.

عہد قدیم سے یمنیوں کے خانہ کعبہ پر حملے

اسرار بخاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا یمن کے حوثیوں کا خانہ کعبہ پر قبضہ کا منصوبہ ہے؟ اس سوال نے ایسے اعلان و عزائم کے بطن سے جنم لیا ہے کہ ’’حرمین الشریفین پر قبضہ کی کوشش ناکام بنا دی جائیگی۔‘‘ فی الحال حوثیوں کی جانب سے ایسے کسی باقاعدہ اعلان یا ارادہ کا اظہار نہیں ہوا ہے لیکن ماضی کی تاریخ کے سینے میں یہ حقیقت محفوظ ہے کہ یمنیوں کی جانب سے خانہ کعبہ پر قبضہ کی کوششیں ہوتی رہی ہیں یمن کے حکمران ابرہہ کا خانہ کعبہ پر حملے کیلئے مکہ کے نواح میں وادی محسر میں پہنچنا، ابابیلوں کے ذریعہ اس کی ساٹھ ہزار فوج اور تیرہ ہاتھیوں سمیت تباہی کا قرآنی واقع تو ہر مسلمان نے پڑھ اور سن رکھا ہے مگر شاید یہ حقیقت بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ ابرہہ کی خانہ کعبہ سے دشمنی کی وجہ مذہبی عناد کیساتھ معاشی اور اقتصادی پہلو بھی رکھتی ہے۔

زمانۂ قدیم میں دین ابراہیم کے پیروکار دنیا بھر سے حج اور عمرہ کیلئے مکہ معظمہ آتے تھے جو قریش مکہ کیلئے معاشی اور اقتصادی فائدوں کا سبب بنتے یمن کے پڑوسی اس حقیقت سے دوسروں کی نسبت زیادہ آگاہ تھے ابرہہ نے سوچا اگر خانہ کعبہ یمن میں ہو تو حج و عمرہ کیلئے آنیوالوں کا رخ اس جانب ہونے سے قریش کو حاصل تمام معاشی و اقتصادی فائدے اسکی جھولی میں آ گرینگے۔ اس مقصد کیلئے اس نے ’’القلیس‘‘ کے نام سے عظیم الشان کلیسا تعمیر کیا اور شاہ حبش کو خط لکھا کہ ’’عربوں کا رخ حج کعبہ سے اس کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا۔‘‘ اس اعلان نے یمن میں موجود عربوں میں اشتعال پیدا کردیا اور ایک عرب نے کلیسا میں گھس کر رفع حاجت کر دی اور اس طرح ابرہہ کو جواب میں خانہ کعبہ کو ڈھانے کا بہانہ مل گیا اس کا مقصد حجر اسود‘ رکن یمانی اور نقوش پا حضرت ابراہیمؑ کو وہاں سے لا کر اس کلیسا میں رکھنا تھا اور کلیسا میں خانہ کعبہ جیسی چوکور عمارت بھی تعمیر کی گئی تھی یمن کے دو سرداروں ذونفر اور نفیل بن حبیب نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی مگر وہ شکست کھا گئے تاہم ربِ کعبہ کی قوت کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور عبرتناک انجام سے دوچار ہوا۔

ابرہہ کے اس انجام سے برسوں پہلے حسان بن عبد کلال حمیری نے بھی خانہ کعبہ کے معاشی اور اقتصادی پہلوؤں کے طمع کا شکار ہو کر دوسرے قبائل کے ساتھ حجر اسود کو نکال کر اپنے علاقے میں کعبہ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ حج و عمرہ کرنیوالے ادھر کا رخ کرینگے اور ساتھ ہی اسے عرب کی سیاست اور تجارتی فوائد حاصل ہونگے مگر اسے مکہ میں داخلے کی جرأت نہ ہوئی‘ تاہم اس نے مکہ آنیوالے قافلوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ حضور نبی کریمؐ کے جد امجد نفر بن مالک نے مکہ کے قبائل اسد ‘ کنانہ‘ جذام‘ خزیمہ اور مضر کے لوگوں کے ساتھ حسان بن عبدالکلال حمیری کے لشکر پر حملہ کیا اور شکست فاش دیکر گرفتارکر لیا جو فدیہ دیکر تین سال بعد قید سے رہا ہوا۔ مگر یمن واپس جاتے ہوئے راستے میں مر گیا۔

