.

ایڈورڈ ہشتم سے یحییٰ خان تک!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت عرصہ پیشتر حضرت احسان قریشی صابری(اللہ کرے وہ حیات ہو) نے ایک دفعہ بزور تحقیق یہ فیصلہ صادر فرمایا تھا کہ ایک اسلامی مملکت کا سربراہ صرف خاندان قریش ہی سے ہوسکتا ہے جس پرمصطفیٰ قریشی سے لے کر الطاف حسن قریشی تک کے چہروں پر مسرت ا ور امید کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ انہی دنوں ایک برطانوی پبلشر نے دعویٰ کا کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اور ان کے خاندان کا تعلق ہاشمی خاندان سے ہے، اس کی تائید قطر سے شائع ہونے والے ایک عربی جریدے’’الامتہ‘‘ (شمارہ اپریل 1986ء) نے بھی کی جس کے ایک مضمون نگار کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ایک سابق حکمران بادشاہ کا نام اوفا تھا جو عربی نام ہے اور یہ بادشاہ مسلمان تھا۔ اس بادشاہ نے انگلستان پر757ء سے 794ء تک یعنی 39 برس حکومت کی اور اسی کے دور حکومت میں انگلستان کا تمام علاقہ اس قلمرو میں شامل ہوا ،اس بادشاہ کا جاری کیا ہوا ایک سکہ جو 1941میں دریافت ہوا، اس پر عربی زبان میں کلمہ طیبہ کے علاوہ ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق والی آیت اور بادشاہ کے عربی نام’’اوفا‘‘ کے علاوہ بسم اللہ بھی لکھا ہوا ہے، یہ سکہ 157ہجری میں ڈھالا گیا، یہ تاریخ بھی سکے پر درج ہے اور بادشاہ کے دستخط بھی۔ (157ء بمطابق 774عیسوی)۔

مندرجہ بالا تحقیق کی داد تو محققین ہی دے سکتے ہیں اور یوں اس کی تصدیق یا تردید بھی انہی کی طرف سے ہوسکتی ہے لیکن ایک جذباتی مسلمان کے طور پر مجھے یہ جان کر خوشی بہت ہوئی ہے کہ موجودہ ملکہ الزبتھ اور ان کے خاندان کا تعلق ہاشمی خاندان سے ہے یعنی کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی، مگر اس قدر’’ننگ اسلاف ‘‘ ہیں کہ نہ صرف اپنے آباء کے دین سے منہ موڑ چکے ہیں بلکہ انہیں اپنے ناموں کے ساتھ اپنی خاندانی نسبت لکھنے کی توفیق بھی نہیں رہی چنانچہ شہزادہ چارلس کو’’شہزادہ چارلس ہاشمی‘‘ کہلوانا چاہئے تھا ۔ بہرحال ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ایک تو مندرجہ بالا تحقیق حتمی طور پر درست ثابت ہو اوردوسرے برطانیہ کے اس ہاشمی خاندان کو خداوند کریم ایمان کی دولت عطا فرمائے کیونکہ اس سے ایک تو ان کی عاقبت سنور جائے گی اور دوسرے سید ضمیر جعفری کا وہ منصوبہ یعنی

