جنرل کیانی کا معاملہ
پاکستانی قوم کا اخلاقی زوال ملاحظہ کرناہو تو جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ ہمارے سلوک کو دیکھ لیجئے۔ جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی اور پھر آرمی چیف تھے تو کسی کو ان میں کوئی خامی نظر نہیں آئی۔ حسب روایت پروفیشنل سولجر کا خطاب پاکر ان کی ایسی مدح سرائی کی جارہی تھی کہ وہ خود بھی پڑھ اور سن کر شرمندہ ہورہے تھے لیکن اب جبکہ وہ حاضر سروس جنرلز کی طرح چھڑی کے ذریعے بول سکتے ہیںاور نہ آئی ایس پی آر کے ذریعے ایک ٹوئٹ جاری کرکے سب کو شٹ اپ کال دے سکتے ہیں تو ان کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کردی گئی۔ کل جو تجزیہ کار انہیں دانشور جنرل پکارتے تھے، انہیں کتابی جنرل پکارنے لگے ہیں۔ کل تک جوصحافی اور تجزیہ کار ان کی جمہوریت پسندی کے مدح خواں تھے، آج ان کو جمہوریت دشمن ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ سیاستدان جو کل تک ان کے جوتے پالش کرنا اپنا اعزاز سمجھتے تھے، اب ان کے خلاف زبان درازی کرنے لگے ہیں۔ چڑھتے سورج کی پوجا اور ڈوبتے کو گالی، یہ کہاں کی غیرت ہے، کہاں کی بہادری ہے اور کہاں کا انصاف ہے؟
وہ صحافی اور سیاستدان ان پر تنقید میں بالکل حق بجانب ہیں جو چھڑی ہاتھ میں لئے جنرل کیانی پر بھی تنقید کیا کرتے تھے اور جنہوں نے اس دور میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات کی لیکن یہ جو اس وقت ان کی تعریفوں میں صفحات سیاہ کرتے، ٹی وی ا سکرین پر بیٹھ کر انہیں مسیحا ثابت کرتے اور جلسے جلوسوں تک میں ان کو خراج تحسین پیش کرتے تھے، آج کس منہ سے سب خرابیوں کی جڑ ان کی ذات کو قرار دے رہے ہیں۔ یہ طالب علم ہر گز جنرل کیانی کی پالیسیوں سے متفق نہیں رہابلکہ ان کے دور عروج میں کئی مواقع پر ان کے سامنے کلمہ حق بلندکرنے کی اللہ نے توفیق دی۔ میں ان کی افغان پالیسی کا بھی ناقد تھا اور عسکریت پسندوں سے متعلق ان کی اپروچ سے بھی اختلاف تھا۔ جنگ کے صفحات اور ٹی وی پروگراموں کا ریکارڈگواہ ہے کہ جنوبی وزیرستان آپریشن اور سوات آپریشن کی حکمت عملی سے بھی اختلاف کیا۔
بدعنوانی کے ملزم ریٹائرڈ جنرلز کے حق میں ان کے دور میں آئی ایس پی آر کے بیان پر بھی تنقید کی۔ میمو گیٹ کے معاملے پر بھی ان کا اور جنرل پاشا کامخالف موقف اپنایا۔ ان کے دور میں تحریک انصاف کی سرپرستی ہوئی، جسے انہوںنے نہیں روکا اور شاید ہی کسی اور صحافی نے ایجنسیوں کی اس روش پر اتنی تنقید کی ہو، جتنی یہ طالب علم کرتا رہا۔ شمالی وزیرستان سے متعلق ان کے لائحہ عمل سے بھی اس وقت اپنے آپ کو متفق نہیں پایا جس کا اظہار جلوت اور خلوت ہر جگہ ان کے سامنے کیا۔ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد جی ایچ کیو میں ان کی اور جنرل (ر) احمد شجاع پاشا کی صحافیوں کے ساتھ نشست میں جن چند ایک صحافیوں (ابصار عالم سرفہرست تھے) نے ان کو کھری کھری سنائیں تو ان میں یہ عاجز بھی شامل تھا اور ایبٹ آباد کمیشن کے روبرو جو بیان دیا ، وہ ان کے موقف کے برعکس تھا۔ آج بھی میرا یہی اعلان ہے کہ نہ صرف ان کی مذکورہ پالیسیوں کو حسب توفیق تنقید کا نشانہ بنائوں گا بلکہ اگر ثبوت اور دلیل موجود ہو تو ان کی شخصیت کو بھی نشانے پہ رکھوں گا لیکن بہادر دکھنے کے شوق میںکسی کی عزت سے کھیلنا اپنی عادت نہیں جبکہ نہ میں پاکستانی ہوکر بھی اپنا نام امریکی صحافی کارلوٹا گال جیسے صحافیوں کی صف میں شامل کرنا چاہتا ہوںکہ جو موقع ملنے پر ذاتی اسکور برابر کرنے کے لئے رپورٹنگ یا تجزیہ کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج کے کالم میں جنرل(ریٹائر ڈ ) ہاں جی ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی سے متعلق چند حقائق ،جو میرے علم میں ہیں ، انصاف کے تقاضے کے طور پر قوم کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں ان کی کردارکشی اس بنیاد پر کی جارہی ہے کہ انہوںنے ملک ریاض کے ساتھ مل کر آسٹریلیا میں جائیدادخریدی ہے اور یہ کہ وہ آسٹریلیا جانا چاہ رہے تھے لیکن ای سی ایل پر ہونے کی وجہ سے ان کو روک دیا گیا۔ میری تحقیق کے مطابق وہ آخری بار 2009ء میں آسٹریلیا گئے تھے اور اس کے بعد آج تک آسٹریلیا نہیں گئے۔ ان کا اس وقت کا ویزا ختم ہوچکا ہے اور آسٹریلیا کے سفارت خانے سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا کے نئے ویزے کے لئے سرے سے کوئی درخواست ہی نہیں دی ۔ اب سوال یہ ہے کہ جس شخص نے آسٹریلیا میں جائیداد خریدی ہو ، کیا وہ وہاں کا ویزا بھی اپنے پاسپورٹ پر نہیں رکھے گا؟۔میری تحقیق کے مطابق گزشتہ نو سال میں ملک ریاض سے جنرل کیانی صاحب کی کوئی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی ۔ ملک ریاض کو حلف دے کر میں نے پوچھا اور وہ حلفاً تصدیق کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اس پورے عرصے میں صرف ایک مرتبہ تین منٹ کے لئے فون پر بات ہوئی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ دونوں اتنے بڑے پارٹنر ہیں تو اس پورے عرصے میں ان کی ایک ملاقات کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔ اگر شہباز شریف صاحب ان سے درجنوں مرتبہ خفیہ مل سکتے تھے تو کیا ملک ریاض کے ساتھ ایک آدھ خفیہ ملاقات نہیں ہوسکتی تھی اس سوال پر بھی غور ہونا چاہئے کہ کیا آصف زرداری صاحب کے قریب ترین دوست ملک ریاض صاحب کو جنرل کیانی کاروباری پارٹنر بنانے کا ریسک لے سکتے تھے؟۔ ان کے بارے میں یہ خبر سوشل میڈیا پر کئی ماہ سے چل رہی ہے کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا ہے حالانکہ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ 5مارچ کو برطانیہ گئے اور واپس آچکے ہیں ۔ یوں بھی پاکستان میں کسی جنرل کا نام ای سی ایل میں ڈالنا کیا ممکن ہے ۔ ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ چیئرمین نیب ان کے خلاف فائل تیار کرکے آرمی چیف کے پاس لے جاچکے ہیں تو سوال یہ ہے کہ جو چیئرمین نیب آج تک کسی تگڑے سیاستدان کے خلاف فائل تیار نہ کرسکا ، وہ کیوں کر ایک سابق آرمی چیف کے خلاف فائل تیار کرے گا۔
کوئی اور جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ، موجودہ چیئرمین نیب ، بیوروکریٹ کی حیثیت سے پاکستان میں فوجی جنرلز کی حیثیت اور اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ نیب اور عدالتوں کے ریکارڈ میں آئی جے آئی کیس اور ریلوے کیس کی صورت میں تیار فائلیں پڑی ہیں ۔ اب جو نیب ان فائلوں کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کر رہا ، وہ کیوں کر تازہ تازہ ریٹائرڈ ہونے والے آرمی چیف کے خلاف فائل تیار کرنے کی حماقت کرسکتا ہے؟۔ جہاں تک شمالی وزیرستان آپریشن میں تاخیر کا تعلق ہے تو اس وقت میں خود بھی اس کا ناقد تھا لیکن تاخیر کی وجہ جنرل کیانی کا ذاتی خوف یا خواہش نہیںتھی۔ وہ معاملے کو اس طرح نہیں دیکھ رہے تھے جس طرح کہ ہم دیکھ رہے تھے ۔ آپریشنوں کے حوالے سے تو وہ بڑے مہم جو آرمی چیف واقع ہوئے ۔ سوات ، باجوڑ ، مہمند ایجنسی، خیبر ایجنسی (خیبر ون)، اورکزئی ایجنسی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی کے آپریشنز ان کے دور میں ہوئے اور چار ہزار جوان اور افسر ان کے دور میں ہی شہید ہوئے۔ شمالی وزیرستان آپریشن ،کے مقابلے میں سوات آپریشن بہت مشکل تھا۔ شمالی وزیرستان آپریشن میں تاخیر کے ضمن میں ان کے پاس ایک جواز یہ تھا کہ اگر شہروں کے اندر عسکریت پسندوں کی موجودگی کا حل نہیں نکالا جاتا تو اس آپریشن سے دہشت گردی میں صرف پچیس فی صد کمی آسکتی ہے ۔
