹی نے متوسط طبقے کے پڑھے لکھے لوگوں کو امیدوار بنایا اورانتخابی مہم کیلئے بیرونی ممالک میں موجود بھارتی شہریوں سے امداد کی اپیل کی۔ دسمبر 2014ء تک عام اندازے یہی تھے کہ دہلی میں بی جے پی کلین سویپ کریگی لیکن پھر امریکا کے صدر باراک اوباما بھارت کے دورے پر آئے۔ اس دورے میں بھارتی عوام نے دیکھا کہ ان کا چائے والا وزیراعظم امریکی صدر کےساتھ ملاقات میں دس لاکھ روپے کا سوٹ پہنے ہوئے ہے اور اوباما کےساتھ دوستی پر پھولے نہیں سماتا۔

ایک طرف مودی کا خبط عظمت اور شاہانہ تمکنت تھی۔ دوسری طرف کجریوال کی عاجزی و انکساری تھی۔ مودی ظالم اور کجریوال مظلوم بن گیا۔ پھر مودی نے ایک جلسے میں کہاکہ میں خوش نصیب اور کجریوال بدنصیب ہے۔ اس تقریرنے کجریوال کو مقبول بنا دیا۔ عالمی منڈی میں پٹرول سستا ہوا تو نوازشریف نے بار بار پٹرول کی قیمت میں کمی کردی لیکن مودی نے اس طرف توجہ نہ دی۔ عام آدمی پارٹی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں پٹرول سستا ہوسکتا ہے تو بھارت میں کیوں نہیں؟ بی جے پی نے اس سوال کا جواب دینے کی زحمت گوارا نہ کی اور پھر الیکشن کے دن نیچی ذات کے ہندوئوں نے مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں کے ساتھ مل کر برہمن ازم کا پرچار کرنے والی بی جے پی کی رعونت کو جھاڑو سے اٹھا کر پرے پھینک دیا۔ عا م آدمی پارٹی کی دہلی میں کامیابی پاکستان کے حکمرانوں اور ووٹروں کیلئے ایک سبق ہے۔ عوام متحد ہو جائیں تو اپنے جھاڑو کے جادو سے کسی بھی طاقتور حکمران کا غرور خاک میں ملا سکتے ہیں لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ حکمران طبقہ الیکشن میں دھاندلی نہ کرسکے۔ الیکشن کمیشن آزاد نہ ہو تو کوئی جھاڑو والا کوئی جادو نہیں دکھا سکتا۔

بہ شکریہ روذنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.