میں بتاتا ہوں زوال اہل مغرب کی اسکیم
اہل مغرب کو مسلمانوں کے گھر پیدا کرو

بھی کامیاب ہوجائے گا۔

ویسے آپس کی بات ہے کہ یہ شبہ مجھے بہت پہلے سے تھا، کیونکہ برطانیہ کی تاریخ اور اپنی تاریخ میں بہت سی مماثلتیں بھی نظر آتی ہیں۔ مثلاً ہماری تاریخ بھی قتل و غارت گری کے واقعات سے بھری پڑی ہے اور برطانوی تاریخ بھی۔قرن ہا قرن تک ایسے ہی خونچکاں واقعات سے ’’لبریز‘‘ ہے چنانچہ اس میں بہت سے’’برادران یوسف‘‘ ہیں جنہوں نے ہوس اقتدار میں اپنے بھائیوں کو الٹا لٹکادیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کا پہلا مارشل لاء اور پہلا’’ریفرنڈم‘‘ بھی برطانوی تاریخ میں نظر آتا ہے جب آلیور کرامویل نے چارلس اول کی بادشاہت کا تختہ الٹ دیا اور بادشاہ سلامت کو’’پھائے‘‘ لگانے کے بعد مارشل لاء لگایا، اس مارشل لاء کو آئینی تحفظ دینے کے لئے آلیور کرامویل نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا، مگر پارلیمنٹ کے باہر کرنل پرائیڈ کو کھڑا کردیا جو ہر ممبر سے پوچھتا تھا کہ وہ اندر جاکر مارشل لا کی توثیق کرے گا یا نہیں، اگر وہ انکار کرتا تو اسے اندر جانے سے روک دیا جاتا اور جو ممبر اقرار کرتا اسے پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جاتی اور نتیجتاً اس ’’ریفرنڈم‘‘ میں آلیور کرامویل کے مارشل لاء کے حق میں سو فیصد ووٹ پڑے بالکل اسی طرح جس طرح جنرل ضیاء الحق کے ریفرنڈم میں پڑے تھے۔ تاریخ میں کرنل پرائیڈ کے اس کارنامے کو(Puridge of pride)یعنی’’کرنل پرائیڈ کی چھانٹی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اس فوجی انقلاب کے نتیجے میں پھانسی پانے والے بادشاہ چارلس اول کا بیٹا ملک سے بھاگ گیا تھا اور جلا وطنی میں اپنی قوتیں جمع کرتا رہا اور جب اس نے محسوس کیا کہ وہ مطلوبہ قوت حاصل کرچکا ہے تو وہ واپس برطانیہ آیا اور حکومت کا تختہ الٹا کر اپنےوالد کے تخت و تاج کا وارث بن گیا اور پھر موصوف تاریخ میں’’چارلس دوم‘‘ کہلائے۔

اسی طرح ہماری تاریخ میں ایک شہنشاہ صفت شاعر گزرا ہے جس نے

بخال ہندوش بخشم سمر قند و بخارا را


والی بات کہی تھی، یعنی محبوب کے ایک تل پر سمر قند و بخارا قربان کردئیے تھے اور ایک ایسا ہی عاشق برطانوی تاریخ میں بھی گزرا ہے جس نے شاعرانہ طور پر نہیں بلکہ سچ مچ اپنے محبوب پر سے تخت و تاج قربان کردیا۔ یہ فخر عشاق قبلہ ایڈورڈ ہشتم تھے جو رشتے میں موجودہ ملکہ الزبتھ کے تایا جان لگتے تھے، موصوف ایک خاتون پر عاشق ہوئے جس کا نام سمپسن(Simpson)تھا یہ عفیفہ پہلے دو جگہ سے طلاق حاصل کرچکی تھی ۔فخر عشاق ایڈورڈ نے ان سے شادی کرنا چاہی مگر پارلیمنٹ نے ظالم سماج کا رول ادا کیا یعنی ان کی شادی کی راہ میں بہت سی آئینی رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ اس پر ہمارے فخر عشاق نے شہنشاہت کو ٹھوکر ماری اور تاج و تخت چھوڑ چھاڑ کر اپنی محبوبہ سے شادی کرلی۔میں نے موصوفہ کی تصویر دیکھی ہے اور یہ تصویر دیکھ کر مجھے فراق کا یہ شعر یاد آیا تھا