آل پارٹیز کانفرنس میں جب انہوں نے پچیس فی صد اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی نے تیس فی صد کہا تھا۔ اسی چیز کو لے کر عمران خان صاحب نے میڈیا میں ان سے یہ بات منسوب کرلی کہ جنرل کیانی کے نزدیک آپریشن کی کامیابی کے تیس فی صد امکانات ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے آپریشن کی کامیابی کے نہیں بلکہ دہشت گردی میں کمی کے بارے میں تیس فی صد کا لفظ استعمال کیا تھا۔ دوسری دلیل ان کے پاس یہ تھی کہ جس وقت پاکستانی فوج شمالی وزیرستان آپریشن کے لئے تیاری کررہی تھی ، اس وقت امریکہ نے افغانستان میں اپنی پالیسی بدل دی ۔ انہوں نے پاکستانی سرحد سے متصل علاقوں سے فوج کو نکال لیا۔
شمال میں نورستان اور کنڑ سے فوج کو بلا کر صرف صوبائی دارالحکومتوں میں محدود تعدادمیں رکھ دیا جبکہ شمالی وزیرستان سے متصل خوست، پکتیا اور پکتیکا وغیرہ میں بھی یہ عمل دہرادیا ۔ جنرل کیانی امریکیوں سے مسلسل کہتے رہے کہ وہ پاکستانی سرحدوں سے متصل علاقوں میں فوج لگا دے تاکہ پاکستان شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کردے لیکن امریکیوں کا کہنا تھا کہ وہ اس مقصد کے لئے افغان فوج کو تیار کررہے ہیں اور جب وہ فوج تیار ہوگی تو بارڈر پر اسے تعینات کردیا جائے گا (امریکیوں کی اس حکمت عملی پر تنقید سے متعلق میرے کالم اس وقت کے ریکارڈ پر موجود ہیں) ۔ دوسری طرف امریکیوں نے جنوبی افغانستان کے ہلمنداور قندھار صوبوں میں آپریشن شروع کردیا۔ ان حالات میں اگر پاکستانی فوج آپریشن کرتی تو عسکریت پسند آسانی کے ساتھ افغانستان چلے جاتے ۔
دوسری طرف چونکہ سلالہ اور ایبٹ آباد آپریشن کی وجہ سے فوج اور امریکہ کے تعلقات بہت کشیدہ ہوچکے تھے اس لئے امریکی شمالی وزیرستان آپریشن کا مطالبہ تو کرتے رہے لیکن اس سے متعلق پاکستان کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی بنانے یا پھر سرحد کے اس پار اپنی فوج تعینات کرنے کو تیار نہیں تھے ۔ تیسری دلیل تعمیر نو اور دوبارہ آبادکاری سے متعلق سول اداروں کی صلاحیت اور وسائل سے متعلق سوال کی بھی تھی۔ وہ دلیل دے رہے تھے کہ جب نہ جنوبی وزیرستان میں تعمیر نو کا کام مکمل ہوسکا ہے اور نہ سول انتظامیہ دوبارہ کنٹرول سنبھال چکی ہے تو پھر ایک نیا محاذ کیوں کھول دیا جائے ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جنرل کیانی اتنے بڑے مجرم بھی قرار نہیں پاتے جتنا کہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بنایا جارہا ہے ۔ ان کے تجزیے اور موقف سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی بنیاد پر ان کی نیت پر شک کرنا مناسب نہیں۔ مکرر عرض ہے کہ ان کی شخصیت اور پالیسیوں پر تنقید کی بہت گنجائش ہے لیکن بہر حال ان کے کریڈٹ پر فوج کے امیج کو بحال کرنا اور سیاست کے اس گند سے نکالنا بھی شامل ہے، جس میں جنرل پرویز مشرف نے اسے ملوث کر رکھا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کی ان سے ناراضی کی وجہ بھی یہی تھی کہ انہوں نے 2008ء میں ان کی مسلم لیگ (ق) کے حق میں دھاندلی کرانے سے انکار کیا۔
جنرل پرویز مشرف خود خلوتوں میں اقرار کرتے ہیں کہ جنرل کیانی نے انہیں وطن واپس نہ آنے اور سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا لیکن جب وہ ان کی مرضی کے خلاف آئے اور پھنس گئے تو جنرل کیانی سے توقع کررہے تھے کہ وہ ان کی خاطر فوج کو دوبارہ سیاست میں ملوث کریں گے ۔ ان کے خلاف جنرل پرویز مشرف کے گروپ کے سیاستدانوں اور صحافیوں کی تو سمجھ آتی ہے لیکن نہ جانے کیوں حکومتی ادارے بھی حکومت کے ایک اہم عہدیدار کی ایما پر جنرل کیانی کے خلاف اس مہم کا حصہ بن رہے ہیں؟ جنرل پرویز مشرف اور جیو کے معاملے میں لیٹ جانے والی حکومت اب جنرل کیانی کی شرافت کا فائدہ اٹھا کر اس گندے کھیل کے ذریعے آخر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ کم از کم سردست میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