1979ء میں یمن سے مسلح افراد نے نجد کے بعض‘ لوگوں سے ملکر خانہ کعبہ پر قبضہ کیا۔ انکے سرغنہ جو بیمان بن محمد بن سیف بن سیف العتوبی نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ انکے لیڈر محمد بن عبداللہ القہتانی کی پیروی کریں جو مہدی ہے۔ سعودی فوج نے ان کا بھی صفایا کر دیا تھا۔ 1987ء میں خانہ کعبہ پر باقاعدہ قبضہ کر لیا گیا مگر سعودی فوج نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔ ان مسلح افراد کے سرغنہ محمد حسن علی محمدی نے گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ انہیں خانہ کعبہ پر قبضہ کرنے اور دھماکہ خیز آتش گیر مادہ سے تباہ کرنے کا مشن سونپا گیا تھا۔ یمنیوں کی جانب سے حرص و ہوس کی بنیاد پر خانہ کعبہ پر قبضہ کا سلسلہ صدیوں پر پھیلا ہے۔ خلیج عدن ملکہ سبا کے دور سے مشرق و مغرب کے درمیان تجارتی راہداری رہی ہے۔ انکی بندرگاہوں سے چین کا ریشم‘ مالا بار کے گرم مصالحے‘ ہندوستان کے کپڑے اور تلواریں‘ افریقہ سے زنگی غلام‘ بندر‘ شتر مُرغ کے پر اور ہاتھی دانت‘ شام‘ مصر‘ روم اور یونان کی منڈیوں میں لے جایا جاتا تھا۔ خود یمن سے لوبان‘ عود‘ عنبر اور دیگر خوشبودار چیزیں برآمد کی جاتیں۔ سیرت انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس تجارتی راہداری پر یمنیوں کی اجارہ داری اس لئے تھی کہ وہ بحیرہ احمر کی موسمی ہوائوں‘ زیر آب چٹانوں اور لنگراندازی کے مقامات سے آگاہ تھے۔ 575ء میں کسریٰ نوشیروان نے ایران کی جیلوں میں سنگین جرائم میں قید 800 افراد کو وہرز کی سربراہی میں یمن پر قبضہ کیلئے بھیجا اور وہ مقامی یمنی جور نوشیروان سے مل گئے تھے‘ انکے ساتھ ہو گئے۔

ابرہہ کا بیٹا مسروق مقابلے کیلئے نکلا مگر شکست کھا گیا اور نوشروان نے یمن کو فارس کا صوبہ بنا دیا۔ تب سے یمن کے بعض قبائل ایران کے زیراثر ہیں۔ حوثیوں کی موجودہ بغاوت کیا قدیم تاریخ کی کڑی ہے۔ اگر یمن پر حوثی اور زیدی قبائل کا قبضہ ہوا تو یمن کی بندرگاہ عدن اور ایران کی بندرگاہ چاہ بہار مشترکہ تجارتی راہداری بن کر مشرق و مغرب میں تجارتی اجارہ داری کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ گوادر کے پوری طرح فنکشنل ہونے کے بعد اگرچہ دوبئی پر بھی اثر پڑیگا مگر زیادہ اندر ہونے کی وجہ سے چاہ بہار زیادہ متاثر ہوگی اور اسے حاصل معاشی و اقتصادی فائدوں کا رخ پاکستان کی جانب ہو جائیگا اس لئے یہ سنیوں اور شیعوں کا مسئلہ نہیں‘ اپنے اپنے ملکی مفادات کا معاملہ ہے جسے مسلکی اختلافات کا رنگ دیا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت جس میں سنی اور شیعہ دونوں شامل ہیں‘ انکے فیصلے مسلکی نہیں ملکی مفاد کی بنیاد پر ہونگے اس لئے اسے سعودی عرب کی محبت اور ایران سے عداوت کا رنگ نہ دیا جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.