یونہی سا تھا کوئی جس نے مجھے مٹا ڈالا
نہ کوئی چاند کا ٹکڑا نہ کوئی زہرہ جبیں

تاہم واضح رہے کہ محبوب کا حسن کسی ہوس کار پر نہیں، عاشق صادق پر ہی کھلتا ہے بہرحال اس عفیفہ نے طویل عمر پائی۔ نوے سال کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے پیچھے ایڈورڈ ہشتم کے وہ عاشقانہ خطوط چھوڑ گئیں جو موصوف نے ان کے نام لکھے تھے،چنانچہ خطوط اب کتابی صورت میں بھی دستیاب ہیں، جن صاحب کو ضرورت ہو وہ کسی بھی اچھے بک اسٹال سے طلب فرمائیں۔
تاہم مجھے شبہ ہے کہ ایڈورڈ اور سمپسن کے عشق کو ہوا دینے میں جارج ہشتم کا بھی کوئی ہاتھ ضرور ہوگا کیونکہ اگر فخر عشاق اپنے عشق کی تکمیل کے لئے تخت و تاج نہ چھوڑتے تو جارج ہشتم کو ساری عمر حکمرانی کاموقع نہ ملتا اور اس کے بعد نہ سارا فرگوسن ہوتیں اور نہ لیڈی ڈیانا۔ لیڈی ڈیانا (خدا رحمت کندایں.....) ہوتیں۔ ویسے یہ خاندان ماشاء اللہ شروع ہی سے عشق پیشہ ہے، ملکہ الزبتھ اول جنہیں’’کنواری ملکہ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ (کنواری ان معنوں میں کہ موصوفہ نے ساری عمر شادی نہیں کی) کسی کے احسان کو کبھی بھولتی نہیں تھیں۔ ایک دفعہ صرف بحری جہاز سے اترنے لگیں تو نیچے کیچڑ تھا، پاس ہی ان کے خوبرو امیر البحر سرفرانس ڈریک کھڑے تھے، انہوں نے فوراً اپنا اوور کوٹ اتارا اور ملکہ کے قدموں میں بچھا دیا اور یوں وہ’’آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا‘‘، والے پچھتاوے سے بچ گئے، ملکہ محترمہ اس احسان کو نہ بھولیںچنانچہ موصوفہ نے ساری عمر اس احسان کا بدلہ ’’احسان‘‘ ہی سے دیا۔

بات چلی تھی محققین کی، اس تازہ تحقیق سے کہ برطانیہ کا موجودہ شاہی خاندان، خاندان بنو ہاشم سے تعلق رکھتا ہے لیکن میں نے خود کو ان محققین سے بڑا محقق ثابت کرنے کے لئے برطانوی تاریخ اور مسلمانوں کی تاریخ میں باہمی مماثلتیں تلاش کرنا شروع کردیں جن میں اگر کچھ غیر متعلق واقعات بھی آگئے لیکن آلیورکرامویل کے مارشل لا اور اس مارشل لا کی توثیق کے لئے کرنل پرائیڈ کا چھانٹی والا عمل ، نیز فخر عشاق ایڈورڈ ہشتم کا ایک معمولی شکل و صورت والی عورت کے لئے تخت و تاج چھوڑ دینا بہرحال ایسے واقعات ہیں جو ہماری تلاش کردہ مماثلتوں میں خاصے اہم ہیں، البتہ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ برطانیہ میں تو ایک دفعہ مارشل لا لگنے کے بعد تقریباً ہمیشہ کے لئے جمہوریت کی راہ ہموار ہوگئی اور بادشاہ صرف ’’آئینی بادشاہ‘‘ بن کر رہ گئے، جبکہ ہمارے ہاں ایک مارشل لا دوسرے مارشل لا کا جواز بن کر آتا رہا۔ اسی طرح ایڈورڈ ہشتم جیسے عاشق صادق کے مقابلے میں ہم نے یحییٰ خان جیسا ’’عاشق‘‘ پیدا کیا۔ ایڈورڈ ہشتم نے تو اپنی محبوبہ کے لئے حکومت چھوڑی، یحییٰ خان نے اپنی محبوبائوں کے لئے ملک توڑ دیا۔ بس یہاں آکر میری تحقیق میں گڑ بڑ ہوجاتی ہے بلکہ سچ پوچھیں تو ہماری پوری تاریخ گڑ بڑ ہوجاتی ہے جس سے میرا دل اداس سا ہوگیا لہٰذا میں اس تذکرے کو یہیں ختم کرتا ہوں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.